| 86544 | حج کے احکام ومسائل | احرام اور اس کے ممنوعات کا بیان |
سوال
احرام باندھ کر تلبیہ وغیرہ پڑھنے کے بعددورانِ عمرہ اگر کسی خاتون کو حیض آجائے ،اب وہ حرم مکہ داخل ہو کر فی الحال عمرہ تو نہیں کر سکتی لیکن اگروہ مدینہ اسی احرام میں نکل کر وہاں کے مقدسات کی زیارت کرےاور پاک ہو کر اسی احرام میں واپس آئےتو کیا عمرہ ادا ہوجائے گا؟اس پر کوئی دم ہے یا نہیں؟
تنقیح:سائل نے وضاحت کی کہ اگر حائضہ خاتون احرام کھلے بغیر مکہ سے مدینہ چلی جائے اور حیض سے پاک ہونے کے بعد مکہ آئے اور بقیہ افعال مثلاً طواف وغیرہ ادا کردے،توعمرہ اداہوجائےگا یانہیں؟نیزاگرمکہ میں احرام کھول دیں اور مدینہ جائے توکیاحکم ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اگر وقت ہےتو حائضہ خاتون کو مکہ میں انتظار کرکے پاکی حاصل ہونے کے بعد عمرہ اداکرنا چاہیے۔ اگر احرام کی حالت ہی میں یہ مدینہ منورہ چلی جائےاور احرام کی پابندیوں کا خیال رکھےاور واپسی پر اسی سابقہ احرام کے ساتھ عمرہ کر لے تو اس سے بھی عمرہ ادا ہوجائےگا۔مکہ مکرمہ میں بغیر عمرہ کیے احرام کھولنا جائز نہیں۔اگر کھول دیا تو اس پر دم (چھوٹا جانور یا بڑے جانور کا ساتواں حصہ ) لازم ہوگا۔
حوالہ جات
أخرج الإمام البخاري رحمہ اللہ ،عن عائشة رضي اللہ عنھا، قالت:خرجنا موافين لهلال ذي الحجة، فقال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: "من أحب أن يهل بعمرة فليهلل، فإني لولا أني أهديت لأهللت بعمرة". فأهل بعضهم بعمرة وأهل بعضهم بحج، وكنت أنا ممن أهل بعمرة، فأدركني يوم عرفة وأنا حائض، فشكوت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال:"دعي عمرتك، وانقضي رأسك"، وامتشطي وأهلي بحج). ففعلت، حتى إذا كان ليلة الحصبة، أرسل معي أخي عبد الرحمن بن أبي بكر، فخرجت إلى التنعيم، فأهللت بعمرة مكان عمرتي.قال هشام: ولم يكن في شيء من ذلك، هدي ولا صوم ولا صدقة.(البخاري:120/1،رقم الحدیث:(311
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:ثم ذكر أحكامه ...(و) يمنع حل (دخول مسجد و) حل (الطواف) ولو بعد دخولها المسجد وشروعها فيہ.(الدرالمختارمع الرد:(291,292/1
قال أصحاب الفتاویٰ الھندیۃ رحمھم اللہ:ولو اعتمر في أشهر الحج، ثم عاد إلى أهله قبل أن يحل منها وألم بأهله وهو محرم، ثم عاد بذلك الإحرام، فأتم عمرته ثم حج من عامه ذلك، يكون متمتعا بالإجماع.
(الفتاویٰ الھندیۃ:(238/1
وقال رحمھم اللہ أیضاً: الأحكام التي يشترك فيها الحيض والنفاس .....(ومنها) حرمة الطواف لهما بالبيت وإن طافتا خارج المسجد . (الفتاویٰ الھندیۃ:( 38/1
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:فالمراد بقولہ: "إذا أراد الحج أو العمرة" إذا أراد مکة ...ولیس المراد بمکة خصوصھا؛ بل قصد الحرم مطلقاً موجب للإحرام کما مر قبیل فصل الإحرام ،وصرح بہ فی الفتح وغیرہ.(ردالمحتارعلی الدر (579/2:
جمیل الرحمٰن بن محمدہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
18رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


