| 86615 | حدیث سے متعلق مسائل کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
ایک روایت میں آتا ہے کہ "صوموا تصحّوا" اس حدیث مبارکہ کا کیا درجہ ہے؟ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ اگر صحیح ہے تو اس کا مطلب بھی بیان کر دیجیے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یہ روایت تین مختلف طرق سے مروی ہے، اس روایت پر ائمہ متقدمین اور متاخرین کی طرف سے لگایا گیا حکم کہیں نہیں ملا، اس لیے اس کی اسنادی حیثیت جاننے کے لیے ان تینوں طرق کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
پہلا طریق:
اس روایت کے پہلے طریق کو امام طبرانی اور ابونعیم اصبہانی رحمہما اللہ نے درج ذیل سند کے ساتھ ذکر کیا ہے:
المعجم الأوسط (8/ 174، الترجمة: 8312) دار الحرمين، القاهرة:
حدثنا موسى بن زكريا، نا جعفر بن محمد بن فضيل الجزري، نا محمد بن سليمان بن أبي داود، نا زهير بن محمد، عن سهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اغزوا تغنموا، وصوموا تصحوا، وسافروا تستغنوا»[1]
اس سند میں زہیر بن محمد کے علاوہ تمام راوی ثقہ ہیں، زہیر بن محمد کے بارے میں ائمہ کرام رحمہم اللہ کا اختلاف ہے، بعض حضرات نے ان کی توثیق کی ہے، چنانچہ امام یحی بن معین رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ "ثقة" اور"صالح لا بأس بہ"، امام احمد بن عبداللہ عجلی نے "جائز الحدیث"، صالح بن محمد بغدادی نے "ثقة صدوق"فرمایا، امام يعقوب بن ابی شيبہ نے "صدوق صالح الحديث" فرمایا۔ اور دیگر بعض ائمہ کرام نے توثیق اور تضعیف دونوں طرح کے الفاظ نقل کیے ہیں، چنانچہ امام نسائی رحمہ اللہ نے ایک جگہ "ضعیف"، ایک جگہ"لیس بالقوی" اور ایک جگہ "لیس بہ بأس" فرمایا، امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے"محله الصدق، وفي حفظه سوء، وكان حديثه بالشام، أنكر من حديثه بالعراق لسوء حفظه، فما حدّث من حفظه ففيه أغاليط، وما حدّث من كتبه فهو صالح" امام ابو زرعہ رحمہ اللہ نے اس کو ضعفاء میں شامل فرمایا اور امام یحی بن معین رحمہ اللہ نے بھی ایک مرتبہ اس کو ضعیف کہا، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کو ثقہ قرار دیا اور اس کے بعد لکھا کہ یہ کبھی غریب اور منکر احادیث بھی بیان کرتے ہیں۔ امام ابواحمد بن عدی نے فرمایا:"ولعل أهل الشام أخطأوا عليه"، اسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے بھی فرمایا کہ اہلِ شام کی ان سے لی گئی روایات میں خطا واقع ہوئی ہے۔
مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ اس راوی کے بارے میں آراء مختلف ہیں، البتہ اکثریت کی رائے یہ ہے کہ ان سے اہلِ شام نے جو روایات لی ہیں ان میں خطا کا احتمال ہے، جس کی وجہ امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے یہ بیان کی ہے کہ یہ شام میں زبانی حدیثیں بیان کرتے تھے، اس لیے ان میں غلطی واقع ہوئی اور سوال میں ذکر کی گئی روایت بھی اہل شام نے ان سے نقل کی ہے، کیونکہ محمد بن سلیمان بن ابی داود اہل شام میں سے ہیں، چنانچہ امام طبرانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "مسند الشامیین" میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔ شاید اسی لیےعلامہ زین الدین عراقی رحمہ اللہ نے اس روایت پر ضعف کا حکم لگایا ہے۔
البتہ اس پر سوال یہ ہے کہ علامہ نور الدین ہیثمی رحمہ اللہ نے مجمع الزوائد میں اس روایت کو نقل کر کے "رجالہ ثقات" کی تصریح کی ہے، نیز امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ سمیت کتبِ ستہ کے مصنفین نے اس راوی کی روایات ذکر کی ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس راوی کی ثقاہت پر یہ سب حضرات متفق ہیں۔ تو اس کا جواب یہ کہ روایت کی صحت کے لیےرواة کا مطلقاًثقہ ہونا کافی نہیں، بلکہ اس سے مروی روایت میں اس کی ثقاہت کا اعتبار ہوتا ہے، لہذا یہ راوی اگرچہ اپنی ذات میں ثقہ ہے، مگر اکثر ائمہ کرام رحمہم اللہ کے نزدیک اہلِ شام کے واسطہ سے مروی روایات میں یہ راوی ضعیف الضبط ہے، اس ليے مذكوره بالا روايت پر سندا صحیح یا حسن كا حكم لگانا مشكل ہے، اگرچہ اس کی دیگر مرویات پر مذکورہ وجہ نہ پائے جانے کی وجہ سے ضعف کا حکم نہیں لگے گا، لہذا حضراتِ شیخین رحمہما اللہ نے ان سے جو روایات لی ہیں ان پر صحت کا حکم لگایا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ روایات اہل شام کے واسطہ سے مروی نہیں، بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے عبد الملك بن عمرو کے واسطہ سے اور امام مسلم رحمہ اللہ نے یحی بن ابی بکیر کے واسطہ سے ان کی روایات لی ہیں اور یہ دونوں شام کے رہنے والے نہیں تھے، بلکہ عبد الملك بن عمرو بصرہ کے اور یحی بن ابی بکیر بغداد کے رہنے والے تھے۔
تهذيب الكمال في أسماء الرجال لجمال الدین المزی (9/ 417) مؤسسة الرسالة، بيروت:
وقال أبو بكر بن أبي خيثمة، عن يحيى بن معين: صالح لا بأس به . وقال عثمان بن سعيد الدارمي، عن يحيى: ثقة. وقال معاوية بن صالح، عن يحيى: ضعيف. وقال أحمد بن عبد الله العجلي: جائز الحديث. وذكره أبو زرعة في أسامي الضعفاء. وقال أبو حاتم : محله الصدق، وفي حفظه سوء، وكان حديثه. بالشام، أنكر من حديثه بالعراق لسوء حفظه، فما حدث من حفظه ففيه أغاليط، وما حدث من كتبه فهو صالح. وقال عثمان بن سعيد الدارمي، وصالح بن محمد البغدادي: ثقة صدوق. زاد عثمان: وله أغاليط كثيرة. وقال البخاري: ما روى عنه أهل الشام فإنه مناكير، وما روى عنه أهل البصرة فإنه صحيح. وقال النسائي: ضعيف. وقال في موضع آخر: ليس بالقوي. وقال في موضع آخر: ليس به بأس، وعند عمرو بن أبي سلمة عنه مناكير. وقال يعقوب بن شيبة: صدوق صالح الحديث. وقال أبو عروبة الحراني: كان أحاديثه فوائد. وقال أبو أحمد بن عدي: ولعل أهل الشام أخطأوا عليه، فإنه إذا حدث عنه أهل العراق فرواياتهم عنه شبه المستقيمة، وأرجو أنه لا بأس به. ذكر أبو الحسين بن قانع أنه مات سنة اثنتين وستين ومئة . روى له الجماعة.
تقريب التهذيب لابن حجر العسقلاني(ص: 217، الترجمة: 2049) دار الرشيد، سوريا:
زهير ابن محمد التميمي أبو المنذر الخراساني سكن الشام ثم الحجاز [ثقة إلا أن] رواية أهل الشام عنه غير مستقيمة فضعف بسببها قال البخاري عن أحمد كأن زهيرا الذي يروي عنه الشاميون آخر وقال أبو حاتم حدث بالشام من حفظه فكثر غلطه من السابعة مات سنة اثنتين وستين ع.[2]
الجرح والتعديل لابن أبي حاتم (3/ 590) دار إحياء التراث العربي،بيروت:
حدثنا عبد الرحمن أنا إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني فيما كتب إلي قال سمعت أحمد بن حنبل يقول: زهير بن محمد الخراساني مستقيم الحديث.
حدثنا عبد الرحمن أخبرنا ابن أبي خيثمة فيما كتب إلي قال سمعت يحيى بن معين يقول: زهير بن محمد الخراساني صالح.
حدثنا عبد الرحمن قال سألت أبي عن زهير بن محمد قال: محله الصدق وفي حفظه سوء وكان حديثه بالشام أنكر من حديثه بالعراق لسوء حفظه وكان من اهل خراسان سكن المدينة وقدم الشام فما حدث من كتبه فهو صالح وما حدث من حفظه ففيه اغاليط.[3]
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (3/ 179، الحدیث: 5070) لنور الدين الهيثمي مكتبة القدسي، القاهرة:
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اغزوا تغنموا وصوموا تصحوا وسافروا تستغنوا». رواه الطبراني في الأوسط، ورجاله ثقات.
تخريج أحاديث الإحياء لزين الدين العراقي(ص: 973) دار ابن حزم، بيروت:
حديث «صوموا تصحوا»
أخرجه الطبراني في الأوسط وأبو نعيم في الطب النبوي من حديث أبي هريرة بسند ضعيف.
دوسرا طریق:
دوسرے طریق کو امام ابواحمد بن عدی رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے درج ذیل سند کے ساتھ نقل کیا ہے:
الكامل في ضعفاء الرجال (8/ 324) دار الكتب العلمية – بيروت:
حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن علي القرشي، حدثنا محمد بن رجاء السندي، حدثنا محمد
بن معاوية النيسابوري، حدثنا نهشل بن سعيد عن الضحاك، عن ابن عباس قال رسول الله صلى الله عليه وسلم سافروا تصحوا وصوموا تصحوا واغزوا تغنموا.
اس روایت کی سند میں نہشل بن سعید بن وردان نیشاپوری نامی راوی پر ائمہ کرام رحمہم اللہ نے شدید جرح کی ہے، چنانچہ اس کو امام یحی بن معین رحمہ اللہ نے "لیس بثقة"، امام نسائی نے"متروک الحدیث"، امام اسحاق بن راہویہ اور امام ابوداود طیالسی نے "کذاب" اور امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے "ليس بقوى، متروك الحديث، ضعيف الحديث" کے الفاظ سے جرح کی ہے۔ اس لیے یہ طریق سند کے اعتبار سے معتبر نہیں۔
الكامل في ضعفاء الرجال (8/ 323، الرقم: 1986) دار الكتب العلمية – بيروت:
نهشل بن سعيد بن وردان أصله نيشابوري بصري، يكنى أبا عبد الله.
حدثنا ابن حماد، حدثنا معاوية، عن يحيى، قال: نهشل الخراساني يروى عن الضحاك ليس ثقة. حدثنا ابن حماد، حدثنا عباس، عن يحيى، قال نهشل ليس بشيء. حدثنا الجنيدي، حدثنا البخاري قال نهشل القرشي نيسابوري عن الضحاك روى بن نمير عن معاوية البصري قال إسحاق كان كذابا. سمعت ابن حماد يقول: قال السعدي نهشل بن سعيد غير محمود في حديثه. وقال النسائي نهشل عن الضحاك خراساني متروك الحديث.
الجرح والتعديل لابن أبي حاتم (8/ 496، الرقم: 2267) دار إحياء التراث العربي – بيروت:
نهشل بن سعيد بن وردان النيسابوري روى عن الضحاك روى عنه معاوية النصرى ورواد بن الجراح والعلاء ابن صالح سمعت أبي يقول ذلك.
نا عبد الرحمن نا اسيد بن عاصم قال: سمعت عامر بن ابراهيم قال قال أبو داود الطيالسي: نهشل كذاب.
نا عبد الرحمن قال قرئ على العباس بن محمد الدوري قال سمعت يحيى بن معين يقول: نهشل الخراساني الذى يروى عن الضحاك ليس بشئ، روى عنه ابن نمير.
نا عبد الرحمن قال سمعت ابى يقول قال اسحاق بن راهويه نشهل كذاب.
ثنا عبد الرحمن قال سألت ابى عن نهشل الذى يروى عن الضحاك فقال: ليس بقوى، متروك الحديث، ضعيف الحديث.
نا عبد الرحمن قال سئل أبو زرعة عن نهشل بن سعيد فقال: خراساني ضعيف.
الكاشف لشمس الدين الذهبي (2/ 327، الرقم: 5884) مؤسسة علوم القرآن، جدة:
نهشل بن سعيد الخراساني عن الضحاك والربيع بن أنس وعنه رواد بن الجراح وابن نمير واه ق.
دوسرا طریق:
اس روایت کے تیسرے طریق کو امام ابواحمد بن عدی رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل سند کے ساتھ نقل کیا ہے:
الكامل في ضعفاء الرجال (3/ 227) الكتب العلمية – بيروت:
حدثنا محمد بن روح بن نصر، حدثنا أبو الطاهر، قال: حدثنا أبو بكر بن أبي أويس عن حسين بن عبد الله، عن أبيه، عن جده عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الله عليه وسلم قال: صوموا تصحوا.
اس طریق میں موجودحسين بن عبد الله بن ضمیرة نامی راوی پر ائمہ کرام رحمہم اللہ نے شدید جرح کی ہے، چنانچہ امام یحی بن معین اور امام ابوزرعہ رازی رحمہما اللہ نے اس پر" لیس بشئی"، امام احمد بن حنبل اور امام نسائی رحمہما اللہ نے"متروک الحدیث"، امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے "متروك الحديث، كذاب" اور امام یحی بن معین رحمہ اللہ نے بعض مرتبہ"لیس بثقة"کے الفاظ سے جرح کی ہے اور یہ تمام جرح شدید کے الفاظ ہیں، اس لیے یہ طریق بھی سند کے اعتبار سے معتبر نہیں۔
الجرح والتعديل لابن أبي حاتم (3/ 58) دار إحياء التراث العربي، بيروت:
حدثنا عبد الرحمن نا محمد بن حمويه بن الحسن قال سمعت أبا طالب يقول سألت أحمد بن حنبل عن حسين بن عبد الله بن ضميرة قال: متروك الحديث.
حدثنا عبد الرحمن قال قرئ على العباس بن محمدالدوري قال سمعت يحيى بن معين يقول: الحسين بن ضميرة بن أبي ضميرة ليس بشئ.
حدثنا عبد الرحمن سمعت أبي يقول: ترك الناس حديث الحسين بن ضميرة وهو عندي متروك الحديث كذاب.
حدثنا عبد الرحمن قال سئل أبو زرعة عن الحسين بن عبد الله بن ضميرة فقال: ليس بشئ ضعيف الحديث، اضرب على حديثه.
الكامل في ضعفاء الرجال (3/ 225، الرقم: 488) دار الكتب العلمية، بيروت:
حسين بن عبد الله بن ضميرة بن أبي ضميرة الحميري مدني. ويقال اسم ضميرة سعيد
حدثنا ابن أبي عصمة، حدثنا أبو طالب، قال: سألت أحمد بن حنبل عن حسين بن عبد الله بن ضميرة فقال متروك الحديث.
حدثنا ابن حماد، حدثني عبد الله بن أحمد، قال: سمعت أبي يقول حسين بن ضميرة وكثير بن عبد الله بن عمرو جميعا متقاربان لا يسويان شيئا.
حدثنا علي بن أحمد بن سليمان، حدثنا ابن أبي مريم سمعت يحيى بن معين يقول حسين بن عبد الله بن ضميرة ليس بثقة، ولا مأمون.
حدثنا محمد بن علي، حدثنا عثمان بن سعيد، قال: سألت يحيى بن معين عن حسين بن ضميرة فقال ليس بشيء.
حدثنا ابن حماد، وابن أبي بكر، قالا: حدثنا عباس، قال: سمعت يحيى يقول: حسين بن ضميرة كذاب ليس حديثه بشيء.
سمعت ابن حماد يقول: قال البخاري حسين بن عبد الله بن ضميرة واسم ضميرة سعيد الحميري من آل ذي قرن مديني، عن أبيه، عن جده منكر الحديث روى عنه زيد بن الحباب وقال عمرو بن علي حسين بن عبد الله بن ضميرة متروك الحديث.
وسمعت ابن حماد يقول: قال السعدي بن ضميرة لا ينبغي أن يحدث عنه. وقال النسائي الحسين بن ضميرة متروك الحديث.
حاصلِ بحث:
پیچھے ذکر کی گئی تفصیل کا حاصل یہ ہے کہ سوال میں مذکور روایت کا دوسرا اور تیسرا طریق سند کے اعتبار سے احکام اور فضائل دونوں میں ناقابلِ اعتبار ہے، البتہ پہلے طریق میں ضعفِ شدید نہیں ہے، اس لیے فضائل کے باب میں یہ روایت معتبر اور قابلِ عمل ہے۔ جہاں تک اس روایت کے معنی کا تعلق ہے تو علامہ مناوی رحمہ اللہ نے فیض القدیر میں اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ روزہ رکھنے سے جسمانی طور پر آدمی کی صحت درست رہتی ہے اور غوروفکرکرنے کی وجہ سے عقل اور فہم میں بھی اضافہ ہوتا ہے، اسی طرح امام ابونعیم اصفہانی رحمہ اللہ نے اس روایت کےاوپر باب کےعنوان میں "الصوم مصحّة" کے الفاظ ذکر کیے ہیں، اس سے بھی یہی مطلب سمجھ میں آتا ہے کہ روزہ صحت کو بحال رکھنے والا ہے۔
[1] الطب النبوي لأبي نعيم الأصفهاني (1/ 236،الحديث: 113) دار ابن حزم،بيروت:
حدثنا إسحاق بن أحمد بن علي، حدثنا إبراهيم بن يوسف بن خالد، حدثنا إسحاق بن زيد الخطابي، حدثنا محمد بن سليمان بن أبي داود، حدثنا زهير بن محمد، عن سهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صوموا تصحوا.
[2] الكاشف للذهبي (1/ 408،الترجمة: 1666) دار القبلة للثقافة الإسلامية، مؤسسة علوم القرآن، جدة:
زهير بن محمد التميمي المروزي أبو المنذر جاور ونزل الشام عن عمرو بن شعيب وابن أبي مليكة وابن المنكدر وعنه بن مهدي ويحيى بن أبي بكير ثقة يغرب ويأتي بما ينكر توفي 162 ع.
الضعفاء الكبير للعقيلي (2/ 92) دار المكتبة العلمية – بيروت:
ومن حديثه ما حدثناه أحمد بن محمد النصيبي قال: حدثنا إسحاق بن زيد الخطابي قال: حدثنا محمد بن سليم قال: حدثنا زهير بن محمد أبو المنذر قال: حدثنا سهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «اغزوا تغنموا، وصوموا تصحوا، وسافروا تصحوا» لا يتابع عليه إلا من وجه فيه لين.
[3] سير أعلام النبلاء ط الحديث (7/ 238، رقم الترجمة: 1197) الناشر: دار الحديث- القاهرة:
- زهير بن محمد 1: "ع"التميمي، الحافظ، المحدث، أبو المنذر المروزي، الخرقي -بفتحتين- من قرية خرق، الخراساني، نزيل الشام، ثم نزيل مكة. وقيل: إنه هروي.
وقال عثمان الدارمي: ثقة، له أغاليط......... وروى أحمد بن زهير، عن يحيى: ثقة. وقال مرة: صالح. وقال عباس: سمعت يحيى يقول: زهير بن محمد ثقة. وروى حنبل، عن أحمد: ثقة. وقال ابن أبي حاتم: سألت أبي عنه، فقال: محله الصدق، وفي حفظه سوء، وما حدث به من كتبه فهو صالح. وقال ابن عدي: أرجو أنه لا بأس به. وقال ابن نافع: توفي سنة اثنتين وستين ومائة.
حوالہ جات
فيض القدير (4/ 212، الحديث: 5060) المكتبة التجارية الكبرى، مصر:
(صوموا تصحوا) قال الحرالي: فيه إشعار بأن الصائم يناله من الخير في جسمه وصحته ورزقه حظ وافر مع عظم الأجر في الآخرة ففيه صحة للبدن والعقل بالتهيئة للتدبر والفهم وانكسار النفس إلى رتبة المؤمنين والترقي إلى رتبة المحسنين وللمؤمن غذاء في صومه من بركة ربه بحكم يقينه فيما لا يصل إليه من لم يصل إلى محله فعلى قدر ما يستمد بواطن الناس من ظواهرهم يستمد ظاهر المؤمن من باطنه حتى يقوى في أعضائه بمدد نور باطنه كما ظهر ذلك في أهل الولاية والديانة وفي الصوم غذاء للقلب كما يغذي الطعام الجسم ولذلك أجمع مجربة أعمال الديانة من الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه على أن مفتاح
الهدى والصحة الجوع لأن الأعضاء إذا وهنت لله نور الله القلب وصفى النفس وقوي الجسم ليظهر من أمر الإيمان بقلب العادة جديد عادة هي لأوليائه أجل في القوى من عادته في الدنيا لعامة خلقه.
الطب النبوي لأبي نعيم الأصفهاني (1/ 236، رقم الحديث: 113) الناشر: دار ابن حزم:
باب تدبير الصحة وأن الصوم مصحة:
حدثنا إسحاق بن أحمد بن علي، حدثنا إبراهيم بن يوسف بن خالد، حدثنا إسحاق بن زيد الخطابي، حدثنا محمد بن سليمان بن أبي داود، حدثنا زهير بن محمد، عن سهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صوموا تصحوا.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
21/رجب المرجب 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


