03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دو بیویوں کی صورت میں طلاقِ معلق کا حکم
86331طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

  ایک شخص نے کہا کہ "اگر میرا موبائل خراب نہیں تو میری بیوی کو طلاق"۔یہ بات دو یا تین مرتبہ مختلف اوقات میں دہرائی، جبکہ مذکورہ شخص کی دو بیویاں ہیں، ایک شوہر کے گھر میں ہے اور دوسری بیوی شوہر سے ناراض ہوکردس سال سے میکے میں ہے،نیزشوہر نے طلاق کو مطلقاًمعلق کیا تھا کسی کی تعیین نہیں کی تھی۔ اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئےدرج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں :

(۱) موبائل کی خرابی سے مراد یہ تھا کہ ٹریس/Trace ہے، لیکن الفاظ مطلقا خرابی کے بولے تھے تو کیااب  کسی  دوسری خرابی کو بھی یہ الفاظ   شامل  ہوں گے؟(۲) دو مرتبہ کہنا یاد ہے ،لیکن تیسری دفعہ کہنے میں شک ہے کہ کہا تھا یا نہیں ،تو اب کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟(۳)کونسی  بیوی کو طلاق ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت مطہرہ کا اصول ہے کہ اگر طلاق کو کسی کام پر معلق کیا جائے اور معلق کرنے والا کہے کہ اس کی نیت یہ تھی تو دیکھا جائے گا کہ اگر اس کی نیت ظاہر ِحال کے موافق تھی تودیانۃً اور قضاءً اس کی نیت معتبر ہوگی، اور اگر اس کی نیت ظاہر حال کے خلاف تھی تو دیانۃً اس کی نیت کا اعتبار کیا جائے گا  لیکن قضاءً اس کی نیت معتبر نہیں ہوگی۔

(۱)اس اصول کی روشنی میں سوال  میں مذکورموبائل کی خرابی سے مراداگران کی نیت  ٹریس ہونا تھا،اور اس وقت کے حالات بھی اس بات کی تائید کررہے ہیں توصرف یہی خرابی مراد  ہوگی، اور اگراس وقت کے حالات ان کی نیت کی تائید نہ کرتے  ہوں  توخرابی سے مراد ہر ایسی خرابی مراد ہوگی جسےوہاں کے عرف و ماحول میں خرابی سمجھاجاتا ہو ۔

(۲)چونکہ دو مرتبہ کہنا یاد ہے ،جبکہ تیسری بار کہنے میں شک ہے،تو اگر اندازہ کرنے سے کسی  ایک جانب کاغالب گمان نہ ہو تو چونکہ محض شک سے شرعاًکسی چیز کاثبوت نہیں ہوتا، اس لئےایسی صورت میں صرف د وبارکہنے کو ہی معتبر سمجھا جائے گا،لہذا شرط کے پائے جانے پر دورجعی  طلاقیں ہی واقع ہوں گی  اور شک کی وجہ سےتیسری  طلاق واقع نہیں ہوگی۔

(۳)مطَلَّقہ کی تعیین میں شوہر کو اختیار دیاجائے گاکہ دونوں بیویوں میں سے کسی ایک کی تعیین کریں،جس کی تعیین کرےگا طلاق اسی کو واقع ہوں گی۔

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (3/ 785):

«والحاصل: ‌أن ‌الحلف ‌بطلاق ‌ونحوه ‌تعتبر ‌فيه ‌نية ‌الحالف ‌ظالما ‌أو ‌مظلوما ‌إذا ‌لم ‌ينو ‌خلاف ‌الظاهر كما مر عن الخانية، فلا تطلق زوجته لا قضاء ولا ديانة، بل يأثم لو ظالما إثم الغموس، ولو نوى خلاف الظاهر، فكذلك لكن تعتبر نية ديانة فقط، فلا يصدقه القاضي بل يحكم عليه بوقوع الطلاق إلا إذا كان مظلوما على قول الخصاف ويوافقه ما قدمه الشارح أول الطلاق من أنه لو نوى الطلاق عن وثاق دين إن لم يقرنه بعدد ولو مكرها صدق قضاء أيضا. اهـ.»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 420):

«‌وإذا ‌أضافه ‌إلى ‌الشرط ‌وقع ‌عقيب ‌الشرط ‌اتفاقا»

«الهداية في شرح بداية المبتدي» (1/ 244):

«وإذا أضافه إلى شرط وقع ‌عقيب ‌الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق"وهذا بالاتفاق»

«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 363):

«في نوادر ابن سماعة عن محمد - رحمه الله تعالى - ‌إذا ‌شك ‌في ‌أنه ‌طلق ‌واحدة ‌أو ‌ثلاثا ‌فهي واحدة حتى يستيقن أو يكون أكبر ظنه على خلافه»

«غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر» (1/ 209):

«ومنها 45 - شك ‌هل ‌طلق ‌أم ‌لا لم يقع. شك أنه؛ طلق واحدة، أو أكثر، بنى على الأقل كما ذكره الإسبيجابي إلا أن يستيقن بالأكثر، أو يكون أكبر ظنه على خلافه»

«المحيط البرهاني» (3/ 229):

«وحكى فتوى القاضي الإمام شمس الإسلام الأوزجندي رحمه الله، والشيخ الإمام الخطيب مسعود بن الحسين الكُشاني رحمه الله أنه يقع الطلاق على واحدة منهن وإليه البيان وهو الأظهر والأشبه، وهذا لأن قوله حلال الله علي حرام بمنزلة قوله امرأتي طالق عرفاً ولهذا وقع الطلاق به من غير نية، وفي قوله: امرأتي طالق يقع الطلاق على واحدة منهن والبيان إليه كذا ههنا»

«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» (2/ 267):

«(قوله وقيل تطلق واحدة منهن وإليه البيان) قال في الكافي في أثناء ما يكون يمينا وما لا يكون يمينا، ولو قال ‌حلال ‌الله ‌علي ‌حرام ‌وله ‌امرأتان يقع الطلاق على واحدة وإليه البيان في الأظهر كقوله امرأتي طالق وله امرأتان أو أكثر وفي كلام الشارح غموض في تصويرها اهـ.»

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (3/ 225):

«إذا قال لامرأتيه إحداكما طالق ثلاثا ‌فله ‌خيار ‌التعيين ‌يختار أيهما شاء للطلاق؛ لأنه إذا ملك الإبهام ملك التعيين.»

مہیم وقاص

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

11/رجب /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مہیم وقاص بن حافظ عبد العزیز

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب