| 86740 | پاکی کے مسائل | جنابت کے احکام |
سوال
میرے والدین نے مجھے 2017میں حج کروایا تھا، اس وقت میری عمر 19 برس تھی ۔مجھے 19برس کی عمر میں معلوم نہیں تھا کہ احتلام کس چیز کو بولتے ہیں ،جب حج ادا کر کے آیا تو مجھے احتلام کا مطلب پتہ چلا اور پھر مجھے یاد آیا کہ مجھے حج پر جانے سے2 ماہ پہلے احتلام ہوا تھا ،اس وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ جنابت کےغسل میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا فرض ہے ،میں نے صرف جسم پر پانی بہادیا تھا ، تاہم دوران وضو ناک میں پانی ڈالا تھا لیکن نرم ہڈی تک نہیں پہنچایا تھا،اسی طرح کلی بھی منہ بھر کر نہیں کی تھی۔کیا اس صورت میں میرا حج ہوگیا ہوگا؟
(سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ سائل نے احتلام کے بعد متعدد دفعہ وضو کیا ہے،سائل کے مطابق اس کا ظن غالب یہی ہے کہ پانی ناک کی نرم ہڈی تک پہنچا ہو گا،اوپر سوال میں جو سائل نے پانی نہ پہنچنے کی بات کی ہے ، اس سے سائل کی مراد یہ ہے کہ پانی اتنا اوپر تک نہیں چڑھایا تھا کہ چھینک وغیرہ آ جائے۔)
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
غسل جنابت میں پورے بدن پر پانی بہانے کے علاوہ کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا فرض ہے؛کلی کرنے کی فرض مقدار پورے منہ میں پانی پہنچا ناہے۔ (چاہے وہ کلی کی وجہ سے ہو یا ویسے پانی پیتے وقت منہ کے ہر حصے کو پانی پہنچ جائے) اسی طرح غسل جنابت سے پاکی کے لئے ناک کی نرم ہڈی تک پانی کا پہنچنا بھی فرائض غسل میں سے ہے ۔
صورت مسئولہ میں سائل نے تمام بدن پر پانی بہانے کے علاوہ، دورانِ وضو کلی کی ہے اور ناک میں پانی بھی چڑھایا ہے ، سائل کا غالب گمان یہی ہے کہ دوران وضو ناک میں پانی چڑھانے سے نرم ہڈی تک پانی پہنچ گیاتھا ، لہذا سائل کا غسل جنابت صحیح تھا۔اس وجہ سے حج کی ادائیگی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 34):
(وأما) ركنه(ای: الغسل) فهو إسالة الماء على جميع ما يمكن إسالته عليه من البدن من غير حرج مرة واحدة حتى لو بقيت لمعة لم يصبها الماء لم يجز الغسل، وإن كانت يسيرة لقوله تعالى {وإن كنتم جنبا فاطهروا} [المائدة: 6] ، أي: طهروا أبدانكم، واسم البدن يقع على الظاهر، والباطن فيجب تطهير ما يمكن تطهيره منه بلا حرج، ولهذا وجبت المضمضة، والاستنشاق في الغسل، لأن إيصال الماء إلى داخل الفم، والأنف ممكن بلا حرج۔
تحفة الفقهاء (1/ 29):
والبدن اسم للظاهر والباطن فيجب عليه تطهيره بقدر الممكن وإنما سقط غسل الباطن لأجل الحرج فلا يسقط ما لا حرج فيه ،ولهذا تجب المضمضة والاستنشاق في الغسل لأنه يمكن إيصال الماء إلى داخل الأنف والفم بلا حرج ۔۔۔ولهذا يجب إيصال الماء في الغسل إلى أصول الشعر وإلى أثناء الشعر أيضا إلا إذا كان ضفيرة فلا يجب الإيصال إلى أثنائه لأن في نقضه حرجا ولهذا يجب إيصال الماء إلى أثناء اللحية كما يجب إيصال الماء إلى أصولها لأنه لا حرج فيه ويجب إيصال الماء إلى داخل السرة وينبغي أن يدخل إصبعه فيها للمبالغة۔
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
26/رجب /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


