03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کھلے پیسے فراہم کرنے پربطورِاجرت اضافی رقم وصول کرنا
86657سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

ہمیں کھلے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے ،جس میں مختلف نوٹ درکار ہوتے ہیں، دس والی گڈی، 20 والی گڈی، 50 والی گڈی، 100 والی گڈی، یہ ساری رقم ہمیں درکار ہوتی ہے، ایک تھرڈ پارٹی سے ہم لوگ کھلا وصول کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں ہم انہیں کچھ رقم اوپر دیتے ہیں مثلا 10 والی گڈی ہے اس کا ایک رنگ جس میں 10 گڈیاں ہوتی ہیں اس کی رقم 10 ہزار روپے بنتی ہے ہم 10 ہزار روپے ان کو ادا کرتے ہیں، لیکن مزید 400 روپے ان کی اجرت کے طور پر دیتے ہیں ۔ اسی طرح ہم 50 والے رنگ اور 100 والے رنگ 20 والے رنگ میں بھی کرتے ہیں اگر ہم دوسری جگہ سے کھلا وصول کرتے ہیں تو اس میں ہمیں یہ پریشانی ہوتی ہے کہ مختلف برانچوں پر ہمیں کھلا خود پہنچانا ہوتا ہے اور اگر اس میں خراب نوٹ آجاتے ہیں تو ان کو واپسی کرنے کی بھی پریشانی ہوتی ہے جبکہ یہ تھرڈ پارٹی ہمیں صاف کرنسی بھی لا کر دیتی ہے اور ہمیں دوسری برانچ میں پہنچانے کی پریشانی بھی نہیں ہوتی اگر بالفرض خراب نوٹ نکل بھی جاتے ہیں تو تھرڈ پارٹی ہمارے وہ خراب نوٹ بھی واپس لے جاتی ہے۔تھرڈ پارٹی کا کہنا یہ ہے کہ ہم اوپر رقم وصول کر رہے ہیں یہ ہمارے اجرت کی مد میں ہے اور چونکہ ہمارا پیٹرول کا خرچہ بھی ہوتا ہے اور مستقل ذمہ داری ہے اب میں مختلف جگہوں سے صاف نوٹ لینے ہوتے ہیں اور ارینج کرنے میں مشکلات کا سامنا بھی ہوتا ہے اور جس وقت جتنے کھلے کی ضرورت ہمیں ہوتی ہے وہ تھرڈ پارٹی ہمیں فراہم کرتی ہے آیا یہ صورت سود کے زمرے میں تو نہیں آئے گی؟ اس بارے میں تفصیلی طور پر ہماری رہنمائی فرما دیں ۔مفتی صاحب سے مذکورہ صورت کے بارے میں ہم زبانی مسئلہ بھی پوچھ چکے ہیں ہمیں یہ مسئلہ تحریری صورت میں درکار ہے ازراہ کرم مذکورہ بالا سوال کے بارے میں رہنمائی فرما کر ممنون فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ایک ملک کی کرنسی کا کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ جائز نہیں ہے،اس لیے مین برانچ جہاں پر یہ عقد ہو وہاں  اضافی رقم اجرت کے نام سے لینا جائز نہیں ،البتہ دوسری برانچز میں پہنچانے کے لیے  اگر وضاحت کے ساتھ یہ بات طے ہوکہ ہر دکان پر کھلے پیسے پہنچانے کی اتنی اجرت الگ سےہے،تو اس کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

 في تكملة فتح الملهم(1/590): 

 "وأما الأوراق النقدية وهي التي تسمى "نوت"......فالذين يعتبرونها سندات دين،ينبغي أن لا يجوز عندهم مبادلة بعضها ببعض أصلا، لاستلزام بيع الدين بالدين،ولكن قدمنا هناك أن المختار عندنا قول من يجعلها أثمانا،وحينئذ نجرى عليها أحكام الفلوس النافقةسواء بسواء وقدمنا آنفا أن مبادلة الفلوس بجنسها لايجوز بالتفاضل عند محمد رحمة الله ، ينبغى أن يفتى بهذا القول  في هذا الزمان سدا لباب الربا ،وعليه فلايجوز مبادلة الأوراق النقدية بجنسها متفاضلا،ويجوز إذا كانت متماثلا

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

27/ رجب 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب