03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
.مجبوری کا فائدہ اٹھاکر کوئی چیز سودا کرنا
86476سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

  میں نے کچھ دنوں کی مدت پر ایک گاڑی   300000 لاکھ روپے پر بیچ دی ، مثلا ایک ہفتے کی مدت پر ، ایک ہفتے کے بعد جب میں پیسے وصول کرنے گیا ،تو اس شخص نے کہا : میرے پاس پیسے نہیں ہیں،   میں یہ گاڑی   بیچنا چاہتا ہوں، میں مجبور ہوں ۔ اب میں اس گاڑی کو کم قیمت پر خریدنا چاہتا ہوں ، 200000 لاکھ روپے پر ، تو کیا 200000 لاکھ روپے پر میرے لئے یہ خریدنا جائز ہے ؟کیونکہ مجھے اس میں نفع ہے اورمیں مارکیٹ کو جانتا ہوں، یعنی مارکیٹ میں نفع دیکھ کر چیز خریدتا ہوں۔  توکیامیرے لئے یہ گاڑی خریدنا جائز ہے؟ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ دوسرا الگ سودا ہے اور پہلے والا الگ ہے ،پہلے والے میں بھی نفع تھا اور دوسرے میں زیادہ نفع ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ دوبارہ سودا جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ آپ کا مقروض ہے  اور آپ اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھا رہے ہو ، شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟ تفصیل سے جواب مطلوب ہے ۔

اگر مجبوری کی بات ہے تو بعض لوگوں کو ارجنٹ  کیش کی ضرورت ہوتی ہے  تو اپنے گھر کو بیچنا چاہتے ہیں،  لوگ گھر کو سستے داموں میں خریدتے ہیں، اس صورت میں بھی   مالک مجبور ہے اور لوگ اس کی  مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ میرا سوال  یہ ہے کہ  جب یہاں  مجبوری کے باوجود  سودا ٹھیک ہے، تو میرا دوبارا اس گاڑی کو خریدنا  کیوں ٹھیک نہیں ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعا   اگر کوئی شخص  کسی کو کوئی چیز بیچ دے اور پھرقیمت کی وصولی سے پہلے دوبارہ اسی شخص سے مذکورہ چیز کو کم قیمت پر خریدے، تو یہ جائز نہیں ہے۔ یہ قرض پر سود لینےکا   ایک حیلہ ہے،جس کی صورت یہ بنتی کہ  کسی کو پیسوں کی ضرورت ہو اور دوسرا شخص اس کو قرض بھی دینا چاہے اور اس پر سود بھی لیناچا ہے   تو  وہ  اس مقصد کے لیےآسانی سے یہ طریقہ اختیار کرسکتا ہے کہ پہلے اس شخص کو کوئی چیز بیچ دے اور پھر دوبارہ اس سے کم قیمت پر خرید لے۔ اس طرح پہلے شخص کو قرض  پیسے مل جائیں گےاور دوسرے شخص کو اپنی چیز بھی واپس مل جائے گی اور وہ  دوسرے سے اضافی پیسے لینے کا حقدار بھی ہوجائے گااوریہی صورت سود کی ہوتی ہے، کہ اس میں بھی  کسی کو   اس طور پر ادھار پیسے  دیے جاتے ہیں کہ واپسی پررقم دینے والے کو  اپنے پیسے بھی اور اس پر کچھ اضافی رقم بھی وصول ہو جاتی ہے  ۔

لہذا صورت مذکورہ میں  آپ کا  دوسرے آدمی  سے  دوبارہ  اس چیز کو کم قیمت پر خرید نا  شرعا جائز نہیں ہے  ۔

    اگر آپ کوواپس لینا ہے تو اسی قیمت پر یا اس سے زیادہ قیمت پر دوبارہ  خرید سکتے ہیں یا  یہ کہ آپ  نے   پہلے والے معاملہ کی قیمت  وصول  کرلی،  پھر آپ اس کو دوبارہ  خریدنا  چاہتے ہیں تو  کمی ، زیادتی دونوں طرح سے آپ خرید سکتے ہیں، بشرطیکہ اس طرح دابارہ خریداری پہلے سے شرط نہ ہو، ورنہ یہ عکس عینہ ہوگا اور وہ بھی مفتی بہ قول پر جائز نہیں۔

باقی مجبوری میں کسی سے کم قیمت پر چیز خریدنا  اس میں  اور صورت مسئولہ  میں فرق یہ ہے کہ یہاں واپس کم  قیمت پر لینے میں قرض پر اضافہ لینے کا شبہہ پیدا ہوجاتاہےجبکہ مجبورا بیچنے والے سے خریدنے میں کوئی قرض نہیں ہوتا۔

حوالہ جات

«شرح الزيادات - قاضي خان» (3/ 839):

«على أن ‌شراء ‌ما ‌باع، أو بيع له، بأقل مما باع قبل استيفاء الثمن الأول فاسد عندنا استحسانا واعتمادنا في شراء ما باع على حديث عائشة رضي الله عنها أن امرأة جاءت إليها، وقالت: إني بعت من زيد بن أرقم جارية بثمان مائة إلى العطاء، ثم اشتريتها منه بستمائة قبل نقد الثمن، فقالت عائشة رضي الله عنها: "بئسما شريت، وبئسما اشتريت، أبلغي زيد بن أرقم أن الله تعالى أبطل حجه وجهاده مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، إن لم يتب"، ومقادير الجرائم لا تعرف إلا سماعا،»

«المحيط البرهاني» (6/ 385):

«يجب أن يعلم أن شراء ما باع الرجل بنفسه أو بيع له بأن باع وكيله بأقل مما باع ممن باع أو ممن قام مقام البائع كالوارث قبل نقد الثمن لا يجوز إذا كانت السلعة على حالها لم ينتقض بعيب، وكذلك إن بقي عليه شيء من ثمنه وإن قل، أما إذا اشترى ما باع بنفسه، فللحديث المعروف، ولأجل شبهة الربا؛»

«الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي» (1/ 219):

«وأما فساد ‌بيع ‌العينة أو بيوع الآجال، فلأنه اتخذ البيع حيلة لتحليل التعامل بالربا، ولم يكن الغرض الحق هو البيع والشراء، فهو وسيلة لعقد محرم غير مشروع، فيمنع سدا للذرائع المؤدية إلى الحرام.»«البناية شرح الهداية» (8/ 175):

«م: (قال) ش: أي محمد في " الجامع الصغير ": م: (ومن اشترى جارية بخمسمائة ثم باعها وأخرى) ش: أي وجارية أخرى م: (معها من البائع قبل أن ينقد الثمن بخمسمائة، فالبيع جائز في التي لم يشترها) ش: أي في الجارية التي لم يشترها م: (من البائع ويبطل) ش: أي البيع م: (في الأخرى) ش: أي في الجارية الأخرى.وهذه المسألة فروع المسألة المتقدمة لأنها مبنية على ‌شراء ‌ما ‌باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن»

 زاہد خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

13/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زاہد خان بن نظام الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب