03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدین سے میراث میں ملنے والا مال اور جہیز بیوی کی ملکیت ہے
86480وکیل بنانے کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

میرے  والدین کی میراث میں سے  مجھے دس لاکھ روپے ملےتھے، شوہر نے مجھ سے یہ کہہ کر یہ رقم لی کہ وہ  گھر خریدے گا، لیکن اس نے اس رقم سے  اپنے لیے گاڑی خرید لی،بعد میں  وہ گاڑی چوری ہوگئی، گاڑی کی ریکوری پر ڈیڑھ دو لاکھ روپے خرچ ہوگئے ، گاڑی کی حالت خراب ہونے کی وجہ سے ساڑھے پانچ یا چھ لاکھ میں بیچ  کر  رقم اس نے اپنے اوپر خرچ کی۔وہ  کہتا ہے میں نے مفتیوں سے معلوم کیا ہے کہ یہ رقم  آپ کے ذمہ دینا لازم نہیں۔ تاہم اس نے 3 لاکھ روپے دے دیئے ہیں، باقی کے بارے میں کہہ رہا ہے کہ میں  اپنی مرضی سے تھوڑے تھوڑے دوں گا، جبکہ میرا مطالبہ یہ ہے کہ مجھے فوری طور پریہ رقم دی جائے، کیا میں اس پوری  رقم کافی الحال  مطالبہ کرسکتی ہوں ؟ میرے جہیز کے سامان  (واشنگ مشین اور فرنیچر) کو اس نے میری اجازت سے بیچا، لیکن اس کی رقم میری اجازت کے بغیر خود استعمال کرلی، کیا بیچے گئے سامان کی رقم کا میں مطالبہ کرسکتی ہوں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جو جائیداد عورت کو اپنے والدین سے وراثت میں ملتی ہے،وہ جائیداد  بلا شرکتِ غیر عورت کی  ملکیت ہوتی  ہے۔عورت  جس طرح چاہے  اس جائیداد میں  جائز تصرف کرنے کا حق رکھتی ہے۔نیزبیوی کو وراثت میں ملنے والی جائیدادپر بیوی کی زندگی میں شوہر کا کوئی حق نہیں ہے۔

مذکورہ صورت میں چونکہ  شوہر آپ کے لئے گھر خریدنے کا وکیل تھا ،اورشوہر نے گھر خریدنے کے بجائے گاڑی خریدلی ،جس سےآپ (مؤکل) کی  مخالفت  لازم ہوگئی،لہٰذا یہ خریداری شوہر کے لئے ہی شمار ہوگی، اور شوہر آپ کے دس لاکھ روپے کا ضامن ہوگا ،جبکہ شوہر کا یہ کہنا کہ" یہ پیسے  میرے ذمہ دینا لازم نہیں"  شرعاًدرست نہیں۔ شوہر کے ذمے واجب دس لاکھ  میں سے آپ تین لاکھ وصول کرچکی ہیں ،بقیہ سات لاکھ روپے شوہر کے ذمے  واجب الاداءہیں، جس کا مطالبہ آپ فی الحال بھی کرسکتی ہیں ،اور مؤخر بھی کرسکتی ہیں ۔

اسی طرح  جہیز کا  وہ سامان جو شوہر نے بیچا ہے وہ بھی آپ کی ہی ملکیت ہے ،کیونکہ  عرف میں جہیزکا سامان دلہن کو مالک بناکردیا جاتا ہے نہ کہ عاریتاً، لہٰذا اس نے جو جہیز کا سامان بیچا ہے اس کی قیمت  کےمطالبے کا  آپ کو  حق ہے،اور  شوہر پر  اس سامان کی قیمت واپس کرنا لازم ہے ۔

حوالہ جات

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 579):

إذا خالف الوكيل في الجنس، يعني لو قال الموكل: اشتر من الجنس الفلاني. واشترى الوكيل من غيره، لا يكون نافذا في حق الموكل وإن كانت فائدة الشيء الذي اشتراه أزيد يعني يبقى المال الذي اشتراه الوكيل له ولا يكون مشترى للموكل) الضابط الأول - ليس للوكيل بالشراء المخالفة في الجنس، وإن فعل فلا ينفذ في حق موكله.وإن لم يكن شراء الوكيل نافذا على موكله في أي وقت فهو نافذ على الوكيل ولو أجاز الموكل لا يكون المشترى للموكل ولو أجاز بعد ذلك (التنقيح) ؛ لأن الإجازة تلحق العقود الموقوفة على ما هو مذكور في شرح المادة (1453) وليس العقود النافذة.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (3/ 567):

(وأما صفتها) فإنها من العقود الجائزة الغير اللازمة حتى ملك كل واحد من الوكيل والموكل العزل بدون صاحبه كذا في النهاية ومنه ‌أنه ‌أمين ‌فيما ‌في ‌يده ‌كالمودع فيضمن بما يضمن به المودع ويبرأ به.

 مجلة الأحكام العدلية (ص281):

المادة (1452) الإذن والإجازة توكيل.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 585)

فإن كل أحد يعلم أن الجهاز ملك المرأة وأنه إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها ولا يختص بشيء منه.

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی

15/رجب 6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب