03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وراثت کی تقسیم میں مالیت کے تعین کا اصول
86510میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم، میرے والد کا اگست 2020 میں انتقال ہو گیااور کچھ رقم بینک میں رہ گئی۔ اس رقم کو دوسرے  اسلامی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا ۔جس  اکاؤنٹ میں اضافہ بھی ہو تا رہا ۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس رقم کو کس طرح تقسیم کرنا چاہیے۔ کیا  رقم کی تقسیم اگست 2020 میں موجود اصل رقم کے حساب سے کرنی چاہیے، یا ہمیں موجودہ دستیاب رقم (بشمول منافع) کی بنیاد پر حساب لگانا چاہیے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسلامی بینک کے منافع حلال ہیں ۔لہذامذکورہ صورت میں ورثہ کے درمیان  اصل رقم اور منافع دونوں تقسیم کیے جائیں گے۔

حوالہ جات

في الدرر البهية :تقوم التركة الموصى بثلثها يوم اقتسامها بين الورثة والموصى له، ثم يستخرج الثلث منها للوصيةبحسب قيمتها يوم القسمة لا يوم الوفاة. (الدرر البهية من الفتاوى الكويتية: 9/ 395)

في فتاوى الشبكة الإسلامية:فإن تقسيم التركة يكون بقيمتها الحالية مع ما تحقق من أرباحها إلى ‌يوم ‌القسمة بغض النظر عن قيمتها أو قدرها يوم الوفاة.( فتاوى الشبكة الإسلامية: 14/ 617)

محمد مجاہد بن شیر حسن

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

/20رجب المرجب،1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مجاہد بن شیر حسن

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب