03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملازمت کی جگہ نماز کا حکم
86667نماز کا بیانمسافر کی نماز کابیان

سوال

میں نارووال کا رہائشی ہوں ،لیکن ملازمت لاہور میں کرتا ہوں۔ ہفتے کے 5یا 6دن لاہور میں ہوتا ہوں اور 1یا 2 ن نارووال میں۔ میری فیملی نارووال میں رہتی ہے جبکہ میں لاہور میں ملازمت کے دوران ہاسٹل میں رہتا ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ میری قصر نماز کہاں ہو گی؟ نارووال اور لاہور کے درمیان تقریبا 130کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

وطن اصلی اور وطن اقامت قوی کے علاوہ کسی دوسری جگہ پر جب تک پندرہ دن مسلسل رہنے کی نیت نہ کی جائے اس وقت تک وہاں قصر نماز پڑھی جاتی ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر آپ نے ایک بار بھی لاہور میں پندرہ دن قیام کی نیت نہیں کی تو آپ لاہور میں  قصر نماز ہی پڑھیں گے۔البتہ اگر آپ ایک بار بھی لاہور میں  پندرہ دن رہنے کی نیت کرلیں تو پھرجب تک آپ کی ملازمت اور سامان وغیرہ اس شہر میں باقی رہیں، یہ شہر آپ کا وطن اقامت رہے گا اور آپ کو مکمل نماز ادا کرنا ہوگی چاہے آپ اس میں پندرہ دن سے کم قیام کے لیے ہی ٹھہریں۔(ماخوذاز تبویب: 81982)

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 125)

 (فيقصر إن نوى) الإقامة (في أقل منه) أي في نصف شهر (أو) نوى (فيهلكن في غير صالح) أو كنحو جزيرة أو نوى فيه لكن (بموضعين مستقلين كمكة ومنى)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 103)

 وطن أصلي: وهو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده، وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها.

ووطن الإقامة: وهو أن يقصد الإنسان أن يمكث في موضع صالح للإقامة خمسة عشر يوما أو أكثر.

ووطن السكنى: وهو أن يقصد الإنسان المقام في غير بلدته أقل من خمسة عشر يوما

البناية شرح الهداية (3/ 31):

(ووطن الإقامة) ش: هو أن ينوي المسافر الإقامة في بلد خمسة عشر يوما فصاعدا، ويسمى أيضا الوطن الحادث والوطن المستعار م: (يبطل بمثله) ش: أي بمثل ‌وطن ‌الإقامة،

            ارسلان نصیر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

   25/رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب