03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ترکہ کی تقسیم میں ورثہ کا اختلاف
89911میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے والد صاحب نے ایک عورت سے شادی کی تھی اور مہر میں اسے 5 تولہ سونا دیا تھا،پھر ان کا انتقال ہوا اور وہ 5 تولہ سونا چھوڑ کر اللہ تعالی کے پاس چلی گئی۔ اس بیوی کے فوت ہونے کہ بعد والد صاحب نے دوسری شادی کی اور دوسری بیوی کا حق مہر 8 تولہ سونا لکھا، 6 تولہ سونا والد صاحب کے پاس اپنا موجود تھا، وہ دے دیا اور دو تولہ سونا والد صاحب کے ذمہ رہ گیا۔

پہلی بیوی سے والد صاحب کے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہے۔ ان میں سے دو کی شادی والد صاحب نے خود کروائی اور ان بچوں کے درمیان ان کی والدہ کا پانچ تولہ سونا تقسیم کیا، تین تولے بیٹے کو اور دو تولے ایک بیٹی کو اور دو تولے دوسری بیٹی کو دے دیے۔ والدہ کا میراث 5 تولہ سونا تھا لیکن والد صاحب نے ان کو 7 تولے دے دیا۔

 اب والد صاحب کے انتقال کے بعد بھائی بولتا ہے کہ یہ جو زیور والد صاحب نے مجھے دیا ہے یہ تو میرا ہے ،میری امی کا حق مہر پانچ تولہ سونا مجھے الگ سا مال وراثت سے الگ کرکے دیا جائے۔ (یعنی وراثت تو سب میں تقسیم ہوگی لیکن یہ 5 تولے وراثت کے حصے سے نکال کر مجھے الگ دے دیے جائیں کیونکہ یہ تو میرے والدہ کا وہ سونا ہے جو والد صاحب نے اسے مہر میں دیا تھا)

میرے والد صاحب کا پہلی بیوی سے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں اور  دوسری بیوی سے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ پہلی بیوی کے تینوں بچوں کی شادی ہو چکی ہے۔دوسری بیوی کے بچے چھوٹے ہیں ان کے بچوں کی شادی نہیں ہوئی۔

پہلی بیوی سے جو بیٹا ہے اس کی شادی والد صاحب نے کروائی اور اس کی بیوی کے حق مہر میں پانچ تولہ لکھے ہیں تین تولہ تو وہ سونا ان کے مہر میں ادا کیا جو والد صاحب کی پہلی بیوی (اسی لڑکے کی ماں) سے وراثت میں اس لڑکے کو ملا تھا اور دو تولہ مزید والد صاحب نے مہر میں لکھ دیا جو ابھی تک ادا نہیں کیا تھا اور ساتھ میں آدھا کنال زمین بھی لکھا۔

پہلی بیوی کا بیٹا ، والد صاحب اور دوسری بیوی اور تمام خاندان ایک ساتھ ایک ہی گھر میں رہ رہے تھے لیکن لڑائی جھگڑا ہوتا تھا تو والد صاحب نے اسی گھر کے اندر دیوار ڈال کر اس کاکمرہ الگ کردیا تھا تاکہ لڑائی نہ ہو۔

اب پہلی بیوی کا بیٹا کہہ رہا ہے کہ والد صاحب کی میراث تقسیم کرنے سے پہلے ترکہ میں سے 5 تولہ سونا الگ کرکے مجھے دیں کیونکہ میری والدہ جب وفات ہوئی ان کا ترکہ 5 تولہ سونا تھا، حالانکہ وہ والد صاحب ان کے درمیان پہلے سے ہی تقسیم کرچکا ہے۔ اور وہ کہتا ہے کہ والد صاحب نے جب میری شادی کروائی تب میری بیوی کا مہر 5 تولہ سونا اور آدھا کنال لکھا تھا اب وہ بھی ترکہ سے الگ کرکے مجھے دیا جائے پھر باقی مال کو تقسیم کریں اور لڑائی جھگڑے سے بچنے کے لیے والد صاحب نے ان کے کمرے اور باقی گھر کے درمیان دیوار ڈال کر جو ان کو الگ کیا تھا، اب یہ کہ رہا ہے اس کمرے کو بھی ترکہ سے الگ کرکے مجھے دیا جائے باقی ترکہ اسکے علاوہ تقسیم کیا جائے گا۔

نوٹ: بھائی یہ سب دعوے اس لیے کر رہا ہے کہ ہم نے اپنی والدہ (جو کہ والد صاحب کی دوسری بیوی ہے) کے مہر کا 2 تولے سونے ( جو والد کے ذمہ رہ گیا تھا) کا مطالبہ کیا کہ یہ تو ہماری والدہ کا والد صاحب کے ذمہ قرض ہے، اسے ترکہ سے الگ کیا جائے پھر ترکے کو تقسیم کیا جائے۔تو بھائی کہنے لگا کہ اگر آپ لوگوں نے اپنی والدہ کے مہر کا مطالبہ کرنا ہے تو میں اپنی والدہ اور اپنی بیوی کے مہر کا مطالبہ کرتا ہوں۔

اب سوال یہ ہے کہ

  1. کیا میری والدہ (جو کہ والد صاحب کی دوسری بیوی ہے) کا حق مہر 2 تولہ (جو والد صاحب کے ذمہ رہ گیا تھا) وراثت کی مال میں سے الگ کیا جائے گا ؟
  2. کیا اس بھائی کی والدہ کا حق مہر 5 تولہ جو  کہ ان کی ماں کو ملا تھا اور پھر ان کی وفات کے بعد والد صاحب نے ان کے درمیان تقسیم کیا تھا، کیا اب دوبارا وہ 5 تولہ سونا والد صاحب کے ترکہ سے الگ کرکے ان کو دیا جائے گا ؟
  3. کیا بھائی کی  بیوی کا جو مہر باقی ہے (2 تولہ سونا اور آدھا کنال زمین) وہ والد صاحب کے ترکہ سے الگ کیا جائے گا یا وہ شوہر (بھائی) اپنے مال سے ادا کرے گا؟
  4. کیا والد صاحب کا ترکہ سب بھائیوں میں برابر تقسیم ہوگا؟
  5. کیا والد صاحب نے اپنی زند گی میں بھائی کے جھگڑے کرنے کی وجہ سے ان کے کمرے کو الگ کیا تھا، کیا وہ ترکہ سے الگ کیا جائے گا یا وہ بھی والد صاحب کے ترکہ میں شامل ہوکر سب ورثہ میں تقسیم ہوگا؟ (یہ کمرہ الگ کرکے اس لیے دیا تھا تاکہ جھگڑے ختم ہوجائے، اسے مالک نہیں بنایا تھا)

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کی والدہ (مرحوم کی دوسری بیوی) کو دو تولہ سونا ترکہ میں سے الگ کرکے دیا جائے گا۔

  1. اگر واقعۃ بڑے بھائی کی والدہ کا مہر 5  تولہ سونا جو والد صاحب نے ان کو ادا کیا تھا اور بیوی کی وفات کے بعد اس کی اولاد میں تقسیم کیا تھا تو اب دوبارہ بڑا بھائی اس کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں رکھتا اور والد صاحب کے ترکہ سے الگ نہیں کیا جائے گا۔
  2. بڑے بھائی کے بیوی کا بقایا مہر بھائی کے ذمہ لازم ہے، والد کے ترکہ میں سے اسے الگ نہیں کیا جائے گا۔
  3. والد صاحب کا ترکہ تمام وارثوں پر شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔
  4. والد صاحب نے اپنی زندگی میں جھگڑا ختم کرنے کے لیے بھائی کے کمرے اور باقی گھر کے درمیان جو دیوار ڈالی تھی اس کی وجہ سے بڑا بھائی اس کمرے کا مالک نہیں بنتا، یہ کمرا بھی والد صاحب کے بقیہ ترکہ کے ساتھ شامل ہوکر تمام ورثہ پر تقسیم ہوگا۔
حوالہ جات

سورۃ النساء رقم الأیۃ :(7)

لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا"

صحیح البخاری رقم الحدیث: (6746)

ألحقوا الفرائض بأھلھا، فما ترکت الفرائض فلأولی رجل ذکر.

النھر الفائق :(2/229)

عرفه في (العناية) بأنه اسم للمال الذي يجب في عقد النكاح على الزوج في مقابلة البضع إما بالتسمية أو بالعقد انتهى.

النھایۃ شرح الھدایۃ :(20/297)

والمهر: هو المال يجب في عقد النكاح على الزوج في مقابلة منافع البضع، إما بالتسمية أو بالعقد.

زبیر احمد ولد شیر جان

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

07/شعبان 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب