03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مختلف مواقع پر بیوی سے”تم میری طرف سے آزاد ہو”کہنا
86571طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میں جاب کرتی تھی،ایک دن میرے شوہر نے مجھے اپنی امی کے کپڑے دھونے کا کہا،مجھے دیر ہو رہی تھی تو میں اپنی بچی کو بول کر چلی گئی کہ اس کے کپڑے دھولینا،اس بات پر میرا شوہر غصہ ہوگیا،جب میں رات کو گھر آئی تو اس نے مجھے کہا کہ آپ نے میری بات نہیں مانی،بس"آج سے تم آزاد ہو،جہاں جانا ہے جاؤ"،تھوڑی دیر کے بعد جب میں نے بات کرنے کی کوشش کی تو پھر مجھے میرے شوہر نے کہا کہ "آپ میری طرف سے آزاد ہو،کل جہاں چاہو چلی جانا،اسی طرح تین چار بار بولا۔

پھر میں اپنے باپ کے گھر چلی گئی،کچھ دن بعد میرا بیٹا مجھے واپس لے آیا،مختصر سا سوال یہ ہے کہ ہر کچھ عرصہ بعد ہماری چھوٹی سی بات پر لڑائی ہوجاتی ہے،کیونکہ میرا شوہر بہت غصہ والاہے اورجذباتی طبیعت کا ہے تو  ہر بار لڑائی کے موقع پر وہ یہی بات بولتا ہے کہ"تم میری طرف سے آزاد ہو،جاسکتی ہو"، میں نے کئی بار بولا ہے کہ مجھے ایک ہی بار آزاد کردو،وہ بولتا ہے:تم چلی جاؤ، میں سارے کاغذ بنوا کر بھیج دوں گا،لیکن پھر کچھ دن بعد آپس میں صلح ہو جاتی ہے،میرے دل میں شک ہے کہ مجھے طلاق ہوچکی ہے،جبکہ میرے شوہر کا کہنا ہے کہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی،اس لئے کوئی طلاق نہیں ہوئی،لہذا آپ راہنمائی کردیں اور اس مسئلے کا حل بتا ئیں۔

تنقیح: سائلہ نے وضاحت کی ہے کہ:

1۔"آزاد "کا لفظ ان کے عرف میں صرف طلاق کے لئے متعین نہیں ہے۔

2۔ پہلی بار شوہر نے آج سے دو سال پہلے لڑائی جھگڑے کے موقع پر تین بار یہ جملے بولے تھے کہ "تم میری طرف سے آزاد ہو،جہاں جانا چاہوچلی جاؤ"،جس کے بعد سائلہ میکے چلی گئی،ایک مہینے تک وہاں رہی،پھر صلح ہوگئی اور یہ واپس آگئی،دوسری مرتبہ دو سال بعد پھر لڑائی کے موقع پر شوہرنےدوبارہ دو مرتبہ یہی جملے دہرائے کہ" میری طرف سے تم آزاد ہو،جہاں جانا چاہو چلی جاؤ"، پھر اس کے ایک مہینے بعد دوبارہ جھگڑے کے موقع پر تین چار مرتبہ یہ جملے دہرائے کہ" آج سے تم آزاد ہو،جہاں جانا چاہوچلی جاؤ"۔  

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں بولے گئے جملوں میں سے "جہاں جانا چاہوچلی جاؤ "تو طلاق کے ان کنایہ الفاظ میں سے ہیں جن سے طلاق واقع ہونے کا مدار مطلقاً نیت پر ہوتا ہے،اگر طلاق کی نیت سے بولے جائیں تو طلاق واقع ہوتی ہے،ورنہ نہیں،جبکہ لفظِ "آزاد"بھی اپنی اصل وضع کے لحاظ سے کنایہ ہے،لیکن یہ کنایہ الفاظ کی اس قسم میں سے ہے جن میں صرف جواب بننے کا احتمال ہے  اور ان سے قرینے(حالتِ غضب یا مذاکرہ طلاق) کی موجودگی میں بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

اس لئے جب شوہر نے دو سال پہلے لڑائی کے موقع پر" تم میری طرف سے آزاد ہو "بولا تھا تو اس کے ذریعے ایک بائن طلاق واقع ہوگئی تھی ،اگرچہ ان کی نیت نہیں تھی،جس کا حکم یہ تھا اگر آپ دونوں میاں بیوی دوبارہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا چاہتے تو باہمی رضامندی سے دو گواہوں کی موجودگی نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرتے،تجدیدِ نکاح کے بغیر اکٹھے رہنا جائز نہیں تھا۔

چونکہ مذکورہ صورت میں تجدیدِ نکاح نہیں کیا گیا،اس لئے بعد میں بولے گئے جملوں کے ذریعے مزید کوئی طلاق تو واقع نہیں ہوئی،لیکن اتنا طویل عرصہ بغیر نکاح کے ساتھ رہنے پر آپ دونوں میاں بیوی کے ذمے لازم ہے کہ ندامت کے ساتھ کثرت سے توبہ و استغفارکا اہتمام کریں اور آئندہ کے لئے ساتھ رہنا چاہیں تو فوری طور پر تجدیدِ نکاح کریں۔

نیز تجدید نکاح کے بعد آپ کے شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا،اس لئے ان پر لازم ہے کہ وہ احتیاط سے کام لیں اور لڑائی جھگڑے کے موقع پر ایسے جملے کہنے سے گریز کریں جن سے طلاق واقع ہونے کا خدشہ ہو۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (3/ 298):

"فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث :ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا .

(فنحو: اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي ،تخمري، استتري ،انتقلي، انطلقي ،اغربي، اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية ،برية، حرام، بائن) ومرادفها كبتة، بتلة (يصلح سبا، ونحو: اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري ،أمرك بيدك، سرحتك، فارقتك،لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما. مجتبى.

(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا .(وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو؛ لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية؛ لأنها أقوى لكونها ظاهرة".

قال ابن عابدین رحمہ اللہ :"(قوله: فنحو: اخرجي واذهبي وقومي) أي من هذا المكان لينقطع الشر فيكون ردا أو لأنه طلقها فيكون جوابا. رحمتي.....

 (قوله: لا يحتمل السب والرد) أي بل معناه الجواب فقط ح أي جواب طلب الطلاق أي التطليق .فتح.

(قوله: توقف الأولان) أي ما يصلح ردا وجوابا وما يصلح سبا وجوابا ولا يتوقف ما يتعين للجواب.

"الدر المختار " (3/ 308):

"(لا) يلحق البائن (البائن) إذا أمكن جعله إخبارا عن الأول: كأنت بائن بائن، أو أبنتك بتطليقة فلا يقع لأنه إخبار فلا ضرورة في جعله إنشاء".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

24/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب