03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چھوٹے بھائی کو کاروبار کے لیے کروڑ روپیہ دینے کا حکم
86449شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

ں نے اپنے چھوٹے بھائی کوکاروبار کے لیے پیسے دیئے، بھائی نے نقصان کردیا،کا پھر بھائی نے کہا میں میڈیسن کا کام کروں گا، میں نے پھر اس کوکافی لاکھ دیئے، پھر نقصان ہو ا،کچھ وقت بعد بھائی نے کہاں مجھے تقریبا کروڑ کے قریب پیسے دو، میں ایجنسی لوں گا، میں نے پھر پیسے دیئے۔ اب میرے چھوٹے بھائی کا کاروبار اللہ تعالی کے فضل سے کروڑوں میں چل رہا ہے ،کھانا پینا ایک ساتھ تھا، میں نے کہاچھوٹا بھائی ہے میں دبئی میں کام کرتا ہوں پیسے دیتے وقت میں نے بھائی سے کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ نہ ہی بھائی نے کوئی بات کی تھا۔ اب میں اپنے بھائی سے اگر حساب کروں تو صرف اپنے پیسوں کا حق دار ہوں یا بھائی کے ساتھ شریک ہوں یا کوئی بھی حق نہیں ہے؟ میں نے چھوٹا بھائی سمجھ کر دیا اس نے بڑا بھائی سمجھ کر مانگا تھا۔ اب میں پریشان ہو ں،شریعتِ مطہرہ  کی روشنی میں تسلی بخش جواب عنایت فرمائے۔

وضاحت: سائل نے بتایا کہ پیسے دیتے وقت تعاون یا بطور قرض وغیرہ میں سے  اس وقت میری کوئی متعین نیت نہیں تھی، بس چھوٹا بھائی سمجھ کر  میں نے اس کے مطالبے پر  اس کوکروڑ روپیہ  دیا تھا۔ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اگر رقم دیتےوقت آپ کے دل میں قرض اور ہبہ کی کوئی نیت نہیں تھی جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تواس صورت میں  اس  رقم پر قرض کا حکم لگے گا، کیونکہ  فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ اگر کسی نے کسی کو بغیر کسی نیت کے دراہم دیتے وقت کہا کہ اس کو استعمال کر لو تو اس کو قرض سمجھا جائے گا، نیز ہبہ ایک  مالی معاملہ ہے جو کہ زبانی یا تحریری طور پر صراحت نہ ہونے کی صورت میں ہبہ (گفٹ)کی حتمی نیت کے بغیرشرعا ثابت نہیں ہوتا، اس لیے یہ رقم آپ کے بھائی کے ذمہ واجب الاداء ہو گی، باقی کاروبار میں شرکت بہرصورت ثابت نہیں ہو گی، کیونکہ شرکت کے لیے باقاعدہ شرکت کا معاہدہ کرنا ضروری ہے، جبکہ آپ دونوں کے درمیان شرکت کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 710) دار الفكر-بيروت:

دفع دراهم إلى رجل وقال: أنفقها ففعل فهو قرض، ولو دفع إليه ثوبا، وقال: ألبسه نفسك، فهو هبة، والفرق مع أنه تمليك فيهما أن التمليك قد يكون بعوض، وهو أدنى من تمليك المنفعة، وقد أمكن في الأول لأن قرض الدراهم يجوز، بخلاف الثانية، ولوالجية، وفيها: قال أحد الشريكين للآخر: وهبتك حصتي من الربح، والمال قائم لا تصح، لأنها هبة مشاع فيما يحتمل القسمة ولو كان استهلكه الشريك صحت.

مجلة الأحكام العدلية (ص: 254) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

المادة (1330) ركن شركة العقد الإيجاب والقبول لفظا أو معنى. مثلا إذا أوجب أحد بقوله لآخر: شاركتك بكذا درهما رأس مال للأخذ والإعطاء وقبل الآخر بقوله قبلت فبما أنهما إيجاب وقبول لفظا فتنعقد الشركة , وإذا أعطى أحد ألف درهم لآخر وقال له: ضع أنت ألف درهم عليها واشتر مالا وفعل الآخر مثل ما قال له فتنعقد الشركة لكونه قبل معنى.

محمد نعمان خالد

دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی

15/رجب المرجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب