| 86508 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میرا نام علی اصغر ہے،2013ء میں میری شادی ہوئی ہے، گھر کا بڑا بھی میں ہی ہوں، شروع میں بہت خوشحال تھا، ماں باپ نہیں ساتھ ہیں ۔ تین تین فیکٹریوں میں کام چلتے تھے، آج تک اولاد نہیں ہوئی ہے ۔ اب دو سال سے ہر طرف سے ہر طرح کے جائز کام بند ہو چکے ہیں۔ کوئی وجہ نہیں کوئی بات نہیں۔ سب روزگار سے جواب مل چکا ہے۔ جہاں بھی اپلائی کرتا ہوں وہ بلاتے بھی ہیں، انٹرویو(Interview) میں بھی پاس ہو جاتا ہوں، مطمئن بھی ہو جاتے ہیں، پھر دوسرے ، تیسرے دن فون کرتا ہوں تو انکار کر دیتے ہیں، ہر طرح سے پریشان ہوں، کوئی راستہ ہی نہیں نکل رہا،اولاد نہ ہونے کی وجہ سے دوسری شادی کر رہا تھا، حالات بہت اچھے تھے،چھ لاکھ بھر کے رشتہ بھی لے لیا۔ وہ لڑکی بھی اپنے ماں باپ کے پاس بیٹھی ہوئی ہے۔ دو سال ہو گئے ہیں، معاشی تنگی کی وجہ سے شادی نہیں کر سکا ۔ برائے مہربانی اس صورتِ حال کا کوئی حل بتایے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
احادیثِ مبارکہ سے معاشی تنگی اور فراخیٴ رزق کے کچھ اسباب بیان کیے گئے ہیں، معاشی تنگی کے اسباب میں سے نماز کا چھوڑنا،قطع رحمی کرنا، حرام وحلال کی پرواہ کیے بغیر مال کمانا، کاروبار اور ملازمت میں دھوکہ دہی، جھوٹ اور خیانت کا ارتکاب کرنا وغیرہ، لہذا ان اسباب سے بچنا ضروری ہے۔ اورفراخیٴ رزق کے اسباب میں سے پانچ وقت باجماعت نماز کا اہتمام کرنا، حلال روزی کمانا، صلہ رحمی کرنا، اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں پر توبہ واستغفار کرتے رہنا، ملازمت اور کاروبار میں امانت اور مکمل دیانتداری سے کام کرنا شامل ہیں، لہذا رزق کی فراوانی کے لیے ان سب چیزوں کا اہتمام ازحد ضروری ہے۔
بعض علماء ومشائخ نے لکھا ہے کہ اگر صبح کی نماز سے پہلے سو مرتبہ روزانہ درج ذیل تسبیح پڑھنے کا اہتمام کیا جائے تو اس سے بھی رزق میں برکت ہوتی ہے:
"سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم أستغفر الله"
حوالہ جات
صحيح البخاري (8/ 5) دار طوق النجاة:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من سره أن يبسط له في رزقه، وأن ينسأ له في أثره، فليصل رحمه»
موطأ مالك ت الأعظمي (1/ 147) الناشر: مؤسسة زايد بن سلطان أبو ظبي – الإمارات:
عبد الله بن نعيم النيسابوري، أخبرنا محمد بن أحمد النضرابادي، حدثنا العباس بن حمزة، حدثنا أحمد بن خالد الشيباني، حدثنا عبد الله بن نافع الجمحي المدني، عن مالك بن أنس، عن نافع، عن ابن عمر، قال شهدت النبي صلى الله عليه وسلم وأتاه رجل، فقال يا رسول الله قلّت ذات يدي. فقال أين أنت عن صلاة الملائكة، وتسبيح الخلائق التي بها يرزقون؟ قال ابن عمر فاغتنمت، فقلت يا رسول الله ما هو؟فقال يا ابن عمر من حين يطلع الصبح إلى حين يصلي الفجر، سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم أستغفر الله، مائة مرة تأتيك الدنيا صاغرة راغمة، ويخلق من كل [تسبيح] ملك يسبح إلى يوم القيامة.
(تخريج أحاديث الإحياء/ المغني عن حمل الأسفار،كتاب الأذكار والدعوات، الباب الأول في فضيلة الذكر، (1 / 354)، ط/دار ابن حزم بيروت، 1426هـ)
"أخرجه المستغفري في الدعوات من حديث ابن عمر، وقال: غريب من حديث مالك، ولا أعرف له أصلا في حديث مالك، ولأحمد من حديث عبد الله بن عمرو أن نوحا قال لابنه: آمرك بلا إله إلا الله ... الحديث ثم قال: وسبحان الله وبحمده؛ فإنها صلاة كل شيء وبها يرزق الخلق"، إسناده صحيح".
محمد نعمان خالد
دادالافتاء جامعة الرشیدکراچی
20/رجب المرجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


