| 86338 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
میرے والد صاحب کے پانچ بھائی تھے، نام فرض کر لیتے ہیں (اے ،بی ،سی ،ڈی ،ای) اےکی عمر بی سے بیس سال زیادہ تھی ،جب دادا کا انتقال ہوا تو پنشن اے نے وصول کی اور ایک بس خریدی جو کہ کچھ عرصہ بعد ہی حادثہ کا شکار ہوگئی، چھوٹے چاروں بھائیوں یعنی بی،سی،ڈی اور ای کو کچھ نہیں ملا۔اے ،سی اور ڈی یہ تینوں بھائی اورکزئی ایجنسی میں اعزازی ملک تھے،بعد میں حکومت پاکستان نےاےکو زمین الاٹ کی تواےنے سب بھائیوں کو کہا کہ ہم بھائی ہیں اور یہ زمین ہم سب کی ہے، اس لئے ہم سب مل کر اس زمین کو قابل استعمال بنائیں گے،پھرسی نے الاٹمنٹ فیس ادا کی اور زمین اے کے نام ہو گئی ،اس وقت صرف ڈی کی آمدنی تھی، باقی سب بیروزگار تھے۔بی اورسی نے اس بنجر زمین میں کام کرنا شروع کیا اور تمام اخراجات ڈی نے اٹھائے جو کہ اس زمانہ میں کافی زیادہ تھے، دو سے تین سال کی محنت کے بعد زمین قابل کاشت بنی، اس میں اےاور ای نے کوئی کردار ادا نہیں کیا،اس کے بعد زمین کو کرائے پر دے دیا گیا اور ہر سال کرایہ سب بھائیوں میں تقسیم ہو جاتا، تین سال بعدڈی نے کہا کہ میرے حالات اچھے ہیں تو مجھے کرایہ نہ دو، بس آپس میں چار بھائی بانٹ لیا کرو،ڈی دس سال تک سب بھائیوں کو اپنی آدھی سے زیادہ تنخواہ دیتا رہا ،پھر سی بیرون ملک چلا گیا اور اس نے اے، بی اور ای کو دینا شروع کر دیا ۔سب کے بچے بڑے ہو گئے، تقریباً پندرہ سال بعد آہستہ آہستہ سب نے اپنا اپنا پکانا اور کھانا شروع کر دیا، آج بھی سب بھائیوں کو زمین کی آمدن تقسیم کرکے ملتی ہے، اے بی سی اورڈی کا انتقال ہو چکا ہے اورزمین اب بھی اےکے نام ہے،آج بھی سب کو آمدن آ رہی ہے، اب سب اس کو بیچنا چاہتے ہیں، مگر اب اےکے بچے کہتے ہیں کہ اس زمین میں کسی کا حصہ نہیں ہے۔
تنقیح:تیس ایکڑ یعنی 240کنال زمین ہے،اس زمین میں دوبھائیوں یعنی بی اورسی نے محنت کی ہے اورایک بھائی ڈی نے اخراجات کئے،یہ سارے کام 55سال پہلےہوئے ہیں،پچھلے 50سال سے آمدنی بھائیوں میں تقسیم ہورہی ہے،جس بھائی کے نام یہ زمین الاٹ ہوئی تھی اس نے کبھی بھی اس زمین پرخرچہ نہیں کیا اورنہ ہی محنت کی ہے،بلکہ الاٹ منٹ فیس جواس زمانہ 180 روپے بنتی تھی وہ بھی سی نے دی،واضح رہے اے اور ای نے نہ توخرچہ دیااورنہ ہی محنت کی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بڑے بھائی کا باقی بھائیوں کویہ کہناکہ یہ زمین ہم سب کی ہے،یہ ہبہ ہے،قابل تقسیم زمین میں ہبہ کے وقت حصوں کوممتازاورطے کرکے دیناضروری ہے،واہب کااپنے حصہ اوردیگرموہوب لہ(جن کوہبہ کیاجارہاہے) کے حصوں کوممتاز اورالگ کئے بغیردینے سے ہبہ درست نہیں ہوتا ہے،اس لئے صورت مسؤلہ میں اے کا ہبہ باقی بھائیوں کے لئے درست نہیں ہوا،مذکورہ تمام زمین اے کی ملکیت ہے،اوراس کے ورثہ میں تقسیم ہوگی،باقی بھائیوں نے جوزمین کوقابل تقسیم بناکرکام کیاتھااس کامعاوضہ وہ لے چکے ہیں،کیونکہ پچاس سال سے ان کواس زمین کی آمدنی مسلسل مل رہی ہے،اس لئے ان کااس زمین پرشرعی طورپرکوئی حق نہیں بنتاہے،البتہ اگر اے کے ورثہ باقیوں کواپنی رضا اورصوابدید سے کسی بھی حدتک شریک کرناچاہیں تواس میں کوئی حرج نہیں،بلکہ اپنے آباؤاجدادکی نیک خواہش کوپوراکرنے کی صورت اورباعث ثواب ہوگا۔
حوالہ جات
الدر المختار للحصفكي (ج 5 / ص 259):
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والاصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والشرج فقط، لان كلا منها شغل الملك لواهب لا مشغول به۔
الفتاوى الهندية (ج 34 / ص 349):
والشيوع من الطرفين فيما يحتمل القسمة مانع من جواز الهبة بالإجماع ، وأما الشيوع من طرف الموهوب له فمانع من جواز الهبة عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى - خلافا لهما ، كذا في الذخيرة .
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۱۰/رجب۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


