| 86787 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
2011 میں میرے والد صاحب محمد اقبال کو پاکستانی فوج کی طرف سے تھل، ضلع بھکر کے علاقے میں 20 ایکڑ غیر آباد جگہ الاٹ ہوئی۔ اسی دوران ایک اور شخص، خان محمد کو بھی فوج کی طرف سے 20 ایکڑ زمین الاٹ کی گئی۔ دونوں ہمسایوں نے اپنی زمین پر فراش کے درخت لگانا شروع کیے۔ زمین الاٹ ہونے کے تقریباً 10 سال بعد جب زمین کی پیمائش کی گئی تو خان محمد کے کچھ درخت اقبال صاحب کی حدود میں آگئے۔
خان محمد کا کہنا ہے کہ یہ درخت چونکہ انہوں نے لاعلمی میں اقبال صاحب کی حدود میں لگائے تھے، اس لیے ان درختوں کو کاٹنے کے وہ حق دار ہیں، کیونکہ پانی اور دیکھ بھال انہوں نے کی ہے۔ دوسری طرف، اقبال صاحب کے ورثاء کا موقف ہے کہ 10 سال تک خان محمد کے درختوں نے ہماری زمین استعمال کی، اس لیے ہم اس زمین کے 10 سالہ کرائے کے دعویدار ہیں۔اقبال صاحب کے ورثاء یہ بھی کہتے ہیں کہ خان محمد کا یہ کہنا کہ انہوں نے لاعلمی میں درخت لگائے، درست نہیں ہے، کیونکہ انہیں درخت لگانے کے 5 سے 6 سال بعد ہی علم ہوگیا تھا کہ وہ زمین ان کی نہیں بلکہ اقبال صاحب کی ہے،لیکن خان محمد نے اس بات کو چھپائے رکھا تاکہ لاعلمی کا بہانہ بنا کر ہر تین چار سال بعد ان کے بندے درخت کاٹتے رہیں۔
اب دونوں فریقین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ زمین جس پر درخت کھڑے ہیں، وہ اقبال صاحب کے ورثاء کی ہے۔ تھل کے علاقے میں عرف یہ ہے کہ جب کوئی غلطی سے درخت اپنے ہمسائے کی حدود میں لگا دیتا ہے تو اسے پہلی بار درخت کاٹنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
آپ قرآن و سنت کی روشنی میں اس تنازع کا حل مرحمت فرمائیں کہ یہ درخت کٹوا کر بیچنے کا حق دار کون ہے؟ خان محمد یا میرے والد اقبال صاحب کے ورثاء؟دوسرا، کیا ان درختوں کا زمین سے اکھاڑنا واجب اور ضروری ہے؟اگر ان درختوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے تو اس سے نئی قلموں کے درخت بننے کے امکانات کم ہیں اور آمدن کا ایک ذریعہ ہمیشہ کے لیے ضائع ہو جائے گا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصول یہ ہے کہ جو شخص درخت لگائے گا مالک بھی وہی ہوگا، چاہے درخت اپنی زمین پر لگائے یا کسی دوسرے کی زمین پر،البتہ کسی دوسرے کی زمین پر اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ مذکورہ صورتِ حال میں اگر خان محمد نے درخت لگائے ہیں تو وہی ان کا مالک ہو گا، لہٰذادرخت کاٹنے کا حق بھی خان محمد کو ہوگا، اور اقبال صاحب کے ورثاء انہیں اس سے منع نہیں کرسکتے اور نہ ہی ان سے کسی قسم کے ضمان کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ تاہم اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ زمین اقبال صاحب کی ہے تو اب اقبال صاحب کے ورثاء کو یہ اختیار حاصل ہے کہ خان محمد کو حکم دیں کہ ہماری زمین خالی کر دیں اور اپنے درخت اکھاڑ کر لے جائیں۔
باقی اگر درخت اکھاڑنے سے زمین کو غیر معمولی نقصان پہنچ رہا ہوتو اقبال صاحب کے ورثاء کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ خان محمد کو اکھڑے ہوئے درختوں کی قیمت ادا کر کے درخت اپنی ملکیت میں لے لیں، یا پھر درخت خان محمد کے حوالے کر دیں اور جو نقصان ہوا ہو، اس کا معاوضہ خان محمد سے وصول کرلیں۔
حوالہ جات
«درر الحكام في شرح مجلة الأحكام» (3/ 256):
«(إذا طعم أحد شجرة فكما أن الخلف الذي هو من قلم التطعيم يكون ملكه كذلك ثمرته تكون له أيضا) .»
«الهداية في شرح بداية المبتدي» (4/ 301):
«قال: "ومن غصب أرضا فغرس فيها أو بنى قيل له اقلع البناء والغرس وردها" لقوله عليه الصلاة والسلام: "ليس لعرق ظالم حق" ولأن ملك صاحب الأرض باق، فإن الأرض لم تصر مستهلكة والغصب لا يتحقق فيها، ولا بد للملك من سبب فيؤمر الشاغل بتفريغها، كما إذا شغل ظرف غيره بطعامه.قال: "فإن كانت الأرض تنقص بقلع ذلك فللمالك أن يضمن له قيمة البناء والغرس مقلوعا ويكونان له"؛ لأن فيه نظرا لهما ودفع الضرر عنهما. وقوله قيمته مقلوعا معناه قيمة بناء أو شجر يؤمر بقلعه؛ لأن حقه فيه، إذ لا قرار له فيه فتقوم الأرض بدون الشجر والبناء وتقوم وبها شجر أو بناء، لصاحب الأرض أن يأمره بقلعه فيضمن فضل ما بينهما.»
«المبسوط» للسرخسي (11/ 73):
«(رجل) غصب دار رجل وسكنها، فإن انهدمت من سكناه أو من عمله فهو ضامن لذلك؛ لأنه متلف لما انهدم بفعله، والإتلاف يتحقق في العقار كما في المنقول، وإن انهدمت من غير عمله فلا ضمان عليه في قول أبي حنيفة وأبي يوسف الآخر رحمهما الله؛ لأن الغصب الموجب للضمان لا يتحقق عندهما في العقار،»
«الأصل» لمحمد بن الحسن (8/ 453):
«قلت: أرأيت رجلا استعار من رجل دارا أو أرضا، على أن يبني فيها أو على أن يغرس فيها نخلا، فأذن له في البناء والغرس، ثم بدا لصاحبها أن يخرجه، هل له أن يضمن له شيئا من غرسه وبنائه، وقد غرس الرجل أو بنى؟ قال: لا يضمن. قلت: لم؟ قال: لأنه لم يوقت له وقتا. قلت: فهل يأخذ صاحب الغرس والبناء غرسه وينقض بناءه؟ قال: نعم.»
(المجلة الاحكام العدليه صفحه ١٧٥):
(ماده ٩٠٥)المغصوب ۸۸۱ إن كان عقاراً ۱۲۹ يلزم الغاصب ۸۸۱ رده الى صاحبه من دون أن يغيره وينقصه ، واذا طرأ على قيمة ١٥٤ ذلك العقار نقصان بصنع الغاصب وفعله يضمن ٤١٦ قيمته . مثلا لو هدم أحد محلا من الدار التي غصبها ۸۸۱ او انهدم بسبب سكناه وطرأ على قيمتها نقصان يضمن مقدار النقصان . كذلك لو احترقت الدار من النار التي أوقدها الغاصب يضمن قيمتها مبنية ۸۸۳(انظر مادة ٣٤)
زاہد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
27 /رجب/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زاہد خان بن نظام الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


