| 8766ْ7 | ایمان وعقائد | کفریہ کلمات اور کفریہ کاموں کابیان |
سوال
میں نے ایک مسلمان( ویگن) لڑکی سے شادی کی ہے۔میں اسے پہلے سے جانتا تھا، لیکن میں نے سوچا کہ میں اسے اسلامی نقطہ نظر سے ویگنزم کے بارے میں سمجھا دوں گا ،لیکن وہ ہر بات سے یکسر انکار کرتی ہے اور وہ ویگن رہنا چاہتی ہے اور مجھےبھی گھر میں ویگن رہنے پر مجبور کرنا چاہتی ہے۔ اور ہمارے آنے والے بچوں کی پرورش بھی ویگن بنیادوں پر ہوگی۔میں نے اسے علماء کے کچھ ویڈیو کلپس دکھائے جن میں شیخ عاصم الحکیم ، ڈ. عمر سلیمان اور بہت سے دیگر (جن کو وہ سنتی ہیں) ،انہوں نے کھلے عام کہا کہ یہ خیال کرنا کہ جانوروں کو ذبح کرنا ان کے ساتھ ناانصافی ہے،یہ کفر ہے ۔ لیکن وہ یہ کہتے ہوئے ہر چیز کی تردید کرتی ہیں کہ علماء نہیں جانتے۔ اس وجہ سے میری شادی شدہ زندگی بہت زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ براہ کرم سوال کے ساتھ میرا نام عام نہ کریں اور مجھے اس بارے میں شرعی حکم بتائیں۔ کچھ حوالہ جات جو وہ ویگنزم کے حق میں استعمال کرتی ہیں وہ یہاں منسلک ہیں۔
https://www.greenislam.org/articles/the-eid-al-adha-sacrifice-as-a-climate-concern-exploring-islamic-alternatives https://www.greenislam.org/
نوٹ: ویگنزم (Veganism)ایک نقطہ نظر ہے جو اس بات کا مدعی ہے کہ جانوروں کو اپنی کسی بھی منفعت خواہ وہ غذا ہو یا لباس ،کسی بھی مقصد کیلئے استعمال کرنا ان کے ساتھ ظلم اور نا انصافی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
محض ویگن (Vegan)یا ویجیٹیرین(Vegetarian)ہونا منافی اسلام نہیں ،لیکن اگر اس کے ساتھ یہ عقیدہ بھی ہو کہ کسی بھی صورت میں جانوروں سے فائدہ اٹھانا،یہ ان کا استحصال اورسرا سر ظلم ہے ،اور اللہ رب العزت نے اس کی اجازت دے کر (العیاذباللہ) نا انصافی کی ہے تو یہ عقیدہ رکھنا بلا تردد منافی اسلام ہے ۔لہذا اگر صورت مسئولہ میں موصوفہ شادی سے قبل ہی سے مذکورہ عقیدہ رکھتی ہیں تو ان کے ساتھ آپ کا نکاح منعقد نہیں ہوا۔اور اگر بعد میں یہ عقیدہ اختیار کیا گیا تو آپ کا نکاح ختم ہوگیا۔ اور اگر جائز سمجھتے ہوئے محض طبعی ترس کی وجہ سے وہ گوشت استعمال نہیں کرتی تو اس سے نکاح جائز ہوا ہے، اس صورت میں اس کو وقت دیں اور موقع کی مناسبت سے ذہن سازی کی کوشش کریں۔ اس موضوع پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے لیکچرز مفید ہیں،ان کو سنوائیں۔جہاں تک مذکورہ دلائل کی بات ہے تو وہ اس سے متعلق ہیں کہ جانوروں کے ذبح سے وسائل خرچ ہوتے ہیں اور ماحولیات پر برا اثر پڑتا ہے جس کا حل یہ ہے کہ لوگ ایسی غذا کو اختیار کریں جس سے جانوروں کا تعلق نہ ہو۔
حوالہ جات
قال تعالی:
وَٱلأَنعَٰمَ خَلَقَهَا لَكُم فِيهَا دِفءوَمَنَٰفِعُ وَمِنهَا تَأكُلُونَ(النحل:05)
إكفار الملحدين في ضروريات الدين (ص2):
والمراد "بالضروريات على ما اشتهر في الكتب: ما علم كونه من دين محمد صلى الله عليه وسلم بالضرورة، بأن تواتر عنه واستفاض، وعلمته العامة، كالوحدانية، والنبوة، وختمها بخاتم الأنبياء، وانقطاعها بعده، وهذا مما شهد الله به في كتابه، وشهدت به الكتب السابقة، وشهد به نبينا صلى الله عليه وسلم، وكالبعث والجزاء، ووجوب الصلاة والزكاة، وحرمة الخمر ونحوها، سمي: ضرورياً، لأن كل أحد يعلم أن هذا الأمر مثلاً من دين النبي صلى الله عليه وسلم، ولابد، فكونها من الدين ضروري وتدخل في الإيمان.
حمادالدین قریشی
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
29/ذی القعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


