03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فرش کو پاک کرنے کا طریقہ
86797پاکی کے مسائلپانی کے مسائل

سوال

 اگر گھر میں لگے فرش پر ان جانے میں ماسی نجس  پانی سے  پوچا  لگا دے تو کیا  فرش ناپاک ہو جائے گا؟ کیا وہ فرش خشک ہو کر پاک ہو گا یا نہیں؟  کیا پوچا لگانے سے جو خشک نشان فرش  پر بن جاتے ہیں وہ ناپاکی کے نشان شمار ہوں گےیا اس فرش پر نماز ادا ہو جائے گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

   فرش پر نجاست لگ جا نے کی صورت میں اگر اس کےبعد فرش خشک ہوجائے اور اس  نجاست کے رنگ وبو کا اثر بھی ختم ہوجائے تو اس سے  فرش پاک ہو جاتا ہے، لہذا صورت مذکورہ میں اگر کسی نے  ناپاک پانی سے فرش پر پوچا لگایا   ہو اور بعد میں وہ    اس طرح  خشک ہوگیا کہ اس سے نجاست کی بو اور نشانات بھی زائل ہوگئے    تو فرش کو پاک سمجھا جائے گا،اور  اس پر نماز پڑھنا  جائز ہوگا لیکن تیمم پھر بھی  نہیں کرسکتے، باقی اگر فرش خشک ہونے  کے بعداس پر نجاست کے   نشانات موجود ہوں  تو وہ جگہ  ناپاک سمجھی جائےگی،اور   اس   پر  نماز پڑھنا اور وہاں سے تیمم کرنا دونوں جائز نہیں ہوں گے۔

حوالہ جات

«الموسوعة الفقهية الكويتية» (29/ 106):

ذهب الحنفية عدا زفر إلى أن الأرض إذا أصابها نجس، فجفت بالشمس أو الهواء أو غيرهما وذهب أثره طهرت وجازت الصلاة عليها، لقوله صلى الله عليه وسلم: أيما أرض جفت فقد ذكت.

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (1/ 85):

ولو أصابت النجاسة الأرض فجفت وذهب أثرها تجوز الصلاة عليها عندنا، وعند زفر لا تجوز، وبه أخذ الشافعي، ولو تيمم بهذا التراب لا يجوز في ظاهر الرواية، وقد ذكرنا الفرق فيما تقدم.

 زاہد خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

04  /شعبان 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زاہد خان بن نظام الدین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب