03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شادی کے موقع پر رقم بطورِ گفٹ لینے کا حکم
86307نکاح کا بیانجہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان

سوال

نیوتہ  کا کیاحکم ہے؟ بارات اور ولیمے کے کھانے کے بعد جو لوگ رقم بطورِ  گفٹ  دیتے ہیں وہ ہم نہیں لیتے، اس رسم کونیوتہ کہا جاتا ہے، ہم اس رسم کو ختم کرنا چاہتے ہیں، لیکن اگر بعض لوگ ایسے موقع پر بضد ہوں تو کیا اس رقم کو قبول کرنے کی گنجائش ہے؟ جبکہ ہماری طرف سے کوئی مطالبہ نہ ہو۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کسی علاقے میں ولیمہ یا بارات کے موقع پر  ایک دوسرے کو  رقم  دینا عوض اور بدل کے طور پر ہوتا ہو کہ جتنے فلاں نے دیے ہیں ان کی شادی میں اتنی رقم یا اس سے زیادہ رقم واپس کرے گاتو  شرعًا یہ معاملہ سودی قرض کے زمرے میں آجاتا  ہے اور سودی قرض لینا دینا ناجائز اور حرام ہے،نیوتے کی اس رسم کو ختم کرنا ضروری ہے۔قرآنِ  کریم  سے بھی  اس بری رسم کے ناجائز ہونے کا اشارہ ملتا ہے،  سورہ روم میں ہے:

" اور جو چیز تم اس غرض سے دوگے کہ وہ لوگوں کے مال میں پہنچ کر زیادہ ہوجاوے تو یہ اللہ تعالی کے نزدیک نہیں بڑھتا۔"    (سورۃ الروم، رقم الآیۃ:39، ترجمہ:ازبیان القرآن)

مفسرین نے نیوتہ کے لین دین کو بھی  اس آیت کا مصداق ٹھہراتے ہوئے سود ہونے کی بنا  پر ناجائز قرار دیا ہے، جیسے کہ معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں:

"اس آیت میں ایک بری رسم کی اصلاح کی گئی ہے جو عام خاندانوں اور اہل قرابت میں چلتی ہے وہ یہ کہ عام طور پر کنبہ رشتہ کے لوگ جو کچھ دوسرے کو دیتے ہیں اس پرنظر رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے وقت میں کچھ دے گا کبھی رسمی طور پر کچھ زیادہ دے گا، خصوصاً نکاح، شادی وغیرہ کی تقریبات میں جو کچھ دیا لیا جاتا ہے اس کی یہی حیثیت ہوتی ہے جس کو عرف میں ”نوتہ“ کہتے ہیں۔ اور قرآن کریم نے اس زیادتی کو لفظ ربو سے تعبیر کرکے اس کی قباحت کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ ایک صورت سود کی سی ہوگئی". (معارف القرآن، سورہ ٴروم، ج:6، ص:750، ط:مکتبہ معاف القرآن کراچی)

لہذا  جس برادری میں نیوتہ کی رسم ہے،  وہاں اگر شادی یا ولیمہ کے موقع پر کچھ دیا جاتا ہے جس کا باقاعدہ لینے والے اندراج بھی کرتے ہیں یا  دینے والی نیت واپس لینے کی ہو اور اس کا عرف بھی ہو   تو ایسی صورت میں اس کا لین دین جائز نہیں ہوگا۔البتہ اگر واپس لینے کی نیت نہ ہو، بلکہ خالص ہدیہ یا  تعاون مقصود ہو تو اس میں کوئی قباحت نہیں، بلکہ  ایسے موقع پر تعاون کرنا شریعت میں مطلوب ہے، لہذا شادی اور ولیمہ میں رقم وغیرہ دیتے ہوئے خالص ہدیہ کی ہی نیت کرنی چاہیے۔

حوالہ جات

رد المحتار،كتاب الهبة، ج:5، ص:696، ط:ايج ايم سعيد:

قلت: وبه يحصل التوفيق، ويظهر ذلك بالقرائن، وعليه فلا فرق بين المأكول وغيره بل غيره أظهر فتأمل، (قوله: فأفاد) أصله لصاحب البحر وتبعه في المنح (قوله إلا لحاجة) قال في التتارخانية: وإذا احتاج الأب إلى مال ولده فإن كانا في المصر واحتاج لفقره أكل بغير شيء وإن كانا في المفازة واحتاج إليه لانعدام الطعام معه فله الأكل بالقيمة اهـ (قوله فالقول له) لأنه هو المملك (قوله: وكذا زفاف البنت) أي على هذا التفضيل بأن كان من أقرباء الزوج أو المرأة أو قال المهدي. أهديت للزوج أو المرأة كما في التتارخانية.

"وفي الفتاوى الخيرية: سئل فيما يرسله الشخص إلى غيره في الأعراس ونحوها هل يكون حكمه حكم القرض فيلزمه الوفاء به أم لا؟ أجاب: إن كان العرف بأنهم يدفعونه على وجه البدل يلزم الوفاء به مثليا فبمثله، وإن قيميا فبقيمته وإن كان العرف خلاف ذلك بأن كانوا يدفعونه على وجه الهبة، ولاينظرون في ذلك إلى إعطاء البدل فحكمه حكم الهبة في سائر أحكامه فلا رجوع فيه بعد الهلاك أو الاستهلاك، والأصل فيه أن المعروف عرفا كالمشروط شرطًا اهـ.

قلت: والعرف في بلادنا مشترك نعم في بعض القرى يعدونه فرضًا حتى إنهم في كل وليمة يحضرون الخطيب يكتب لهم ما يهدى فإذا جعل المهدي وليمة يراجع المهدى الدفتر فيهدي الأول إلى الثاني مثل ما أهدى إليه".

محمد نعمان خالد

دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی

10/رجب المرجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب