| 86499 | ایمان وعقائد | کفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان |
سوال
ایک بندے سے خطا(غلطی) ہوگئی تو اس نے انجانے میں یہ کہہ دیا کہ خطاء(لغزش) تو انبیاء کرام سے بھی ہوتی ہے تو کیا اب یہ بندہ اس بات پر مجرم ہے یا نہیں؟ پورا حوالہ دیجئے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خطاء(لغزش /غلطی)کا لفظ عربی زبان بالخصوص قرآن وحدیث میں لغزش اور بھول چوک کے علاوہ گناہ کے معنی میں بھی استعمال ہواہے، انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام نبوت سے پہلے اور نبوت کے بعد ہر قسم کے کبیرہ گناہ کےعمدا(بالقصد)ارتکاب سے معصوم ہوتے ہیں اوراس پرعلماء امت کا اجماع ہے،جبکہ صغائر کےسہوا یا عمداوقوع میں اگرچہ اختلاف ہے،لیکن راجح اور محقق بات یہی ہے کہ انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام نبوت سے پہلے اوربنوت کے بعد تمام کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کے عمدا اور سہواہر طرح کے ارتکاب سے معصوم ہوتے ہیں۔
لہذاانبیاء علیھم الصلوۃ والسلام کی طرف خطاء (غلطی) کی صرف لغزش کےمعنی میں نسبت گناہ نہیں اور نہ ہی اس سے کفر لازم آتا، لیکن ہر موقع اور بے موقع ایسی بات کرنا بے باکی کے زمرے میں ضرور داخل ہے،لہذا اس سے احتراز کی ضرورت ہے،اور اختلاف علماء کے باعث صغائر کی انبیاءکرام علیھم الصلوۃ والسلام کی طرف نسبت کرنے میں راجح یہی ہے کہ کفر نہیں،لیکن قائل کی تکفیر میں اختلاف کے باعث ایسی بات ایمان کے لیےخطرناک ضرورہے،جس سے احتراز واجتناب ضروری ہے،جبکہ انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام کی طرف گناہ کبیرہ اور معصیت کےقصداارتکاب کی نسبت کفر ہے۔
لہذا اگر کسی نےخطاء کی نسبت عمدا گناہ کبیرہ کرنےکی نیت سے یا کسی کبیرہ گناہ اور معصیت کےقصدا وعمداارتکاب کے موقع پرجان بوجھ کر ایسا کلام کہا ہو تو یہ کفر ہے،جس سے توبہ واستغفار کے علاوہ تجدیدایمان و نکاح بھی ضروری ہےاورجہالت وناواقفیت کی صورت میں ایسا کلام باعث کفرتونہیں،لیکن گناہ ضرور ہے،جس سے توبہ واستغفار کے علاوہ آئندہ کے لیے سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔لان الجھل عذر فی باب المکفرات علی ماعلیہ الفتوی۔ (رسائل ابن عابدین:ج۱،ص۳۰۷)
اس بارے میں مزید تفصیل اہل علم حضرات علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی کے رسالہ" رفع الاشتباہ عن عبارۃ الاشباۃ "میں ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية - (ج 17 / ص 144)
سئل عمن ينسب إلى الأنبياء الفواحش كعزمهم على الزنا ونحوه الذي يقوله الحشوية في يوسف عليه السلام قال : يكفر ؛ لأنه شتم لهم واستخفاف بهم قال أبو ذر من قال : إن كل معصية كفر ، وقال : مع ذلك أن الأنبياء عليهم السلام عصوا فكافر ؛ لأنه شاتم ، ولو قال : لم يعصوا حال النبوة ولا قبلها كفر ؛ لأنه رد المنصوص .(وقداجاب العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی عن ھذہ الجزئیۃ فی رسالتہ المسماۃ" رفع الاشتباہ عن عبارۃ الاشباۃ "فاجاب واجاد رحمہ اللہ تعالی)
الفتاوى الهندية - (ج 17 / ص 149)
ولو قال : كل معصية كبيرة إلا معاصي الأنبياء فإنها صغائر لم يكفر ومن قال : إن كل عمد كبيرة وفاعله فاسق ، وقال مع ذلك إن معاصي الأنبياء كانت عمدا فقد كفر ؛ لأنه شتم ، وإن قال : لم تكن معاصي الأنبياء عمدا ، فليس بكفر كذا في اليتيمة .
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۸رجب۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


