| 86767 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
کرپٹو کرنسی حلال ہے یا نہیں؟ Future Trading and Spot Trading کا علیحدہ علیحدہ حکم بتادیں ۔اگر جائز نہیں ہے تو استغفار کی اب کیا صورت ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی معتبر اور قابل اعتماد ایکسچینج کے ذریعے کرپٹوٹریڈنگ کی مختلف صورتیں ہیں ،جن کا حکم تفصیلاً درج ذیل ہے:
- فیوچر ٹریڈنگ: اس میں عملاً لین دین نہیں ہوتا بلکہ قیمت کے حساب سے نفع نقصان برابر کیا جاتا ہے۔ یہ شرعاً قمار (جوا) ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور اس کی آمدن حرام ہے۔
- آپشن ٹریڈنگ: اس میں کسی شخص کو خریدنے یا بیچنے کا اختیار بیچا جاتا ہے اور اس پر پریمیم لیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ اختیار بیچے جانے والی چیز نہیں ہے اس لیے یہ بھی ناجائز ہے اور اس کی آمدن بھی حرام ہے۔
- مارجن ٹریڈنگ: اس میں بائنانس سے سود پر قرض لے کر اس سے ٹریڈ کی جاتی ہےاورسود کا لین دین شرعاً حرام ہے۔ البتہ اس سے ہونے والے نفع کا حکم اسپاٹ ٹریڈنگ والا ہے جو آگے مذکور ہے۔
- اسپاٹ ٹریڈنگ: اس میں موجودہ قیمت کے مطابق کوائنز اور ٹوکنز کا لین دین ہوتا ہے۔ اس میں کوائن اور ٹوکن کے پیچھے کبھی ناجائز پراجیکٹ ہوتا ہے اور کبھی ان کے پیچھے ناجائز پراجیکٹ نہیں ہوتا ۔اس تفصیل کے مطابق حکم درج ذیل ہے :
ان کوائنزیا ٹوکنز کی ٹریڈنگ جن کے پیچھے ناجائز(مثلاً سودی قرض یا ہیجنگ وغیرہ کا) پراجیکٹ ہو۔ چونکہ ان کا انتہائی استعمال بھی ان کے پراجیکٹ میں ہوتا ہے اس لیے ان کی ٹریڈنگ اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی جائز نہیں ہے۔
وہ کوائنز اور ٹوکنز جن کے پیچھے کوئی ناجائز پراجیکٹ نہ ہو ،اس میں اگر حکومت کی طرف سے ان کی ٹریڈ ممنوع ہو،تو
عوام کی مصلحت پر مبنی حکومتی قانون پر عمل کرنا شرعاً لازم ہونے کی بناء اس کی ٹریڈ کا ناجائز ہونا واضح ہے ۔ اور اگر حکومت کی طرف سے ان کی ٹریڈ کی ممانعت نہیں ہے ، مگر حکومت ان کی پشت پر بھی نہیں ہوتی ، تو ایسی صورت میں بھی بہت سے معاصر علماء کی رائے کے مطابق ،ان کی پشت پرحکومت کے نہ ہونےیا ان کے ثمن نہ ہونے اور سٹے بازی میں استعمال ہونے کی وجوہات کی بنا پر، ان کی ٹریڈناجائز ہے،لہٰذا ایسی کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کا بھی مشورہ نہیں دیا جا سکتا ۔ البتہ جن ممالک میں یہ لیگل ٹینڈر کے طور پر تسلیم شدہ ہو اور حکومت اس کی اجازت دیتی ہو اور اس کی پشت پناہی کرتی ہو (ذمہ داری وغیرہ لے کر)، تو وہاں کے قوانین اور حالات کے مطابق ان کے ثمن عرفی ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا ۔
کوئی بھی گناہ سرزد ہونے کے بعد استغفار کا طریقہ یہ ہے کہ اول باری تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں کا اعتراف کرے، گناہ پر ندامت کا اظہار کرے، اور آئندہ گناہ نہ کرنےکا پکا عزم کرے اور اس کے بعد صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرے، اور اس کے لیے کوئی بھی الفاظ جس سے اللہ سے معافی مانگنے کا معنی موجود ہو استعمال کیا جاسکتا ہے، اس مفہوم کی ادائیگی کے لیے"أستغفر الله "بھی کہا جاسکتا ہے، اور اس کے بہتر ین الفاظوں میں سے چند یہ ہیں أَسْتَغْفِرُ اللّٰه الَّذِيْ لَا اِلٰـه اِلَّا هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَأَتُوْبُ إِلَیْه"،اور " رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَتُبْ عَلَیَّ إِنَّك أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ".اس کے ساتھ ساتھ کثرت سے استغفار کرے ۔
حوالہ جات
"قوله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل} [النساء: 29] بالحرام، يعني: بالربا والقمار والغصب والسرق"
صحيح مسلم (3/ 1219):
سمعت رسول الله ﷺ يقول ( وأهوى النعمان بإصبعيه إلى أذنيه ) ( إن الحلال بين وإن الحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 403):
لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين ( (4/ 505
وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی
2/شعبان /6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


