03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حرام مواد کے لیے استعمال ہونے والی کاروں کی فروخت کا حکم
86982جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کیا ایسی کاروں کو بیچنا جائز ہے جو ان بلٹ ریڈیوز اور اسکرینز کے ساتھ پہلے سے انسٹال شدہ یوٹیوب اور گوگل جیسی ایپس کے ساتھ آتی ہیں، جو کہ حرام مواد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں؟ کار خریدنے کا بنیادی مقصد نقل و حمل ہے۔ کیا میں ایسی گاڑیاں بیچنے کا گناہ گار ہوں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر گاڑیوں میں پہلے سے ریڈیو اور اسکرین کے ساتھ یوٹیوب اور گوگل جیسی ایپس موجودہوں، تو انہیں بیچنا جائز ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص ان کو حرام مواد دیکھنے کے لیے استعمال کرے گا  تو وہ شخص خود ہی گناہ گار ہوگا، آپ کو گناہ نہ ہوگا۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى :جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه. (رد المحتار : 391/6 ) 
استأجر رجلا لينحت له مزمارا أو طنبورا أو بربطا ففعل يطيب له الأجر إلا أنه يأثم في الإعانة على المعصية. (البحر الرائق شرح: 8/ 23)

واجد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
28/شعبان6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

واجد علی بن عنایت اللہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب