| 86815 | رضاعت کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
مجھے میری خالہ نے دودھ پلایا جب میری عمر1.5 سال تھی،کیوں کہ میری والدہ اس وقت گھر پر موجود نہیں تھیں (اور میری والدہ سے اس نے پہلے اجازت لی) ۔ پھر بعد میں ایک اور دفعہ بھی میری والدہ کی اجازت سے مجھے خالہ نے انہی دنوں میں دودھ پلا یا۔ اس طرح میں نے دو مرتبہ اپنی خالہ کا دودھ پیا، میں نے سنا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک رضاعت کے ثابت ہونے کے لیے کم سے کم پانچ مرتبہ دودھ پینا ضروری ہے۔ اب امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کے مطابق کیا میری خالہ کی بیٹی میری محرم ہے یا نہیں؟ فقہ شافعی میں ایک مرتبہ یا دو مرتبہ دودھ پینے کا کیا مفہوم ہے ، کیا اس سے مراد صرف"پانچ گھو نٹ" ہیں یا اس سے مراد" پانچ مرتبہ دودھ پلانا "ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصولی بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص حنفی ہے تو اسے مذہب حنفی پر عمل کرنا لازمی ہے اور اگر وہ شافعی ہے تو شوافع کے مذہب پر عمل لازمی ہے ۔ اس بات پر پوری امت کا اجماع ہے کہ ضرورتِ شدیدہ (جس کے لیے شرعاً اضطرار کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے) کے بغیر محض اپنی نفسانی خواہش کی بناء پرکسی مسئلہ میں دوسرے مذہب کو اختیار کرنا حرام اور ناجائز ہے۔
لہذا صورت مذکورہ میں اگر سائل شافعی ہے تو وہ شوافع کے کسی معتبر دار الافتاء سے رجوع کر لےاور اگر حنفی ہے تو صورت مذکورہ میں کوئی ایسی اضطراری کیفیت نہیں ہے کہ شوافع کے مذہب پر عمل کیا جائے، بلکہ فقہ حنفی کے مطابق ہی عمل کرنا لازم ہے۔ احناف کے ہاں اگر کسی بچے نے ابتدائی دو سالوں میں ہی کسی عورت کا ایک مرتبہ بھی دودھ پی لیا، قلیل ہو یا کثیر تو رضاعت ثابت ہوجائے گی ۔
لہذا صورت مسئولہ میں خالہ کا دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت ہوگئی ہے اور خالہ کی بیٹی محرم شمار ہوگی ۔
حوالہ جات
اصول الافتاء و آدابہ( صفحہ نمبر 243،244):
شروط الافتاء بمذهب آخر بسبب الحاجة أو عموم البلوي
وقد صدرت من بعض الفقهاء تفردات لم يأخذ بها جماهير أهل العلم، بل وقع منهم الإنكار عليها. وإن اللجوء إلى تلك التفردات طلباً للتيسير وتتبعاً للرخص مما شنع عليه السلف قديماً وحديثاً .قال الإمام الأوزاعي رحمه الله تعالى : من أخذ بنوادر العلماء خرج من الإسلام ) .وقال الحافظ الذهبي رحمه الله تعالى : ومن تتبع رُخص المذاهب وزلات المجتهدين فقد رَقَّ دينه. كما قال الأوزاعي وغيره: من أخذ بقول المكيين في المتعة، والكوفيين في النبيذ، والمدنيين في الغناء، والشاميين في عصمة الخلفاء؛ فقد جمع الشر. وكذا من أخذ في البيوع الربوية بمن يحتال عليها، وفي الطلاق ونكاح التحليل بمن توسع فيه، وشبه ذلك، فقد تعرض للانحلال (۳).وقال الإمام أحمد بن حنبل رحمه الله تعالى : الو أن رجلاً عملا بکل رخصة: يقول أهل الكوفة في النبيد، وأهل المدينة في السماع، وأهل مكة في المتعة، كان فاسقاً.وقال معمر: الو أن رجلاً أخذ يقول أهل المدينة في السماع - يعني الغناء - وإتيان النساء في أدبارهن، ويقول أهل مكة في المتعة والطرف ويقول أهل الكوفة في المسكر كان أشر عباد الله تعالى.
«المبسوط» للسرخسي (5/ 134):
وحجتنا قوله تعالى: {وأمهاتكم اللاتي أرضعنكم} [النساء: 23] أثبت الحرمة بفعل الإرضاع فاشتراط العدد فيه يكون زيادة على النص، ومثله لا يثبت بخبر الواحد. وفي حديث علي - رحمه الله تعالى - أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الرضاع قليله وكثيره سواء» يعني في إيجاب الحرمة، ولأن هذا سبب من أسباب التحريم، فلا يشترط فيه العدد كالوطء
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (4/ 2):
«لأنها صارت أما له بالرضاع فتحرم عليه لقوله عز وجل {وأمهاتكم اللاتي أرضعنكم} [النساء: 23] معطوفا على قوله تعالى {حرمت عليكم أمهاتكم وبناتكم} [النساء: 23] فسمى سبحانه وتعالى المرضعة أم المرضع وحرمها عليه، وكذا بناتها يحرمن عليه سواء كن من صاحب اللبن أو من غير صاحب اللبن من تقدم منهن ومن تأخر؛ لأنهن أخواته من الرضاعة وقد قال الله عز وجل {وأخواتكم من الرضاعة} [النساء: 23] أثبت الله تعالى الأخوة بين بنات المرضعة وبين المرضع والحرمة بينهما مطلقا من غير فصل بين أخت وأخت، وكذا بنات بناتها وبنات أبنائها وإن سفلن؛ لأنهن بنات أخ المرضع وأخته من الرضاعة، وهن يحرمن من النسب كذا من الرضاعة.»
زاہد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
05/شعبان 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زاہد خان بن نظام الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


