| 86649 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
اگر عورت اپنے شوہر سے کہے کہ میرا آپ سے نکاح ہے،میں آپ ہی کی فرمانبردار رہوں گی،آپ کے والدین ،بہن ،بھائیوں اور خاندان والوں سے میرا کوئی تعلق نہیں ،تو اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟اور شوہر کو کیا کرنا چاہیے؟
شوہر کی خدمت کے لئے نفلی عبادت چھوڑنے کا حکم
شوہرکی جانب سےحقوق کی معافی کاحکم
خواتین کی کمائی پر حق(خواتین کی کمائی پرکس کا حق ہے؟ بیوی کایاشوہرکا؟)
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شوہر کے والدین کی خدمت شرعا اس کی بیوی کے ذمے واجب نہیں، اس لیے شوہر بیوی کو اپنے والدین کی خدمت پر مجبور نہیں کرسکتا۔ لیکن شوہر کے والدین اور عمر میں بڑے ہونے کی وجہ سے ان کی خدمت کرنا، بیوی کی اخلاقی ذمہ داری اور سعادت مندی ہے۔ نیز میاں بیوی کا رشتہ ایسا ہے کہ اس میں خالص ضوابط اور قانونی بنیادوں پر چلنا مشکل ہوتا ہے، میاں بیوی کو ضابطوں سے ہٹ کر بھی ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے؛ تاکہ زندگی خوش گوار گزرے۔ اگر بیوی اپنے شوہر کے والدین کی خدمت بالکل نہیں کرے گی تو یہ شوہر کے لیے مشکلات کا باعث ہوسکتا ہے؛ اس لیے ایک دوسرے کو مشکلات سے بچانے کی بناء پر بیوی کو چاہیے کہ بقدرِ استطاعت اپنی ساس اور سسر کی خدمت کرنے کی کوشش کرے۔ البتہ ساس اور سسر کو بھی چاہیے کہ بہو سے اتنی اور ایسی خدمت نہ لیں جو اس کے بس میں نہ ہو یا اس کے لیے مشکل ہو، اور جب وہ ان کی خدمت کرے تو اس کا شکریہ ادا کریں ۔
دیور اور نند کی خدمت واجب نہیں، بلکہ دیور سے پردہ واجب ہے، اس لیے اس کی ایسی خدمت جائز نہیں جس میں پردہ کے احکام کی خلاف ورزی ہو۔ البتہ ان کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا اور حسبِ استطاعت کام کاج میں تعاون کرنا حسنِ اخلاق کا تقاضا اور گھر کے ماحول کو اچھا رکھنے کا ذریعہ ہے، لیکن نند اور دیور بھابھی کو اپنی خدمت اور کام پر مجبور نہیں کرسکتے۔
حوالہ جات
الهندية (1/ 62):
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان عن بن أبي نجيح عن عبد الله بن عامر عن عبد الله بن عمر ويبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال: ليس منا من لم يرحم صغيرنا ويعرف حق كبيرنا.هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتج بعبد الله بن عامر اليحصبي، ولم يخرجاه، وشاهده الحديث المعروف من حديث محمد بن إسحاق وغيره عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده……. الخ
مرقاة المفاتيح (14/ 260):
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: "ليس منا" أي من خواصنا، وهو كناية عن التبرئة، "من لم يرحم صغيرنا ويوقر" بالجزم، وفي نسخة "ولم يوقر" أي لم يعظم كبيرنا، وهو شامل للشاب والشيخ…
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
26/ رجب 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


