03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چھوٹے بھائی کے کاروبار میں بغیرسرمایہ کے کام کرنے کا حکم
86448شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

1۔میں دبئی میں تھا میں نے اپنے چھوٹے بھائی سے کہا آپ یہاں دبئی آجائیں، چھوٹا بھائی دبئی آگیا، کھانا پینا ایک ساتھ تھا، کاروبار وغیرہ سب میرا تھا، کچھ عرصہ بعد بھائی نے کہا میرے بیوی بچے پاکستان میں ہیں۔ ان کو لانا ہے میں نے اپنے بھائی کی فیملی کو بھی دبئی بلالیا، بچے بھائی کے  ساتھ  ہیں، تقریباً دس یا آٹھ سال ہو گئے۔ میرا کاروبار بھی اچھا ہے، بھائی میرے ساتھ کاروبار میں اس وقت سے ہاتھ بناتا ہے۔ اپنے سارے گھر کا خرچہ بھی یہیں سے چلاتا ہے۔ میں اگر اپنے چھوٹے بھائی کو اپنے کام سے الگ کروں یاوہ خود الگ ہونا چاہیے تو کیا یہ میراشریک کہلائے گایا دس بارہ یا جتنے بھی سال ہوں اتنی اجرت کا مالک ہو گا؟

2۔تقریباً 70 تولہ سے 100 تولہ کے قریب میں نے اس کی بیوی کو سونا بھی بنوا کر دیا ہے، کیونکہ ان کا ایک روپیہ بھی نہیں تھا اور  یہ سونا جو میں نے بنوا کر دیا اس کا حساب کیسے ہو گا ؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ سونا دیتے وقت تعاون یا بطور قرض میری اس وقت کوئی متعین نیت نہیں تھی، بس ایسے ہی میں نے ان کو دے دیا تھا اور یہ سونا زیور کی شکل میں تھا، جس کوبھابھی استعمال بھی کرتی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً کاروبار میں لگایا گیا مکمل سرمایہ آپ کا تھا، آپ کے بھائی کا کوئی سرمایہ کاروبار میں نہیں لگا تھا اور دونوں کے درمیان کاروبار میں شرکت کا کوئی معاہدہ بھی نہیں ہوا تھا تو اس صورت میں آپ کا بھائی شرعی اعتبار سے آپ کے کاروبار میں شریک شمار نہیں ہو گا، کیونکہ کاروبار میں شرکت کے لیے  زبانی یا عملی طور پر باقاعدہ شرکت کا عقد(Contract) ہونا ضروری ہے، اس لیے مذکورہ کاروبار سے حاصل شدہ مکمل نفع آپ کا شمار ہو گا اور آپ کے بھائی نے جتنا عرصہ آپ کے ساتھ کام کیا ہے ان کو اتنے عرصہ کی اجرتِ مثل ملے گی، اجرت مثل کا مطلب یہ ہے اس طرح کا کام کرنے پر معاشرے میں عام طور پر جو اجرت دی جاتی ہو اتنی اجرت کا آپ کا بھائی حق دار ہو گا۔

2۔ بھائی کی بیوی کو سونے کا زیور دینےمیں اگر نیت تعاون اور تبرع کی تھی یاآپ کے عرف میں اس طرح سونا دینے کو گفٹ سمجھا جاتا ہوتو  ان دونوں صورتوں میں یہ سونا ہبہ شمار ہو گا اور اب  آپ کو اس کی واپسی کا حق حاصل نہیں ہے، بلکہ اس کا اجروثواب ان شاء اللہ  آپ کو آخرت میں ملے گا، نیز اگر اس وقت آپ کی کوئی نیت نہیں تھی تو  بھی فقہائے کرام رحمہم اللہ کی عبارات سےمعلوم ہوتا ہے کہ یہ زیور گفٹ شمار ہو گا، کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اصول یہ لکھا ہے کہ اگر کسی نے استعمال کی چیزجیسے کپڑا وغیرہ کسی کو دیا اور کہا کہ اس کو پہن لو تو یہ ہبہ یعنی گفٹ سمجھا جائے گا، خصوصا جبکہ بنا ہوا زیور بطور قرض نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ زیور میں کھوٹ، پالش، چھیجت (Wastage) اور نگینوں وغیرہ کا کام ہونے کی وجہ سے اس کو مثلی چیز کی طرح متعین کرکے واجب فی الذمہ قرار دینا مشکل ہے، البتہ اس کو عاریت کے طور پر دیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ شروع میں صراحت کر دی جائے کہ یہ زیور قابل واپسی ہے، جبکہ صورتِ مسئولہ میں عاریت وغیرہ کی کوئی صراحت نہیں کی گئی تھی، اس لیے اب اس کو عاریت بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔  

حوالہ جات

سنن أبي داود ت الأرنؤوط (3/ 532) دار الرسالة العالمية،بيروت:

عن قتادة، عن زرارة بن أوفى عن أبي هريرة، عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: "إن الله تجاوز لأمتي عما لم تتكلم به أو تعمل به، وبما حدثت به أنفسها"

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 285) دار الكتاب الإسلامي:

(قوله وكسوتك هذا الثوب) لأنه يراد به التمليك قال تعالى {أو كسوتهم} [المائدة: 89] ويقال كسا الأمير فلانا ثوبا إذا ملكه لا إذا أعاره وفي الخلاصة لو دفع إلى رجل ثوبا وقال ألبس نفسك ففعل يكون هبة ولو دفع إليه دراهم وقال أنفقها تكون قرضا. اه.

  مجلة الأحكام العدلية (ص: 255) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

المادة (1331) تنقسم شركة العقد إلى قسمين فإذا عقد الشركاء عقد الشركة بينهم بشرط المساواة التامة وأدخلوا مالهم الذي يصلح أن يكون رأس مال الشركة في الشركة وكانت حصصهم متساوية في رأس المال والربح تكون الشركة شركة مفاوضة فعليه إذا توفي

أحد فلأولاده أن يعقدوا شركة مفاوضة باتخاذهم مجموع الأموال التي انتقلت إليهم رأس مال على أن يشتروا ويبيعوا كل نوع من الأموال وأن يقسم الربح بينهم على التساوي ولكن وقوع شركة كهذه على المساواة التامة نادرة وإذا عقدوا الشركة بدون اشتراط المساواة التامة تكون شركة عنان.

محمد نعمان خالد

دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی

15/رجب المرجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب