03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسمگلنگ کرنے والی گاڑیوں کو اپنی زمین میں راستہ دے کر رقم لینا
86557جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

      مفتی صاحب! عرض یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں لوگ افغانستان باڈر سے پٹرول اور ڈیزل لاکر مختلف علاقوں میں سپلائی کرتے ہیں اور وہ پٹرول لانے والے   عام سڑکیں  استعمال نہیں کرتے ہیں، کیونکہ ان سے لیویز والے پیسہ لیتے ہیں۔ تو وہ  مختلف لوگوں کے زمینوں سے راستہ بناکر لیویز والوں سے بچتے ہیں۔ اب ہمارے علاقے کے کچھ لوگوں نے اپنی زمینوں سےگزرنے والی گاڑیوں سے بھی ٹیکس وصول کرنا شروع کردیا ہے ۔ تو کیا ہمارے لیے اپنے زمینوں سے گزرنے والی گاڑیوں سے ٹیکس لینا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر جائز ہے تو وہ ٹیکس بھی سب ورثہ  پر تقسیم ہوگا یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ  لوگوں کا اپنی  زمینوں کو اسمگلرز کی آسان نقل وحرکت کےلیے دینا ملکی قوانین کی خلاف ورزی اورگناہ کے کام میں  ان کی مدد کرنا ہے جس سے شریعت میں واضح ممانعت آئی ہے،نیز آپ ٹیکس لینے کے مجاز بھی نہیں ۔آپ اپنی  جگہ سے گزرنے سے  انہیں  روک سکتےہیں اور معروف راستوں سے جانے پر اصرار کرسکتے ہیں لیکن اس کا ٹیکس وصول نہیں کرسکتے۔

حوالہ جات

قال اللہ تبارک و تعالٰی:﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾[النساء: 59] 

و في الفتاوی واستشارات الإسلام الیوم:ولما في ذلك ممن التعاون على الإثم والعدوان، وهذا لا يجوز، لقولہ تعالى:" وتعاونو على البر والتقوى، ولاتعاونو على الإثم والعدوان".(فتاوى واستشارات الإسلام اليوم:(271/10

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :طاعة أمر السلطان بمباح واجبة. (حاشية ابن عابدين :5/ 167)

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :مطلب ‌تجب ‌طاعة ‌الإمام ‌فيما ‌ليس ‌بمعصية،قال في الظهيرية: وهو تأويل ما روي عن أبي يوسف ومحمد، فإنهما فعلا ذلك لأن هارون أمرهما أن يكبرا بتكبير جده ،ففعلا ذلك امتثالا له لا مذهبا واعتقادا ،قال في المعراج: لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجبة.

(ردالمحتارعلی الدرالمختار:(172/2

قال في المجلۃ: كل ‌يتصرف ‌في ‌ملكه ‌كيفما ‌شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال.(مجلة الأحكام العدلية:ص230)

جمیل الرحمٰن بن محمدہاشم

   دار الافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

21     رجب المرجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب