| 86599 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیا اسلامک سیریز جس کا نام عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ ہے جو کہ اسلام کے ابتدائی مکی و مدنی دور ، غزوات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیاۃ مبارکہ پر مشتمل ہے۔ اس میں عربی ایکٹرز ا ن کے کردار کو پیش کر رہے ہیں۔ لیکن پیغمبر زمان علیہ السلام کے چہرے مبارک کو نہیں دیکھایا گیا ہے ۔ وہ سیریز عربی زبان میں ہےاور مجھے تقریباً عربی آتی ہے تو کیا میں عربی مزید سیکھنے کے لئے اور سیرت کے لیے یہ سیریز دیکھ سکتا ہوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تصویر یا فلم کے ذریعہ صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم اجمعین) کی شکل وشباہت اور ان کے سیرت وکردار کو فرضی شکلوں میں پیش کرنا، متعدد مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور سخت گناہ ہے، لہذا اس قسم کی تصویر سازی یا ڈرامہ بنانا، دیکھنا یا دوسروں کو دکھانا، سب ناجائز اور سخت گناہ ہے، مسلمانوں کو ان مذکورہ امور سے سختی کے ساتھ پرہیز کرنا لازم ہے۔
اس قسم کے دیگر ڈراموں کی فلم بندی کرنے اور اس کو دیکھنے میں شرعاً متعدد قباحتیں موجود ہیں۔
1۔ اس میں جان بوجھ کر جھوٹ شامل کیا گیا ہے، کیونکہ جھوٹ کی آمیزش کے بغیر ایسے ڈرامے مکمل ہی نہیں ہوسکتے، اور ان میں دلچسپی بھی برقرار نہیں رہ سکتی۔ جھوٹ گناہِ کبیرہ ہے۔
2۔ اس میں عورتوں کے کردار کی وجہ سے مرد و زن کا اختلاط بھی ہے، جبکہ نامحرم عورتوں کو قصداً دیکھنا ناجائز اور حرام ہے، شریعت نے اسے آنکھ کے زنا سے تعبیر کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ آنکھیں زنا کرتی ہیں، ان کا زنا نامحرم کو دیکھنا ہے۔
3۔ ڈرامے میں محبت کی داستان بھی شامل کی گئی ہے، چنانچہ عشق و معاشقہ کے مواد ہونے کی وجہ سے نوجوانوں کے اخلاق متأثر ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔
4۔ ڈرامہ میں بیک گراؤنڈ میوزک بھی ہوتاہے۔
5۔ اس قسم کے ڈراموں کو تبلیغِ دین، اصلاح اور بیداری کا نام دیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پردہ اسکرین پر جو کچھ لوگوں کو دکھایا جاتا ہے اس کا اصلاحی اثر وقتی ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں کتابی اثر دیر پا ہوتا ہے اور تاریخ کی معتبر کتابیں ہی حقیقی اثر پیدا کرسکتی ہیں، تاریخ کا شوق رکھنے والوں کے لئے مستند تاریخی کُتب ہی قلب کی تسکین کا باعث ہوسکتی ہیں، افسانے اور ڈرامے نہیں۔
6۔ایسی فلمیں غیرمسلموں بلکہ مسلمانوں پر بھی کوئی مثبت و دیرپا اثرات ڈالنے میں ناکام رہیں، اس طرح کی فلموں میں جو کردار اسکرین پر دکھائے جائیں گے، ناظرین کے ذہنوں میں اس شخصیت کی وہی تصویر بن جاتی ہے، ممکن ہے وہ اداکار مسلمان ہی نہ ہو، یا مسلمان تو ہو لیکن فاسق و فاجر ہو، اداکار خواہ کچھ بھی ہو، لیکن صحابہ کرام کے مرتبہ کا تو ہرگز نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اسلام کی ایسی عظیم اور مقدس ہستیوں کے ذکر کے وقت اداکاروں کی شکل و صورت ذہن میں آنا بذاتِ خود ایک بڑی قباحت ہے۔
لہٰذا اتنی ساری قباحتیں جس چیز میں موجود ہوں وہ بلاشبہ ناجائز عمل ٹھہرے گا، ایسے ڈراموں کا بنانا، اس کا دیکھنا اور اس کے دیکھنے کی ترغیب دینا شرعاً ناجائز ہے، مسلمانوں کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔(ماخوز از تبویب 82358)
حوالہ جات
ﵟقُل لِّلۡمُؤۡمِنِينَ يَغُضُّواْ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِمۡ وَيَحۡفَظُواْ فُرُوجَهُمۡۚ ذَٰلِكَ أَزۡكَىٰ لَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا يَصۡنَعُونَ 30 وَقُل لِّلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَاۖ وَلۡيَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّۖ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوۡ ءَابَآئِهِنَّ أَوۡ ءَابَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوۡ أَبۡنَآئِهِنَّ أَوۡ أَبۡنَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوۡ إِخۡوَٰنِهِنَّ أَوۡ بَنِيٓ إِخۡوَٰنِهِنَّ أَوۡ بَنِيٓ أَخَوَٰتِهِنَّ أَوۡ نِسَآئِهِنَّ أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُنَّ أَوِ ٱلتَّٰبِعِينَ غَيۡرِ أُوْلِي ٱلۡإِرۡبَةِ مِنَ ٱلرِّجَالِ أَوِ ٱلطِّفۡلِ ٱلَّذِينَ لَمۡ يَظۡهَرُواْ عَلَىٰ عَوۡرَٰتِ ٱلنِّسَآءِۖ وَلَا يَضۡرِبۡنَ بِأَرۡجُلِهِنَّ لِيُعۡلَمَ مَا يُخۡفِينَ مِن زِينَتِهِنَّۚ وَتُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ 31ﵞ [النور: 30-31]
زاہد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
11/رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زاہد خان بن نظام الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


