| 86798 | نکاح کا بیان | نسب کے ثبوت کا بیان |
سوال
میاں بیوی نے کسی سے بچے کی پیدائش سے پہلے کھانے،پینے اور دیگر اخراجات مثلا ڈلیوری وغیرہ کےلئے خرچہ لیا اور بچے کے پیدا ہوتے ہی بغیر دیکھےکسی دوسرے کو حوالے کردیا تو اب اس کے اصل ماں باپ کون کہلائیں گے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعاًکسی بچے کو گود لینا (منہ بولا بیٹابنانا)،اس کی پرورش کرنا اور اسے بیٹے کی طرح پالنااور تربیت کرنا اگرچہ جائز ہے، لیکن شرعی لحاظ سے وہ حقیقی طور پر نسبی بیٹا نہیں بنتا ،اور نہ ہی اس پربیٹے ہونے کے احکامات مثلاًوراثت اورشرعی پردہ وغیرہ جاری ہوتے ہیں، پرورش کرنے والا بچے کا حقیقی والدشمار نہیں ہوگا۔
لہذا صورت مذکورہ میں بچے کے اصل ماں باپ و ہی ہیں جن کے ہاں اس کی پیدائش ہوئی ہے، کسی دوسرے کے لئے اس بچے کے حقیقی والدین ہونے کا دعوی کرنا شرعا جائز نہیں ہے.
حوالہ جات
وفی تفسیر الوجيز للواحدي (ص: 858) :
{ادعوهم لآبائهم} أي: انسبوهم إلى الذين ولدوهم {هو أقسط عند الله} أعدل عند الله {فإن لم تعلموا آباءهم} من هم {فإخوانكم في الدين} أي: فهم إخوانكم في الدين {ومواليكم} وبنو عمكم وقيل: أولياؤكم في الدين {وليس عليكم جناح فيما أخطأتم به} وهو أن يقول لغير ابنه: يا بني من غير تعمد أن يجريه مجرى الولد في الميراث وهو قوله: {ولكن ما تعمدت قلوبكم} يعني: ولكن الجناح في الذي تعمدت قلوبكم
مشکوة شریف ص ۲۳۹، بحوالہ: صحیحین:
وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم علیہ وسلم:من ادعی إلی غیر أبیہ فعلیہ لعنة اللہ والملائکة والناس أجمعین، لا یقبل منہ صرف ولاعدل.
زاہد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
04/شعبان 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زاہد خان بن نظام الدین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


