| 86791 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارے دادا نے جہاں پر گھر بنایا وہ جگہ اُن کی ملکیت نہیں تھی بلکہ کچی آبادی تھی، یعنی کسی کی ملکیت نہیں تھی بلکہ صرف قبضہ تھا۔ دادا جی کے فوت ہونے کے بعد اُن کی اولاد نے آپس میں جگہ تقسیم کر دی ،ہمارے ابو کے حصہ میں تقریباً 7مرلے جگہ آئی ، ہمارے والد صاحب کی زندگی میں ہی ہم بھائیوں نے مل کر گھر بنایا تھا ، والد صاحب کے فوت ہونے کے بعد حکومت کی طرف سے ہماری جگہ کی قیمت آئی جو کہ ہم نے ادا کی۔ والد صاحب کی زندگی میں ہمارا گھر سنگل ا سٹوری تھا صرف تین یا چار کمرےتھے ۔ والد صاحب کے فوت ہونے کے بعد ہم بھائیوں نے پرانا گھر گرا کر دوبارہ نیا گھر بنایا اور ڈبل اسٹوری بنایا ،اب ہمارا گھر ڈبل ا سٹوری ہے اور تقریبا 10 کمرے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے گھرسے باہر سڑک کی طرف دو دکانوں کی جگہ بھی ہے، دکانیں ابھی تک نہیں بنیں ۔ تقریباً 7 مرلےگھر ڈبل اسٹوری اور۱۰ کمرے، قیمت تقریباً 80 لاکھ،دو دکانوں کی جگہ قیمت تقریبا30لاکھ۔ہماری والدہ حیات ہیں اور ہم 9 بہن بھائی ہیں جن میں 5 بھائی اور4 بہنیں ہیں ۔
1.سوال :برائے مہربانی گھرکی وراثت کے بارے میں ہماری رہنمائی فرمائیں ۔
2. سوال : اگر کوئی بھائی یا بہن اپنا حصہ نہ لینا چاہے تواس کی کیا صورت ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1. مذکورہ صورت میں 7 مرلہ کی جگہ اور سنگل اسٹوری گھر والد صاحب کا ترکہ ہے، البتہ جو قیمت آپ بھائیوں نے ادا کی ہے وہ تبرع ہے۔ میراث آپ سب ورثہ کے درمیان اس طریقے سے تقسیم ہوگی کہ کل مال کے سولہ (16)حصے بنائے جائیں گے،ان میں سے دو حصےمرحوم کی بیوی کو ،دو دو حصے ہر بیٹے کو اور ایک ایک حصہ ہر بیٹی کو دیا جائے گا ۔
7 مرلے زمین(پلاٹ) پر اس وقت تعمیر شدہ سنگل اسٹوری گھر کی قیمت لگا کر اس کے ساتھ 30 لاکھ دوکانوں کی جگہ کی قیمت جمع کر کے ورثہ میں اوپر ذکر کردہ طریقے کے مطابق تقسیم کریں ۔اس کے علاوہ نیا تعمیر شدہ ڈبل اسٹوری گھر صرف بھائیوں کا ہے۔
آسانی کے لیے نقشہ ملاحظہ ہو:
|
نمبر شمار |
ورثہ |
کل حصے:16 |
|
1 |
بیوی |
2 |
|
2 |
بیٹا |
2 |
|
3 |
بیٹا |
2 |
|
4 |
بیٹا |
2 |
|
5 |
بیٹا |
2 |
|
6 |
بیٹا |
2 |
|
7 |
بیٹی |
1 |
|
8 |
بیٹی |
1 |
|
9 |
بیٹی |
1 |
|
10 |
بیٹی |
1 |
2. ورثہ میں سے کوئی وارث اپنا حصہ نہ لینا چاہے توترکہ سے اس کا حصہ ختم نہیں ہوتا ،البتہ اس کو اپنا حصہ دینے کے بعد وہ جو کرنا چاہے کرسکتا ہے ۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ :وأما أبو حنيفة وأبو يوسف رحمهما الله فمرا على أصلهما أن الغصب إزالة يد المالك عن ماله بفعل في المال ولم يوجد في العقار. (بدائع الصنائع:7/146)
قال العلامۃ المرغینانی رحمہ اللہ :"وإذا غصب عقارا فهلك في يده لم يضمنه" وهذا عند أبي حنيفة وأبي يوسف. ولهما أن الغصب إثبات اليد بإزالة يد المالك بفعل في العين، وهذا لا يتصور في العقار؛ لأن يد المالك لا تزول إلا بإخراجه عنها، وهو فعل فيه لا في العقار فصار كما إذا بعد المالك عن المواشي.(الھدایۃ:4/297)
محمد یونس بن امین اللہ
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
21/رجب المرجب، 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد یونس بن امين اللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


