03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح کے موقع پر لے پالک بچی کے غیر حقیقی والد کا نام ذکر کرنا
86572نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

بچی لے پالک ہے،اصلی والدین کا کچھ معلوم نہیں،اس لئے گود لیتے وقت والد کے نام کی جگہ غیر حقیقی والد کا نام لکھا گیا ہے،اب اس بچی کا نکاح ہے،ہونے والے شوہر کو بچی کی اصلیت کے بارے میں بتادیا گیا ہے،اسے کوئی اعتراض نہیں ہے اور نہ ہی وہ اپنے والدین کو بتانا مناسب سمجھتا ہے۔

کیا میں وکیل کے طور پر نکاح نامے پر دستخط کرسکتا ہوں،لڑکی والوں کو بچی کے بارے میں معلوم ہے اور وہی سب رشتہ دار نکاح میں موجود ہوں گے،کیا والدین کے بارے میں معلوم نہ ہونے کی وجہ سے ولدیت کے خانے میں غیر حقیقی والد کا نام لکھنے سے نکاح کی صحت متاثر ہوگی؟ اور میرے وکیل بننے کی وجہ سے میں گناہ گار ہوں گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح کے صحیح ہونے کے لئے ایجاب و قبول کے وقت لڑکی کا اتنا تعارف کافی ہے جس سے گواہوں کو اس کے متعلق معلوم ہوجائے۔

لہذا مذکورہ صورت میں جبکہ لڑکی کے اصل والدین کے متعلق کسی کو علم نہیں ہے اور نکاح کے موقع پر موجود گواہ اس لڑکی کے نام سے اسے جانتے ہیں تو نکاح کے موقع پر صرف لڑکی کا نام ذکر کردینا بھی کافی ہے،اصل والد کے بجائے غیر حقیقی والد کا نام نہ لیا جائے،باقی نکاح نامے میں بھی غیر حقیقی والد کا نام نہ لکھا جائے،لیکن اگر پردہ پوشی کے لئے لکھ لیا جائے تو اس سے نکاح کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا،لہذا  آپ کے لئے اس نکاح کے موقع پر وکیل بننے میں شرعا کوئی حرج نہیں۔

حوالہ جات

"صفوة التفاسير" (2/ 470):

"ثم أمر تعالى بردّ نسب هؤلاء إلى آبائهم فقال: {ادعوهم لآبَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ ﷲ} أي انسبوا هؤلاء الذين جعلتموهم لكم أبناء لآبائهم الأصلاء {هُوَ أَقْسَطُ عِندَ ﷲ} أي هو أعدلُ وأقسط في حكم ﷲ وشرعه .

قال ابن جرير: أي دعاؤكم إياهم لآبائهم هو أعدل عند ﷲ وأصدقُ وأصوب من دعائكم إياهم لغير آبائهم .{فَإِن لَّمْ تعلموا آبَاءَهُمْ فَإِخوَانُكُمْ فِي الدين} أي فإن لم تعرفوا آباءهم الأصلاء فتنسبوهم إليهم فهم إخوانكم في الإسلام {وَمَوَالِيكُمْ} أي أولياؤكم في الدين، فليقل أحدكم: يا أخي! ويا مولاي! يقصد أخوَّة الدين وولايته. قال ابن كثير: أمر تعالى بردّ أنساب الأدعياء إلى آبائهم إن عُرفوا، فإن لم يُعرفوا فهم إخوانهم في الدين ومواليهم، عوضاً عما فاتهم من النسب، ولهذا قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لزید بن حارثة: «أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلاَنَا». وقال ابن عمر: ما كنا ندعو «زيد ابن حارثة» إلا زيد بن محمد، حتى نزلت {ادعوهم لآبَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ ﷲ} {وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَآ أَخْطَأْتُمْ بِهِ} أي وليس عليكم أيها المؤمنون! ذنبٌ أو إثم فيمن نسبتموهم إلى غير آبائهم خطأً .{ولكن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ} أي ولكنَّ الإثم فيما تقصدتم وتعمدتم نسبته إلى غير أبيه".

"رد المحتار"(3/ 15):

"(قوله: ولا المنكوحة مجهولة) فلو زوج بنته منه وله بنتان لا يصح إلا إذا كانت إحداهما متزوجة، فينصرف إلى الفارغة كما في البزازية نهر، وفي معناه ما إذا كانت إحداهما محرمة عليه فليراجع رحمتي وإطلاق قوله لا يصح دال على عدم الصحة، ولو جرت مقدمات الخطبة على واحدة منهما بعينها لتتميز المنكوحة عند الشهود فإنه لا بد منه رملي.

قلت: وظاهره أنها لو جرت المقدمات على معينة وتميزت عند الشهود أيضا يصح العقد وهي واقعة الفتوى؛ لأن المقصود نفي الجهالة، وذلك حاصل بتعينها عند العاقدين والشهود، وإن لم يصرح باسمها كما إذا كانت إحداهما متزوجة، ويؤيده ما سيأتي من أنها لو كانت غائبة وزوجها وكيلها فإن عرفها الشهود وعلموا أنه أرادها كفى ذكر اسمها، وإلا لا بد من ذكر الأب والجد أيضا".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

22/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب