03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شدیدغصہ میں طلاق کےبعدرجوع کرکےتین سےزائدمتفرق طلاقیں دینے کاحکم
86427طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

میرا نام رمیز خان ہے اور میں شریعت کے احکام کے مطابق طلاق کے مسئلے میں رہنمائی چاہتا ہوں۔ یہاں پر میں

مکمل تفصیل پیش کر رہا ہوں اور رہنمائی کا طالب ہوں۔

طلاق کے مسئلے کا پس منظر - بیوی کا رویہ اور ذہنی کیفیت:

ہماری شادی کو پانچ سال ہو گئے ہیں، لیکن ابتدائی ڈھائی سال میں کافی مشکلات پیش آئیں۔ میری بیوی ہماری ذاتی باتیں دوسروں سے شیئر کرتی تھی اور اپنی فیملی سے غلط باتیں یا حقائق کے برعکس باتیں کرتی تھی، جس سے اکثر میری منفی تصویر پیش کی جاتی۔ اس کے رویے کی وجہ شاید اس کی صحیح تربیت کی کمی تھی، جو اس کی والدہ کے کم عمری میں انتقال کی وجہ سے ہوئی۔ اس کے علاوہ اس کے والد اور دیگر فیملی ممبرز کا ہماری زندگی میں غیر ضروری مداخلت کرنا اور میری بیوی کو غلط باتوں پر سپورٹ کرنا بھی شامل تھا۔ وہ بے چینی کا شکار رہتی تھی اور کسی غلط بات کو پکڑ کر شدید ضد کر لیتی تھی، جس کی وجہ سے ہمارے درمیان جھگڑے ہوتے۔ بچے کی پیدائش کے بعد بھی اس نے بچے اور اپنی صحت کا صحیح خیال نہیں رکھا۔ میں نے ان سب مسائل کے باوجود ہمیشہ رشتے کو سنبھالنے کی کوشش کی۔

میری میڈیکل ہسٹری:

تقریباً 20 سال پہلے، انٹر کے امتحانات کے دباؤ کی وجہ سے مجھے خوف اور بے چینی کی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا،جس کے لیے میں نے وقتی طور پر ڈاکٹر کی دوائیاں اور روحانی علاج استعمال کیے۔ الحمد لله، یہ کیفیت کچھ سالوں میں بہتر ہو گئی، اور میں نے اپنی تعلیم مکمل کی اور دفاتر میں کام کیا۔ کئی سالوں سے میں نہ دوائیاں استعمال کر رہا ہوں اور نہ کسی علاج کی ضرورت ہے۔ جھگڑوں کے باوجود میں نے اپنی بیوی پر تشدد یا زیادتی نہیں کی اور نہ ہی غصے یا جنون میں ہوش کھو کر ایسا کوئی عمل کیا جس سے اسے یا مجھے نقصان پہنچے۔ اگر ایسا ہوتا تو میری بیوی اور اس کی فیملی طلاق کو روکنے کی کوشش نہ کرتے۔

طلاق کے حوالے  سے میری سمجھ اور نیت:

میری ہمیشہ سے طلاق کے بارے میں سمجھ یہ رہی ہے کہ اگر طلاق کے لفظ صرف دو بار کہے جائیں تو طلاق واقعی نہیں ہوتی۔ میرا یہ یقین تھا کہ تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بولنے پر ہی طلاق مکمل ہوتی ہے اور رشتہ پوری طرح ختم ہو جاتا ہے۔ اللہ کو حاضر و ناظر جان کر کہہ رہا ہوں کہ مجھے پہلے سے یہ علم نہیں تھا کہ اگر دو مرتبہ طلاق کے الفاظ کہے گئے ہیں تو وہ طلاق رجوع کے بعد بھی باقی رہتی ہے، یا یہ کہ پرانی طلاقیں بھی شمار کی جاتی ہیں۔ اسی وجہ جب بھی میں نے طلاق کا لفظ کہا تو وہ صرف دو بار کہا اور کبھی اس سے زیادہ نہیں اور اس کے بعد میں ہمیشہ 4 دن کے اندر رجوع کر لیتا تھا۔

طلاق کے الفاظ کی تفصیل:

دبئی میں رہتے ہوئے، میری زندگی میں کئی مسائل چل رہے تھے، جیسے جاب کی جدوجہد، انجان لوگوں کے ساتھ رہنا، گھر اور فیملی سے دوری، اور اکیلے پن کا احساس۔ ان سب کے ساتھ، میری میڈیکل ہسٹری بھی ایسی رہی ہےکہ جب حالات زیادہ مشکل ہوں تو غصہ جلد آ جاتا ہے اور شدت اختیار کر لیتا ہے۔ دبئی میں ان حالات کے دوران میرے پاس ایسی دوائیاں بھی دستیاب نہیں تھیں جو میرے دباؤ کو کم کر سکتی تھیں۔ ان مشکلات میں، بیوی کی مسلسل ضد اور طعنوں نے میرے ذہنی دباؤ کو مزید بڑھا دیا۔

ان مشکلات میں بیوی کی مسلسل ضد، بحث اور طعنوں کی وجہ سے مزید غصہ بڑھ کر جنونی ہو گیا تھا اور طلاق کا کہا۔مطلب دبئی میں 2 بار ایسا ہوا اور آخری بار اگست 2024 میں جو طلاق دی اسی کیفیت میں دی ،آخری طلاق میں بھی شدید سر درد تھا، بیوی نے جھگڑا شروع کیا اور میرے پہلے سے ہی stress (ذہنی دباؤ )کی وجہ سے بے چینی چل رہی تھی  اورطبیعت خراب تھی اور پھر شدید غصے میں جنون والی کیفیت جو وقتی طور پر ہوتی ہےوہ بھی تھی اوراس حالت میں طلاق بھی کہی۔ اس جنونی کیفیت میں اتنا کنٹرول رہتا کہ کوئی جسمانی شدید نقصان نہ ہو جائے، باقی اس کے علاوہ جونقصان پہنچے،اس پر کنٹرول نہیں ہوتا۔ اور بیوی بھی اب شرمندہ ہے کہ اسکو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اور اسکےگھر والوں کی بلا وجہ مداخلت اور غلط سپورٹ کرنے کی وجہ سے رشتہ اس نہج پر آگیا۔

(۱)دبئی میں رہتے ہوئے (1) بار طلاق کہنا:

فون پر طلاق کا لفظ کہا، بعد میں بیوی نے بتایا کہ وہ ان دنوں حیض میں تھی۔ یہ میں نے شدید غصے اور اضطرابی کیفیت میں کہا۔

(۲)دبئی میں رہتے ہوئے 2) بار طلاق کہنا:

فون پر طلاق کا لفظ کہا، بعد میں بیوی نے بتایا کہ وہ ان دنوں حیض میں تھی۔ یہ بھی میں نے شدید غصے اوراضطرابی کیفیت میں کہا۔

(۳)دبئی سے آنے کے بعد (2) بار طلاق کہنا:

غصہ نارمل تھا۔

(۴)اگست 2024 میں 2 بار طلاق کہنا:

یہ بھی میں نے شدید غصے اور اضطرابی کیفیت میں کہا۔

دبئی سے واپسی پر بیوی نے میری ذاتی باتیں میرے بھائی کی بیوی کو بتائیں، جس پر جھگڑا ہوا۔ اس نے اپنی غلطی مان کر شرمندگی ظاہر کی اورمیں نے کہا کہ اگر میں چاہوں تو طلاق دے سکتا ہوں۔ میں نے طلاق کا فیصلہ نہیں کیا، لیکن سختی سے کہا کہ آئنده فیملی یا میری باتیں کسی سے شیئر نہ کرے، ورنہ طلاق ہوگی اور آخری طلاق کے بعد مجھے اندیشہ ہوا کے وہ پہلے کی طرح میری اور فیملی کی باتیں اپنے گھر میں بتا دے گی لہذا میں نے طلاق کے الفاظ واپس لے لیے، تاکہ طلاق واقع نہ ہو جائے۔لیکن اس نے اپنے گھر والوں کو کچھ سچ اور کچھ غلط باتیں بتائیں،جسکا علم مجھے کچھ عرصہ پہلے ہوا۔

طلاق سےمتعلق سوال اور شریعت کے احکام:

ان سب واقعات کے بعد کچھ لوگوں سے معلومات کی تو پتہ چلا کہ طلاق کا مسئلہ پیش آ سکتا ، ہے جو کہ پہلے میں سمجھتا تھا کہ نہیں آتا۔ میں دین کے مطابق نرمی اور سمجھداری سے مسئلے کا حل چاہتا ہوں، خاص طور پر اپنےبچے کے لیے، جو الگ رہنے کی وجہ سے پریشان ہے اور دونوں والدین کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ بچے کو دونوں کا پیار اور حمایت ملے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

احکام شرعیہ کے بارے میں لا علمی کوئی شرعی عذر نہیں اور شدیدغصہ کی حالت میں دی گئی طلاقیں بھی شرعا معتبر ہیں،اس لیے بظاہر آپ کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،البتہ اگر کسی کی ذہنی حالت شدید غصہ میں اس قدر بگڑی ہوئی یا طلاق کے الفاظ کہتے وقت  اس قدربے قابو ہو کہ وہ اپنے کہنےیا کرنے پرقابو نہ رکھ پائےاوراس حالت کے ساتھ عام لوگوں میں یا کم از کم اپنے خاندان یا دوست واحباب کے ہاں معروف بھی ہواورہربارطلاق دیتے وقت  ذہنی کیفیت اس حد تک بگڑی ہوئی بھی ہو توایسی حالت میں دی گئی  طلاق واقع نہیں ہوتی۔

لہذااگر آپ نے جتنی طلاقیں دی ہیں اوران سب کے بارےمیں آپ کا دعوی ہے کہ وہ آپ نے شدید غصہ اور اضطرابی کیفیت میں دی ہیں اور ان سب کے دوران آپ کی وہ حالت اوپر ذکرکردہ دوسری شدید کیفیت کے مطابق تھی تو ایسی صورت میں دی گئی کوئی طلاق بھی واقع نہیں ہوئی،بشرطیکہ آپ کی یہ کیفیت لوگوں میں معروف  بھی ہو یعنی اس پر گواہ موجود ہوں اور آپ حلفیہ یہ بیان دیتے ہوں کہ ان تمام طلاقوں کو کہتے وقت آپ کی یہ کیفیت تھی کہ آپ کو اپنے نفع ونقصان اور طلاق کے معنی ومفہوم کی سمجھ نہیں تھی یا سمجھ توتھی،لیکن  کہتے وقت اپنے پر قابو نہیں رکھ پارہے تھے۔ البتہ ایسی صورت میں  دبئی سے آنے کے بعد نارمل غصہ کی حالت میں دی گئی صرف دوطلاقیں واقع ہوئی ہیں اورآپ کے بقول ہربارطلاق کے بعد چار دن کے اندررجوع بھی ہوا ہے،لہذااس وجہ سے آپ کی بیوی آپ کے نکاح میں ہے،(بشرطیکہ آپ نے رجوع کیا ہو)،البتہ اس کے بعدآئندہ ایک طلاق دینے سے ہی وہ ہمیشہ کےلیےآپ پرحرام ہوجائے گی،لہذانہایت سخت احتیاط کی ضرورت ہوگی اوراگر شدید غصہ اوپر ذکرکردہ  دوسری شدید کیفیت  کے درجہ میں نہ تھاتو ایسی صورت میں طلاق کے الفاظ کہنے سےچونکہ طلاق واقع ہوجاتی ہے اورچونکہ آپ کے بقول ہر بار طلاق دینےکے بعدآپ نے چار دن کے اندر رجوع بھی کرلیا تھا، اس لیے آپ کی بیوی پر پہلی دو مرتبہ کہے الفاظ سے ہی( پہلی مرتبہ ایک اور اس  سے رجوع کے بعددوسری مرتبہ دو طلاقیں)کل تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 244)

مطلب في طلاق المدهوش وقال في الخيرية: غلط من فسره هنا بالتحير، إذ لا يلزم من التحير وهو التردد في الأمر ذهاب العقل. وسئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، أجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق بلا برهان. اهـ. قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.

الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش، لكن يرد عليه أنا لم نعتبر أقوال المعتوه مع أنه لا يلزم فيه أن يصل إلى حالة لا يعلم فيها ما يقول ولا يريده وقد يجاب بأن المعتوه لما كان مستمرا على حالة واحدة يمكن ضبطها اعتبرت فيه واكتفي فيه بمجرد نقص العقل، بخلاف الغضب فإنه عارض في بعض الأحوال، لكن يرد عليه الدهش فإنه كذلك. والذي يظهر لي أن كلا من المدهوش والغضبان لا يلزم فيه أن يكون بحيث لا يعلم ما يقول بل يكتفى فيه بغلبة الهذيان واختلاط الجد بالهزل كما هو المفتى به في السكران على ما مر، ولا ينافيه تعريف الدهش بذهاب العقل فإن الجنون فنون، ولذا فسره في البحر باختلال العقل وأدخل فيه العته والبرسام والإغماء والدهش. ويؤيده ما قلنا قول بعضهم: العاقل من يستقيم كلامه وأفعاله إلا نادرا، والمجنون ضده. وأيضا فإن بعض المجانين يعرف ما يقول ويريده ويذكر ما يشهد الجاهل به بأنه عاقل ثم يظهر منه في مجلسه ما ينافيه، فإذا كان المجنون حقيقة قد يعرف ما يقول ويقصده فغيره بالأولى، فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك الصحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل، نعم يشكل عليه ما سيأتي في التعليق عن البحر. وصرح به في الفتح والخانية وغيرهما، وهو: لو طلق فشهد عنده اثنان أنك استثنيت وهو غير ذاكر، وإن كان بحيث إذا غضب لا يدري ما يقول وسعه الأخذ بشهادتهما وإلا لا اهـ مقتضاه أنه إذا كان لا يدري ما يقول يقع طلاقه وإلا فلا حاجة إلى الأخذ بقولهما إنك استثنيت، وهذا مشكل جدا، وإلا أن يجاب بأن المراد بكونه لا يدري ما يقول أنه لقوة غضبه قد ينسى ما يقول ولا يتذكره بعد، وليس المراد أنه صار يجري على لسانه ما لا يفهمه أو لا يقصده إذ لا شك أنه حينئذ يكون في أعلى مراتب الجنون، ويؤيده هذا الحمل أنه في هذا الفرع عالم بأنه طلق وهو قاصد له، لكنه لم يتذكر الاستثناء لشدة غضبه، هذا ما ظهر لي في تحرير هذا المقام، والله أعلم بحقيقة المرام ثم رأيت ما يؤيد ذلك الجواب، وهو أنه قال في الولوالجية: إن كان بحال لو غضب يجري على لسانه ما لا يحفظه بعده جاز له الاعتماد على قول الشاهدين، فقوله لا يحفظه بعده صريح فيما قلنا والله أعلم.

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۵رجب۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب