03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کسی وارث کو مال نہ دینے کی وصیت کا حکم
86304وصیت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

اگر میری بیوی اپنے کسی وارث کو اس کے خوش حال ہونے کی وجہ سے اپنی وراثت میں سے حصہ نہ دینا چاہے اور زبانی با تحریری طور پر وصیت کر دے کہ میری وارثت کے مالک یہ لوگ ہوں گے، کیا اس وصیت پر عمل کیا جائے گا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر آپ کی بیوی یہ وصیت کر جاتی ہے کہ میرے ترکہ میں سے ان ورثاء کو حصہ نہ دیا جائے تو شریعت  اس کا اعتبار نہیں کرے گی اور اس کی اس وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا،بلکہ ہر وارث کو اس کا شرعی حصہ ضرور دیا جائے گا،  کیونکہ وراثت ایک شرعی حق ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے، بندے کو اس میں کمی بیشی کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، البتہ اگر آپ کی بیوی  اپنے مال میں سے کسی کو زیادہ حصہ دینا چاہتی  ہےتو وہ اپنا مال زندگی میں  اس کو بطورِ ہبہ دے سکتی ہے، لیکن اس میں بھی اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ مکمل مال اس کو ہبہ نہ کرے، بلکہ کچھ مال دیگر ورثاء کے لیے بھی چھوڑ دے، تاکہ ان کی حق تلفی نہ ہو۔

حوالہ جات

سنن سعيد بن منصور (1/ 118) الناشر: الدار السلفية – الهند:

عن سليمان بن موسى، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراثا فرضه الله، قطع الله ميراثه من الجنة»

 الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 514) دار احياء التراث العربي – بيروت:

لقوله عليه الصلاة والسلام: "إن الله تعالى أعطى كل ذي حق حقه، ألا لا وصية لوارث" ولأنه يتأذى البعض بإيثار البعض ففي تجويزه قطيعة الرحم ولأنه حيف بالحديث الذي رويناه، ويعتبر كونه وارثا أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية؛ لأنه تمليك مضاف إلى ما بعد الموت، وحكمه يثبت بعد الموت.

محمد نعمان خالد

دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی

10/رجب المرجب1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب