03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مار پیٹ کی وجہ سے شوہر سے خلع لینا
86479طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:  میرے شوہر نے دوسری شادی کی ہے۔ نان نفقہ تو دیتا ہے، لیکن وہ مجھے بہت زیادہ مارتا پیٹتا ہے۔ ایک مرتبہ اس قدر مارا پیٹا کہ مجھے  ہسپتال جانا پڑا۔ نہ مجھے  گھر سے باہر نکلنے  دیتا ہے اور نہ  کسی رشتہ دار کے ہاں جانے دیتاہے ۔کیا میں شوہر سے خلع لے سکتی  ہوں،جبکہ وہ خلع دینے پر راضی نہیں ہے ؟ اگر خلع لینے کا حق ہے تو  اس کے لیے کیا طریقۂ کار اختیار کروں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت  میاں بیوی کے تعلقات کی بحالی پر انتہائی زور دیتی  ہے اورحکم دیتی ہے کہ جس قدر ممکن ہو، رشتہ بر قرار رکھنے کی کوشش کی جائے۔اس لئے  سب سے پہلے تو جہاں تک  ممکن ہوسکےآپ  نکاح برقرار رکھنےکی کوشش کریں، کیونکہ آپ دونوں کی جدائی سے صرف آپ دونوں کا رشتہ ختم نہ ہوگا بلکہ دو خاندان الگ ہوجائیں گے   ۔لیکن اگر شوہر کا تشدد ناقابل برداشت ہواور مزید یہ رشتہ نبھانا آپ کے لئے مشکل ہوتو  کسی مناسب طریقے سے (خاندان کے بزرگوں یا محلے کے بڑوں کے ذریعے  )کوشش کرکے شوہر کو طلاق دینے پر آمادہ کیا جائےاور اگر وہ طلاق پر آمادہ نہ ہو  تو شوہر کے اس ظلم کی بنیاد پر آپ شوہر سےکسی   عوض مثلا مہر وغیرہ کے بدلے خلع کا مطالبہ کرسکتی  ہیں۔ تاہم  شوہر کے  قصوروار ہونے کی وجہ سے اس کے لئے طلاق کے بدلے کوئی عوض لینا جائز نہیں ہو گا۔

پھر اگر شوہر نہ طلاق دینے پر آمادہ ہو اور نہ خلع پر،اور نہ ہی بیوی کو ساتھ رکھ کر اس پر ظلم  کرنے سے باز آنے اور حقوق ادا کرنے کے لیے تیار ہو، تو بیوی اپنے  اوپر  ہونے والے ظلم  کی بنیاد پر فسخ نکاح کا مقدمہ دائر کرسکتی  ہے، لیکن عدالت میں دو گواہوں سے اپنے دعوی کو ثابت کرنا بیوی پر لازم ہوگا۔ اس طرح گواہوں کے ذریعہ اپنا دعوی ثابت کرنے کے بعد اگر قاضی یا عدالت فسخ نکاح کا فیصلہ کردے تو وہ فیصلہ نافذ ہوگا، اور عدت گزارنے کے بعد آپ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوں گی، لیکن اگر آپ نے گواہوں کے ذریعہ شوہر کا ظلم ثابت نہیں کیا تو محض آپ کے بیان پر  عدالتی خلع کی کوئی شرعی حیثیت نہ ہوگی،کیونکہ شریعت میں عدالت کے یک طرفہ ڈگری جاری کرنے کا کوئی اعتبار نہیں۔

حوالہ جات

البقرة: 229

فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ.

أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية (ص: 165)

وأما القاضي فلا يطلق الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب و التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه.

حاشية ابن عابدين (3/ 498)

قوله ( وإلا بانت بالتفريق ) لأنها فرقة قبل الدخول حقيقة فكانت بائنة ولها كمال المهر وعليها العدة لوجود الخلوة الصحيحة ,بحر , قوله ( من القاضي إن أبى طلاقها ) أي إن أبى الزوج لأنه وجب عليه التسريح بالإحسان حين عجز عن الإمساك بالمعروف فإذا امتنع كان ظالما فناب عنه وأضيف فعله إليه.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی

15/رجب 6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب