03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک بیوہ،تین بھائیوں اور ایک بہن کے درمیان میراث کی تقسیم
86488میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

5000000 کی مالیت کی جائیداد کو ورثاء میں تقسیم کرنا ہے۔ مرحوم کے ورثاء میں ایک بیوہ، ایک بہن اور تین بھائی شامل ہیں۔ شرعی اصولوں کے مطابق ہر وارث کا حصہ کتنا ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ميت كے ترکہ میں سے  سب سے پہلے کفن دفن کے مناسب اخراجات (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو)نکالے جائیں گے، اس کے بعد  مرحوم کے ذمہ واجب  قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی (1/3) تک اس پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے بعدباقی ماندہ کل ترکہ (نقدی، چھوٹابڑا سازوسامان اور جائیداد) مرحوم کےورثہ میں تقسیم کیا جائے گا،اگر انتقال کے وقت ورثاءصرف یہی لوگ ہوں جوسوال میں مذکورہیں ،تو کل ترکہ اس طرح تقسیم ہوگا کہ  بیوہ کوکل مال کا چوتھائی حصہ ملے گا ، باقی تین حصے بہن بھائیوں میں اس طرح تقسیم کئے جائیں گےکہ ہر بھائی کو بہن کی بنسبت دوگنا حصہ ملے۔

کل مال کے  28 حصے بنائے جائیں گے،جس میں سے بیوہ کو7،ہر بھائی کو 6،جبکہ بہن کو 3 حصہ ملیں گے۔فیصدی لحاظ سے  بیوہ کو 25%،ہر بھائی کو 21.42% اور بہن کو 10.71%ملے گا۔

ورثاء

حصص

فیصد

بیوہ

1,250,000

25%

بھائی

10,71,428.571

21.4285%

بھائی

10,71,428.571

21.4285%

بھائی

10,71,428.571

21.4285%

بہن

5,35,714.2857

10.7142%

 

 

حوالہ جات

سورة النسآء، آیت نمبر ۱۲ :

وَ  لَهُنَّ  الرُّبُعُ  مِمَّا  تَرَكْتُمْ  اِنْ  لَّمْ  یَكُنْ  لَّكُمْ  وَلَدٌۚ

التفسير المظهري (2 / 31):

وَلَهُنَّ اى للزوجات واحدة كانت او اكثر الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ من الصلب او ولد الابن.

مختصر تفسير ابن كثير (1/ 364):

ثم قال: {‌ولهن ‌الربع مما تركتم} إلى آخره، وسواء في الربع أو الثمن الزوجة والزوجتان الاثنتان، والثلاث والأربع يشتركن فيه.

محمد اسامہ فاروق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

18/ رجب/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب