03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اجیرخاص کی مستاجر کے حق میں گواہی کا حکم
86658دعوی گواہی کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:

مدعی عابد خان اور مدعی علیہ محمد یونس کے درمیان تنازعہ بابت اراضی کا ہے،مدعی(عابد خان) کا دعویٰ ہے کہ مدعی علیہ(محمد یونس) نے اپنی خریدی ہوئی سو فٹ زمین میں سے بیس فٹ اس کو فروخت کی ہے،جس پر وہ دلیل کے طور پر ایک اسٹامپ پیپر پیش کررہا ہے کہ میرا اور مدعی علیہ محمد یونس کا اس پر فیصلہ ہوا تھا،لیکن مدعی علیہ اس کا انکار کر رہا ہے کہ میرے اور مدعی عابد خان کے درمیان کوئی فیصلہ نہیں ہوا،دوسری طرف عابد خان نے جو اسٹامپ پیپر پیش کیا ہے تو اس پر گواہ بننے والے اس کے اجیر خاص ہیں،سوال یہ ہے کہ کیا اجیر خاص کا مستاجر کے لیے گواہ بننا شرعاً درست ہے یا نہیں اور اس معاملہ میں مدعی عابد خان کے اجیر خاص اس کے لیے گواہ بن سکتے ہیں یا نہیں؟ شرعاً راہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اجیر خاص کی گواہی مستاجر کے حق میں قبول نہیں ہوتی،اس لئے مذکورہ صورت میں مدعی عابدخان کے حق میں ان کے اجیر خاص کی گواہی قابل قبول نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية "(3/ 470):

"ولا تجوز شهادة الأجير لأستاذه أراد به التلميذ الخاص، وهو الذي يأكل معه وفي عياله وليس له أجرة معلومة، أما الأجير المشترك إذا شهد للمستأجر تقبل، أما الأجير الواحد، وهو الذي استأجره مياومة أو مشاهرة، أو مسانهة بأجرة معلومة لا تقبل استحسانا، كذا في الخلاصة".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

19/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب