| 86320 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میری تربیت کے غرض سے ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ انسان کا دل خالص اللہ اور اس کے رسول کے لیےہونا چاہیے مطلب اللہ اور اس کے رسول کے سوا تمہارے دل میں کسی بھی چیز کی محبت نہیں ہونی چاہئے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک اور وفاداری صرف اس لئے کرنی ہے کیونکہ یہ اللہ کا حکم ہے، اسی طرح بیوی سےیا اوربھی جتنے معاشرتی تعلقات ہیں صرف اس لئے قائم رکھنی یا کرنی ہے کیونکہ یہ اللہ تبارک وتعالٰی کے احکام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلیمات میں سے ہیں۔ باقی دنیاوی تعلقات حسن سلوک،اخلاق،خلوص،وفاداری وغیرہ، ان ساری چیزوں کے ساتھ قائم ودائم رکھنی ہے۔ لیکن محبت یا دل لگی بلکل بھی نہیں۔ (الف)تو محترم شریعت ان باتوں کو کس نظر سے دیکھتی ہے؟ (ب) اگر یہ باتیں درست ہیں تو کیا انکی تبلیغ مردوں اور محرم عورتوں میں کی جا سکتی ہیں؟ (ت) اگر درست نہیں ہیں تو میں دو دوستوں کو اسکی تبلیغ کر چکا ہوں، وہ اس سے بہت متاثر ہو چکے ہیں ۔ تو اب مجھے ازالے کے طور پر کیا کرنا چاہیے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کی اصلاح کےلیے بتائی گئی ہدایات مجمل اور مبہم ہیں ۔مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر ذیل میں تفصیل سے اس کی تشریح پیش کی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ " محبت"کی دو قسمیں ہیں،طبعی اور عقلی۔ طبعی محبت وہ ہوتی ہے جس کی بنیاد طبعی وابستگی و پسند اور فطری تقاضہ ہوتا ہے۔ اس میں عقلی یا خارجی ضرورت اور دباؤ کا دخل نہیں ہوتا، جیسے اولاد کو باپ کی یا باپ کو اولاد کی محبت۔
عقلی محبت وہ ہوتی ہے جو کسی طبعی و فطری وابستگی اور تقاضے کے تحت نہیں ہوتی بلکہ کسی عقلی ضرورت اور خارجی وابستگی کے تحت کی جاتی ہے۔ اس کی مثال مریض اور دوا کی ہے کہ اگر بیماری کو ختم کرنا ہے اور صحت عزیز ہے تو دوا استعمال کرنی ہوگی خواہ اس دوا کی تلخی اور کڑواہٹ کا طبیعت پر کتنا ہی بوجھ کیوں نہ ہو، یہاں پر تلخ اور کڑوا دوا لینا اس کا طبعی اور فطری تقاضہ نہیں ہے بلکہ یہ دراصل عقل کا تقاضا ہوتا ہے ،یہ محبتِ عقلی ہے۔ عقلی محبت بعض حالات میں اتنی گہری اور اتنی اہم بن جاتی ہے کہ بڑی سے بڑی طبعی محبت اور بڑے سے بڑے فطری تقاضےپر بھی غالب آجاتی ہے ۔اللہ اوراس کے رسول کے ساتھ محبت رکھنے سے مراد علماء و محدثین کے نزدیک یہی " عقلی محبت" ہے لیکن کمال ایمان و یقین کی بنا پر یہ " عقلی محبت" اتنی بھر پور اور اس قدر جذباتی وابستگی کے ساتھ ہو کہ" طبعی محبت" پر غالب آجائے۔ اس کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کسی ہدایت اور کسی شرعی حکم کی تعمیل میں کوئی خونی رشتہ جیسے باپ کی محبت ، اولاد کا پیار یا کوئی بھی اور طبعی تعلق رکاوٹ ڈالے تو اس ہدایت رسول اور شرعی حکم کو پورا کرنے کے لئے اس خون کے رشتے اور طبعی تقاضا و محبت کو بالکل نظر اندازکردیناچاہیے۔
چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس میں طبعی محبت کے محرک تمام کمالات موجودہیں اس لیےہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طبعاً بھی محبت رکھتے ہیں، البتہ یہ بات خوب سمجھ لیں کہ والدین اولاد یا اپنے اساتذہ کے ساتھ طبعی محبت رکھنے پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگابلکہ یہ توباعث اجر وثواب ہے، البتہ تقابل کی صورت میں اللہ تعالٰی اورحضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کاحکم مانناضروری ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت رکھنے کامطلب یہ نہیں کہ بندہ مخلوق سے بالکل الگ تھلگ رہے اور کسی سے بات نہ کرے ،کیونکہ حدیث کی رو سے مومن جائے محبت ہے اور اس آدمی میں کوئی خیر نہیں جو نہ محب ہو اور نہ محبوب۔علاوہ ازیں آپس میں دل لگی کی باتیں اور ہلکی پھلکی ہنسی مزاح بھی درست ہے۔
مذکورہ بالا تفصیل کوملحوظ رکھتے ہوئے ان ہدایات کی تبلیغ درست ہے،اورجن دوستوں کوآپ تبلیغ کرچکے ان کوبھی یہ تفصیل سمجھائیں۔ البتہ فرض،واجب اور نفل امورکواپنے اپنےدرجہ میں رکھنا چاہیے ،اسی طرح مباح اُمور پر ایسی نکیرنہیں کرنی چاہیے جس سے وہ حرام معلوم ہونےلگیں۔
حوالہ جات
أخرج الإمام البخاري رحمہ اللہ ،عن أنس رضي اللہ عنہ،قال: قال النبي صلى اللہ عليه وسلم:لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين.(البخاري:14/1،رقم الحدیث:(15
قال العلامۃ ابن حجر رحمہ اللہ:والمراد بالمحبة هنا ،حب الاختيار لا حب الطبع.(فتح االباري:59/1،رقم الحدیث:(15
أخرج الإمام أبي داودرحمہ اللہ عن أبي أمامة رضي اللہ عنھما، عن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم أنه قال: مَن أحبَّ للہ، وأبغض لله، وأعطى لله، ومنع لله، فقد استكملَ الإيمان.(سنن أبي داود:69/7،رقم الحدیث:(4681
قال ملا علي القاري رحمہ اللہ تعالٰی:(عن عبد اللہ بن عمرو) بالواو (قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم 🙁بلغوا عني) أي: انقلوا إلى الناس، وأفيدوهم ما أمكنكم، أو ما استطعتم مما سمعتموه مني، وما أخذتموه عني من قول أو فعل، أو تقرير بواسطة أو بغير واسطة (ولو آية) أي: ولو كان المبلغ آية، وهي في اللغة العلامة الظاهرة. قال زين العرب: وإنما قال " آية " لأنها أقل ما يفيد في باب التبليغ .(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:(280/1
أخرج الإمام البیھقي رحمہ اللہ عن سهل بن سعد رضي اللہ عنھما، عن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال: "المؤمن مألفة، ولا خير فيمن لا يألف ولا يؤلف".( شعب الإيمان:442/10،رقم الحدیث:(7767
أخرج الإمام الترمذي رحمہ اللہ تعالٰی،عن الحسن رضي اللہ تعالٰی،قال: أتت عجوز إلى النبي صلى اللہ عليه وسلم ،فقالت: يا رسول اللہ أدع اللہ أن يدخلني الجنة. فقال: يا أم فلان! ان الجنة لا تدخلها عجوز. قال: فولت تبكي، فقال: أخبروها أنها لا تدخلها وهي عجوز، إن اللہ تعالٰی يقول: إنا أنشأناهن إنشاء، فجعلناهن أبكارا عربا أترابا.(مختصر الشمائل :ص،127،رقم الحدیث:(205
جمیل الرحمٰن بن محمدہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
13 رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


