03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کم عمر طلبہ کے لیے مجبوری کے تحت مسجد کی بجائےالگ جماعت قائم کرنے کاحکم
89780نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

ہمارا تعلیمی ادارہ البیرونی ایجو کیشن سسٹم ہے، جس میں کلاس چہارم تا ہشتم اور کلاس نہم تا بارہویں میں تک کے طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، ادارے کی جانب سے تعمیر کی نماز کی ادائیگی کا باقاعدہ انتظام جامع مسجد جامعۃ الرشید میں کیا گیا ہے۔تاہم اس سلسلے میں ہمیں چند انتظامی و عملی مشکلات کا سامنا ہے۔

  • کلاس چہارم تا ہشتم کے طلبہ کی اکثریت نابالغ اور کم عمر بچوں پر مشتمل ہے ،نماز کے دور ان ان بچوں سے شور شرابہ اور بے ترتیبی ہو جاتی ہے، جس سے مسجد کا تقدس متاثرہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔
  • مسجد کے تہہ خانے میں شعبہ حفظ القرآن کے طلبہ پہلے سے موجود ہوتے ہیں، جن کے ساتھ ہمارے طلبہ کے مل جانے سے مزید شور شرابہ ہو جاتا ہے۔
  • چونکہ کم عمر طلبہ کو تیسری منزل سے مسجد تک آنا جانا پڑتا ہے نماز سے فراغت کے بعد انہیں صرف اپنے اسکول بیگز لینے کے لیے واپس جانا ہوتا ہے جس کی وجہ سے انتظامی طور پر بھی نظم و ضبط بر قرار کا مزید مشکل ہوجاتا ہے۔

 واضح رہے کہ ادارہ اپنی بساط کے مطابق مکمل کوشش کرتا ہے کہ طلبہ باادب ، منظم اور خاموشی کے ساتھ مسجد آئیں اور نماز ادا کریں۔ اس مقصد کے لیے با قاعدہ تربیتی نشستیں بھی کی جاتی ہیں، مگر کم عمری اورنا پختگی کے باعث مکمل نظم وضبط  ہر حال میں ممکن نہیں ہو پاتا۔

ان حالات کے پیش نظر ادارہ یہ انتظام کرنا چاہتا ہے کہ کلاس چہارم تا ہشتم کے طلبہ کے لیے ہال میں الگ جماعت قائم کی جائے، تا کہ نماز سے فراغت کے بعد روزانہ کی بنیاد پر پانچ منٹ کی تعلیم کا سلسلہ بھی ہو۔اور کلاس نہم تا بارہویں کے بالغ اور سمجھدار طلبہ حسب سابق مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا مذکورہ انتظامی مجبوریوں کے پیش نظر کم عمر طلبہ کے لیے مسجد کی بجائے کسی جگہ الگ جماعت قائم کرنا شرعاً جائز ہے ؟ اگر اس میں کوئی شرعی قیادت ہو تو اس سے آگاہ فرمایا جائے کہ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جاننا چاہیے کہ قرآن وحدیث میں مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی بہت زیادہ ترغیب دی گئی ہے، چنانچہ ایک حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

صحيح البخاري (1/ 131) الناشر: دار طوق النجاة:

صلاة الرجل في الجماعة تضعف على صلاته في بيته، وفي سوقه، خمسا وعشرين ضعفا

 ترجمہ:آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز، اس کی گھر میں اور بازار میں (اکیلے) پڑھی گئی نماز سے پچیس درجے زیادہ افضل ہے۔

 بعض روایات میں ستائیس نمازوں کے برابر بھی ثواب بیان کیا گیا ہے، نیز ایک حدیث میں ہے کہ جامع مسجد (جس میں جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہو) میں ایک نماز پڑھنےکا اجر پانچ سو نمازوں کے برابر دیا جاتا ہے۔

دوسری طرف بلا عذر شرعی مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز نہ ادا کرنے پر سخت تنبیہات کی گئی ہے، چنانچہ ایک حدیث میں حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

  سنن الدارقطني (2/ 292) الناشر: مؤسسة الرسالة، بيروت:

 «لا صلاة لجار المسجد إلا في المسجد»

 یعنی مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے علاوہ نہیں ہو تی۔

دوسری حدیث میں  حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 مسند أحمد ت شاكر (8/ 209) الناشر: دار الحديث – القاهرة:

"والذي نفصل محمد بيده، لقد هممت أن آمر فتياني أن يستعدوا إلي بحزم من حطب،    ثم آمر رجلا يصلي للناس، ثم نحرق بيوتا على من فيها"

ترجمہ:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میں نے ارادہ کیا تھا کہ اپنے نوجوانوں کو حکم دوں کہ وہ میرے پاس لکڑی کے گٹھے لے آئیں، پھر میں ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے  اور اس کے بعد میں ان لوگوں کے گھروں کو ان سمیت جلا دوں۔

اس کے علاوہ بھی دسیوں احادیث مبارکہ میں اس کی ترغیب اور ترہیب بیان کی فرمائی گئی ہے، اس لیے بغیر کسی شرعی مسجد کی جماعت کو چھوڑنا جائز نہیں، شرعی اعذار میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے بیماری، سفر، راستے میں درندے وغیرہ کے خوف جیسی وجوہ شامل ہیں، لہذا بغیر کسی شرعی عذر کےبالغ بچوں پر لازم ہے کہ وہ مسجد میں آکرجماعت کے ساتھ نماز ادا کریں، ورنہ وہ گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوں گے۔

جہاں تک نابالغ بچوں کا تعلق ہے تو وہ بچے جن کے نابالغ ہونے کا یقین کا ظنِ غالب ہو تو ان کے لیے مسجد سے ہٹ کر نماز کے لیے علیحدہ جگہ بنائی جا سکتی ہے، بشرطیکہ وہاں اساتذہ کرام کی نگرانی میں جماعت کا اہتمام کیا جائے، تاکہ نماز کی ادائیگی اور نظم وضبط کے حوالے سے بچوں کی بہتر طریقے پر تربیت ہو سکے۔

البتہ وہ بچے جن کے بالغ ہونے کا یقین یا ظنِ غالب ہو، جس کا اندازہ بچوں کی عمر اور صحت سے لگایا جا سکتا ہے، مثلا جن بچوں کی عمر چودہ سال سے اوپر ہوں اور ان کی صحت بھی اچھی ہوتو ایسے طلباء کو مسجد میں ہی نماز ادا کرنے کا پابندکیا جائے، کیونکہ چودہ سال کی عمر کے بچے قریب البلوغ ہوتے ہیں اور ایسی عمر کے بچوں کو مسجد میں جماعت کی عادت ڈلوانا ضروری ہے، تاکہ بلوغت کے بعد مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا اہتمام رہے۔

حوالہ جات

سنن ابن ماجه (1/ 453) الناشر: دار إحياء الكتب العربية:

1413 - حدثنا هشام بن عمار قال: حدثنا أبو الخطاب الدمشقي قال: حدثنا رزيق أبو عبد الله الألهاني، عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «صلاة الرجل في بيته بصلاة، وصلاته في مسجد القبائل بخمس وعشرين صلاة، وصلاته في المسجد الذي يجمع فيه بخمس مائة صلاة، وصلاته في المسجد الأقصى بخمسين ألف صلاة، وصلاته في مسجدي بخمسين ألف صلاة، وصلاة في المسجد الحرام بمائة ألف صلاة»

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

23/رجب المرجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب