| 87326 | طلاق کے احکام | طلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان |
سوال
اسفندیار (سائل) اپنے والد کے ساتھ کپڑوں کے مسئلے پر الجھا ہوا تھا۔طارق جو کہ سائل کا چچا ہے ،اپنے بھائی(سائل کے والد) کے ساتھ اس کاروبار میں شریک بھی ہے۔ سائل نے کہا کہ: "ایک، دو، تین، مجھے طلاق ہے کہ میں اپنے چچا کے کپڑے اور دوسری چیزیں نہیں لوں گا"۔عید کے دن اس نے کپڑے لیے، کپڑے 8 سوٹ 15 ہزار کے آئے تھے ،جس کے چھ ہزار روپے سائل نے جیب سے ادا کیے۔
دوسرا واقعہ عید کے دوسرے روز پیش آیا کہ اسفندیار (سائل) اپنے چچا طارق کے ساتھ مرغیوں کے مسئلے پر لڑ پڑا، تو چچا نے کہا کہ گھر سے نکلو۔ غصے میں سائل نے کہا: "ایک، دو، تین، مجھے طلاق ہے ،میں پھر اس گھر میں نہیں آؤں گا"۔
سائل کی منگنی (نکاح) ہوئی ہے۔ دونوں واقعات میں سائل نے بیوی کا لفظ استعمال نہیں کیا ہے، تو کیا طلاق واقع ہوگئی؟
تنقیح نمبر 01: سائل سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اس نے پشتو میں یہ الفاظ "ایک ، دو ، تین، پہ ما طلاق" کہے تھے، جس کا اردو ترجمہ ہے، "ایک ،دو، تین، مجھ پر طلاق"۔
تنقیح نمبر 02: سائل سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ خلوتِ صحیحہ بھی نہیں پائی گئی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ طلاق واقع ہونے کے لیے بیوی کی طرف حقیقی یا معنوی نسبت ضروری ہے،اس کے بغیر طلاق واقع نہیں ہوتی،حقیقی اضافت کا مطلب یہ ہے کہ شوہر خطاب کی ضمیر کے ساتھ فعلِ طلاق کی بیوی کی طرف صراحت کے ساتھ نسبت کرے،مثلا میں نے تجھے طلاق دی ،جبکہ معنوی نسبت کا مطلب یہ ہے کہ شوہر کے الفاظ میں خطاب کی ضمیر کے ساتھ بیوی کی طرف لفظوں میں طلاق کی نسبت موجود نہ ہو،بلکہ اسم ظاہر،خطاب کے علاوہ دیگر ضمائر یا صرف اسم اشارہ کے ذریعے بیوی کی طرف طلاق ہو، مثلا زینب کو طلاق،میری بیوی کو طلاق،یا بیوی کی طرف اشارہ کرکے کہے:اسے طلاق ،یا ان کے علاوہ دیگر ایسے قرائن موجود ہوں جن سے معلوم ہورہا ہو کہ یہ بیوی کو ہی طلاق دے رہا ہے،اضافت معنویہ کے قرائن درج ذیل ہیں:
(ا)تخاطب ،مثلا بیوی کو مخاطب کرکے کہے :طلاق ہے،یاصرف طلاق،طلاق،طلاق کہے۔
(۲) نیت،مثلا کسی نے بیوی کی طرف نسبت اور تخاطب کے بغیر صرف طلاق کے الفاظ کہے،مثلا شوہر نے کہا:طلاق ہے اور پوچھنے پر اس نے کہا کہ بیوی کو طلاق دینا مقصود تھا تو طلاق واقع ہوجائے گی۔
(۳) مذاکرہ طلاق،مثلا بیوی کہے :مجھے طلاق دو اور شوہر جواب میں کہے: دیدی،یا بیوی کے علاوہ کوئی اور شوہر سے اس کی بیو ی کی طلاق کا مطالبہ کرے اور شوہر جواب میں بیوی کی طرف نسبت کیے بغیر طلاق کے الفاظ کہہ دے،یا ایک بار بیوی کی طرف نسبت کرکے طلاق کے الفاظ کہنے کے بعد بغیر نسبت کے مزید الفاظ کہے،مثلا ایک بار کہے:میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی، اور اس کے متصل بعد کہے:طلاق دی،طلاق دی۔
(۴) امداد الفتاوی (2/ 446)اور دیگر کتب فقہ میں نسبت معنویہ کا ایک قرینہ عرف کو بھی قرار دیا گیا ہے،یعنی طلاق کے معنی کے محتمل جو الفاظ اور تعبیرات عرف میں طلاق کے لیے متعین ہوجائیں ان سے حقیقی نسبت کے بغیر بھی طلاق ہوجائے گی،جیسے کوئی "الطلاق یلزمنی" یا "علّی الطلاق" یعنی مجھ پر طلاق لازم ہے،ایسے عرف میں استعمال کرے جس میں ان الفاظ سے بھی طلاق دی جاتی ہو۔
صورتِ مسئولہ میں بیوی کی طرف طلاق کی معنوی نسبت پائی جا رہی ہے، کیونکہ شوہر نے پشتو زبان میں جو الفاظ "ایک، دو، تین، پہ ما طلاق" کہے ہیں، ان الفاظ سے عرفاً بیوی ہی کو طلاق دینا مقصود ہوتا ہے۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں شوہر نے اپنی بیوی کو نکاح کے بعد، رخصتی اور خلوتِ صحیحہ (یعنی کسی مانع کے بغیر تنہائی میں ملاقات) سے پہلے تین طلاقیں دی ہیں، جس میں بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو گئی ہے ۔کیونکہ "ایک دو تین، پہ ما طلاق" کہنے کا مطلب ہے "ایک پہ ما طلاق، دو پہ ما طلاق، تین پہ ما طلاق" جس میں پہلی طلاق سے بیوی بائنہ ہوجائے گی اور غیر مدخول بہا ہونے کی وجہ سے باقی دو طلاق لغو ہو جائیں گی ، اور بیوی پر عدت گزارنا بھی لازم نہیں ہے۔ اس صورت میں اگر شوہر اسی عورت سے باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہے، تو ازسرِنو نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح کر سکتا ہے اور آئندہ کے لیے اس کو دو طلاقوں کا اختیار باقی ہوگا۔
حوالہ جات
الدر المختار (247/03):
"باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) بالتشديد قيد بخطابها، لأنه لو قال: إن خرجت يقع الطلاق أو لا تخرجي إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لم يقع لتركه الإضافة إليها".
قال ابن عابدین رحمہ اللہ ":(قوله: لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق. اهـ.
أقول: وما ذكره الشارح من التعليل أصله لصاحب البحر أخذا من قول البزازية في الأيمان قال لها: لا تخرجي من الدار إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت، لا يقع لعدم حلفه بطلاقها، ويحتمل الحلف بطلاق غيرها فالقول له. اهـ. ومثله في الخانية، وفي هذا الأخذ نظر، فإن مفهوم كلام البزازية أنه لو أراد الحلف بطلاقها يقع؛ لأنه جعل القول له في صرفه إلى طلاق غيرها، والمفهوم من تعليل الشارح تبعا للبحر عدم الوقوع أصلا لفقد شرط الإضافة، مع أنه لو أراد طلاقها تكون الإضافة موجودة ويكون المعنى: فإني حلفت بالطلاق منك أو بطلاقك، ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. اهـ. على أنه في القنية قال عازيا إلى البرهان صاحب المحيط: رجل دعته جماعة إلى شرب الخمر فقال: إني حلفت بالطلاق أني لا أشرب وكان كاذبا فيه ثم شرب طلقت. وقال صاحب التحفة: لا تطلق ديانة اهـ۔
وما في التحفة لا يخالف ما قبله؛ لأن المراد طلقت قضاء فقط، لما مر من أنه لو أخبر بالطلاق كاذبا لا يقع ديانة بخلاف الهازل، فهذا يدل على وقوعه وإن لم يضفه إلى المرأة صريحا، نعم يمكن حمله على ما إذا لم يقل :إني أردت الحلف بطلاق غيرها فلا يخالف ما في البزازية ويؤيده ما في البحر لو قال: امرأة طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا وقال لم أعن امرأتي يصدق اهـ ويفهم منه أنه لو لم يقل ذلك تطلق امرأته؛لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها، فقوله :إني حلفت بالطلاق ينصرف إليها ما لم يرد غيرها ؛لأنه يحتمله كلامه، بخلاف ما لو ذكر اسمها أو اسم أبيها أو أمها أو ولدها فقال: عمرة طالق أو بنت فلان أو بنت فلانة أو أم فلان، فقد صرحوا بأنها تطلق، وأنه لو قال: لم أعن امرأتي لا يصدق قضاء إذا كانت امرأته كما وصف كما سيأتي قبيل الكنايات .
وسيذكر قريبا أن من الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام، فيقع بلا نية للعرف إلخ. فأوقعوا به الطلاق مع أنه ليس فيه إضافة الطلاق إليها صريحا، فهذا مؤيد لما في القنية، وظاهره أنه لا يصدق في أنه لم يرد امرأته للعرف.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 252):
ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 373):
إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية .
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
02 /ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


