03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملا زمت کا وقت پورا کر نے کا حکم
86376اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

السلام علیکم میں سرکاری ملازم ہوں صبح نو بجے سے دوپہر دو بجے تک مجھ پر ڈیوٹی  کا وقت پورا کرنافرض ہے یا واجب ہے شکریہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی بھی ادارے میں کام کرنے والے شخص کی  حیثیت اجیر خاص کی ہو تی ہے اور اجیر خاص  اجرت کا اسی وقت مستحق ہو تا ہے  جب وہ اپنی ڈیوٹی کے پورے وقت میں حاضر ہو ، جتنا وقت غیر حاضر رہے گا  تو اس غیر حاضری کے بقدر   تنخواہ کا مستحق نہ ہو گا۔لہذا صورت مسؤلہ میں صبح نوبجےسے دوپہردوبجےتک ڈیو ٹی کا وقت  ہے تو ملازم کو پوراوقت حاضر رہناضروری ہے  اگر چہ  کوئی کام نہ بھی ہو۔

حوالہ جات

قال ابن الهمام رحمہ اللہ تعالی:«أن الأجير الخاص هو الذي يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة، وإن لم يعلم كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم . (فتح القدير: 9/ 140)

قالفی مجلةالأحكام: الأجير يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشرط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة. (مجلة الأحكام : ص82)

 قال فی الهندية : «‌ثم ‌الأجرة ‌تستحق ‌بأحد ‌معان ‌ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي.

محمد اسماعیل  بن محمداقبال

دارالافتاء جا معۃ الرشید کراچی

15رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن محمد اقبال

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب