03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ذاتی مکان زندگی میں نفع اٹھانے کی شرط کے ساتھ وقف کرنے کا حکم
86305وقف کے مسائلوقف کے متفرّق مسائل

سوال

میری بیوی  کا 40 گز کا ایک مکان ہے ،جو خالص ان کا ہے، ان کی والدہ کی وارثت جو ملی تھی اس سے انہوں نےلیا تھا،  میرا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے،  وہ کرائے پر دیا ہوا ہے اور وہی کرایہ وصول کرتی ہے، اس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ میرے مرنے کے بعد یہ مکان مسجد کو وقف کر دینا اور وقف کرنے کی ذمہ داری وہ مجھے دے رہی ہے، سوال یہ ہے کہ اس کی وفات کے بعد اس مکان کا کوئی اورحصہ دار بن سکتا ہے؟ اگر بن سکتاہےتو کون کون بن سکتا ہے ؟اگر وہ زبانی یا تحریری یہ مکان وقف کرنے کی وصیت کرتی ہیں تو وہ  شرعاًکتنی قابل عمل ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کی اہلیہ کا اپنے ذاتی مکان کے بارے میں یہ کہنا کہ میری وفات کے بعد اس کو وقف کر دینا بھی شرعا وصیت ہے اور وصیت چونکہ ایک تہائی میں نافذ ہوتی ہے، اس لیے یہ وصیت ایک تہائی ترکہ میں معتبر اور واجب العمل ہو گی اور اس کے علاوہ بقیہ مکان ورثاء کی اجازت پر موقوف ہو گا، اگر وہ چاہیں تو کل مکان وقف کر دیں اور اگر چاہیں تو بقیہ حصے کو اپنے درمیان تقسیم کر لیں۔

البتہ مذکورہ صورت میں اگر آپ کی اہلیہ مکمل مکان کو وقف کرنا چاہتی ہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی اس کو وقف کر دیں اور یوں کہہ دیں کہ میں یہ  مکان فلاں مسجد/مدرسہ کے لیے اس شرط کے ساتھ وقف کرتی ہوں کہ زندگی میں اس کی آمدن سے میں نفع اٹھاؤں گی، میری وفات کے بعد اس کی آمدن  فلان مسجد/مدرسہ کے لیے پر صرف کی جائے گی۔ 

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 19) دار احياء التراث العربي – بيروت:

وجه قول محمد رحمه الله أن الوقف تبرع على وجه التمليك بالطريق الذي قدمناه، فاشتراطه البعض أو الكل لنفسه يبطله؛ لأن التمليك من نفسه لا يتحقق فصار كالصدقة المنفذة، وشرط بعض بقعة المسجد لنفسه. ولأبي يوسف ما روي "أن النبي عليه الصلاة والسلام كان يأكل من صدقته" والمراد منها صدقته الموقوفة، ولا يحل الأكل منها إلا بالشرط، فدل على صحته، ولأن الوقف إزالة الملك إلى الله تعالى على وجه القربة على ما بيناه، فإذا شرط البعض أو الكل لنفسه، فقد جعل ما صار مملوكا لله تعالى لنفسه لا أنه يجعل ملك نفسه لنفسه، وهذا جائز، كما إذا بنى خانا أو سقاية أو جعل أرضه مقبرة، وشرط أن ينزله أو يشرب منه أو يدفن فيه، ولأن مقصوده القربة وفي الصرف إلى نفسه ذلك، قال عليهالصلاة والسلام: "نفقة الرجل على نفسه صدقة".

فتح القدير للكمال ابن الهمام (6/ 227) الناشر: دار الفكر،بيروت:

 وفي صحيح مسلم عن جابر «أنه - عليه الصلاة والسلام - قال لرجل ابدأ بنفسك فتصدق عليها، فإن فضل شيء فلأهلك» الحديث، فقد ترجح قول أبي يوسف. قال الصدر الشهيد: والفتوى على قول أبي يوسف، ونحن أيضا نفتي بقوله ترغيبا للناس في الوقف، واختاره مشايخ بلخ، وكذا ظاهر الهداية حيث أخر وجهه ولم يدفعه.

ومن صور الاشتراط لنفسه ما لو قال على أن يقضي دينه من غلته، وكذا إذا قال إذا حدث علي الموت وعلي دين يبدأ من غلة هذا الوقف بقضاء ما علي فما فضل فعلى سبيله كل ذلك جائز.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 238) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:

وحاصله أن المعتمد صحة الوقف على النفس واشتراط أن تكون الغلة له.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 238) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:

وفي فتح القدير فقد ترجح قول أبي يوسف قال الصدر الشهيد والفتوى على قول أبي يوسف،ونحن أيضا نفتي بقوله ترغيبا للناس في الوقف واختاره مشايخ بلخ وكذا ظاهر الهداية حيث أخر وجهه ولم يدفعه ومن صور الاشتراط لنفسه ما لو قال أن يقضي دينه من غلته وكذا إذا قال إذا حدث علي الموت وعلي دين يبدأ من غلة هذا الوقف بقضاء ما علي فما فضل فعلى سبيله كل ذلك جائز وفي وقف الخصاف فإذا شرط أن ينفق على نفسه وولده وحشمه وعياله من غلة هذا الوقف فجاءت غلته فباعها وقبض ثمنها ثم مات قبل أن ينفق ذلك هل يكون ذلك لورثته أو لأهل الوقف قال يكون لورثته لأنه قد حصل ذلك وكان له فقد عرف أن شرط بعض الغلة لا يلزم كونه بعضا معينا كالنصف والربع.

محمد نعمان خالد

دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی

10/رجب المرجب1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب