| 86661 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
فیض محمد وفات پا گئے، ان کاایک بیٹا اور چار بیٹیاں تھیں۔ فیض محمد کی دو زمینیں تھیں: ایک سروے (لیز) کی ہوئی زمین اور دوسری گاؤں کی زمین، جو لیز نہیں کی گئی تھی۔ فیض محمد کے بیٹے نے گاؤں کی زمین کے لیے صدر محمد خان جونیجو کے دور میں جب حکومت کی طرف سے مفت میں سندیں دی جا رہی تھیں، اس زمین کی سند حاصل کی ۔ اب ان کا کہنا ہے کہ چونکہ سند حکومت سے انہوں نے لی ہے، اس لیے بہنوں کا اس زمین میں حصہ نہیں ہوگا۔
سوال یہ ہے کہ سروے (لیز) والی زمین میں بہنوں کا حصہ ہوگا یا نہیں؟خاص طور پر گاؤں کی زمین میں بہنوں کا حصہ شرعا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟
تنقیح:سائل سے زبانی بات چیت کرنے کے بعد اس نے یہ بات بتائی کہ سروے والی زمین بھی فیض محمد کی مملوک تھی،جو اس کو اپنے والد سے میراث میں ملی تھی۔دونوں زمینیں فیض محمد کی ملکیت ہیں،دونوں میں سے کوئی بھی زمین سرکاری زمین نہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فیض محمد کے انتقال کے وقت ان کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد مرحوم کا ترکہ شمار ہو گی۔ ان کے انتقال کے وقت ان کا ایک بیٹا اور چار بیٹیاں موجود تھیں، جو سب مرحوم کے شرعی ورثاء ہیں۔
اس تمہید کے بعد مسئلے کا شرعی حکم یہ ہے کہ دونوں زمینوں( سروے (لیز) والی زمین اور گاؤں والی زمین)میں مرحوم کے بیٹے کے ساتھ ساتھ ان کی چاروں بیٹیوں کا بھی شرعی حصہ ہے۔ صرف حکومت سے زمین کی سند حاصل کرنے کی بنیاد پر فیض محمدمرحوم کا بیٹا ان زمینوں کا اکیلا مالک نہیں بن جاتا۔ لہذا جس طرح بیٹے کا وراثت میں حق ہے، اسی طرح شرعاً چاروں بیٹیوں کا بھی ان زمینوں میں حق بنتا ہے۔
دونوں زمینیں شرعی اصولوں کے مطابق مرحوم کے ورثاء میں اس طرح تقسیم کی جائیں گی کہ بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگنا ملے۔
حوالہ جات
[النساء: 11]
ﵟيُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚﵞ
تفسير ابن كثير (3/ 27):
فقوله تعالى: {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} أي: يأمركم بالعدل فيهم، فإن أهل الجاهلية كانوا [يجعلون جميع الميراث للذكور] دون الإناث، فأمر الله تعالى بالتسوية بينهم في أصل الميراث.
فقه البیوع (1/227-226):
و ما ذکر نا من حکم التلجئة یقاربه ما یسمی فی القوانین الوضعیة "عقودا صوریة" (Ostensible Contracts) و تسمی فی بلاد نا Benami Contracts ، و هی أن تشتری أرض باسم غیر المشتری الحقیقی، و تسجل الأرض باسمه فی الجهات الرسمیة، و ذلك لأغراض ضریبیة أو لأغراض أخری، و لکن المشتری الحقیقی هو الذی دفع ثمنه. و عدة من القوانین الوضعیة تعترف بکونها صوریة، و بأن العبرة فیما بین المتعاقدین بالعقد الحقیقی المستتر… وعلی هذا الأساس أفتی علماء شبه القارة الهندیة بأن مجرد تسجیل الأرض باسم أحد لا یستلزم أن یکون هو مالکا لها، فلو اشتراها أحد باسم رجل آخر لم یدفع الثمن، و إنما دفع الثمن من قبل الأول، فمجرد هذا التسجیل لایعنی أنه وهب له الأرض.
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
27/ رجب/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


