| 87055 | قسم منت اور نذر کے احکام | متفرّق مسائل |
سوال
میرا سوال ہے کہ ماضی میں مجھے فحش فلموں کی عادت لگ گئی تھی جس پر میں سچے دل سے توبہ کرچکا ہوں، لیکن میں آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ میں نے زبان سے یہ الفاظ ادا کیےاورکہا اےاللہ! جب جب مجھ سے یہ گناہ ہوگا تو میں ایک روزہ رکھوں گا ، میری یہ بری عادت تو چھوٹ گئی ,لیکن مجھ پر ساٹھ یا سو روزے واجب ہوچکے ہیں۔ تو کیا اب کسی طرح کا کفارہ ادا کرنے سے میری یہ بات ساقط ہوسکتی ہے اور مجھ پر پچھلے روزے معاف ہو سکتے ہیں اور آئندہ کے لیے بھی اگر خدانخواستہ یہ گناہ سرزد ہوجائے تو میں روزے سے بچ سکتا ہوں؟ اگر الفاظ ادا کرتے ہوئے میری نیت قسم کی تھی یا منت کی تھی، دونوں صورتوں میں حکم بتادیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں مذکورہ الفاظ کہ " جب جب مجھ سے یہ گناہ ہوگا تو میں ایک روزہ رکھوں گا "سے مقصود اپنےآپ کو گناہ سے باز رکھنا ہے ، تو یہ ایک اعتبار سے نذر اور دوسرے اعتبار سے قسم ہے،اس وجہ سےروزوں اور کفارہ یمین میں اختیار رہے گا ، چاہے نذر کے روزے رکھے،یا کفارہ یمین ادا کرے ۔ لہذا سائل سے جب بھی گناہ صادر ہو گا،تو اس پر نذر کے روزے لازم ہوں گے، یا قسم کا کفارہ لازم ہو گا ۔چونکہ آپ پر بہت سارے کفارے ایک ساتھ جمع ہو گئے ہیں، کسی ایک نذر کا کفارہ اب تک ادا نہیں کیا تو ایک کفارہ ادا کرنے سے بھی ذمہ بری ہو جائے گا۔البتہ کفارہ ادا کرنے کے بعد خدانخواستہ دوسری مرتبہ گناہ سرزد ہوجائے تو الگ سے کفارہ دینا ہو گا۔
نیزقسم کا کفارہ یہ ہے کہ: دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے، یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار کے بقدر گندم یا اس کی قیمت دے دے( یعنی سوا دو کلو گندم یا اس کی رقم )،یا دس مسکینوں کو ایک ایک جوڑا کپڑا پہنا دے،اگر اس کی وسعت نہ ہو تو پے در پے تین روزے رکھ لے۔
حوالہ جات
وفي تنقيح الفتاوى الحامدية: نعم اذا كان النذر معلقا بشرط لا يريده، فهو مخير بين الوفاء بالمنذور او كفارة اليمين على المذھب کما في التنوير و في الدرر وبه يفتي و عليه الفتوى لكثرة البلوي وفي الهداية لأن فيه معنی اليمين وھذاالتفصيل ھوالصحيح. (الفتاوی الحامدیۃ:86/1)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: (ثم ان)المعلق فيه تفصیل فان(علقه بشرط یريده كان قدم غائبي)أو شفی مریضی(یوفی)وجوبا(إن وجد)الشرط(و)إن علقه(بما لم يرده كان زينت بفلانة)مثلاً فحنث،(وفى)بنذره(أو كفر)ليمينه(علی المذھب) لانه نذر بظاہرہ یمین بمعناه فيخير ضرورة .(الدرالمختار: 738/3)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:قوله: (لأنه نذر بظاهره إلخ) لأنه قصد به المنع عن إيجاد الشرط فيميل إلى أي الجهتين شاء بخلاف ما إذا علق بشرط يريد ثبوته لأن معنى اليمين وهو قصد المنع غير موجود فيه لأن قصده إظهار الرغبة فيما جعل شرطا درر (قوله فيخير ضرورة) جواب عن قول صدر الشريعة.
أقول: إن كان الشرط حراما كإن زنيت ينبغي أن لا يتخير لأن التخيير تخفيف والحرام لا يوجب التخفيف قال في الدرر: أقول ليس الموجب للتخفيف هو الحرام بل وجود دليل التخفيف لأن اللفظ لما كان نذرا من وجه ويمينا من وجه لزم أن يعمل بمقتضى الوجهين ولم يجز إهدار أحدهما فلزم التخيير الموجب للتخفيف بالضرورة فتدبر. (رد المحتار : 3/ 739)
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:قوله: (وتتعدد الكفارة لتعدد اليمين) وفي البغية: كفارات الأيمان إذا كثرت تداخلت، ويخرج بالكفارة الواحدة عن عهدة الجميع. وقال شهاب الأئمة: هذا قول محمد. قال صاحب الأصل: هو المختار عندي. اهـ. مقدسي، ومثله في القهستاني عن المنية.
قال العلامۃ المرغینانی رحمہ اللہ: وعن أبي حنيفة رحمه الله أنه رجع عنه وقال إذا قال إن فعلت كذا فعلي حجة أو صوم سنة أو صدقة ما أملكه أجزأه من ذلك كفارة يمين وهو قول محمد رحمه الله " ويخرج عن العهدة بالوفاء بما سمى أيضا وهذا إذا كان شرطا لا يريد كونه لأن فيه معنى اليمين وهو المنع وهو بظاهره نذر فيتخير ويميل إلى أي الجهتين شاء بخلاف ما إذا كان شرطا يريد كونه كقوله إن شفى الله مريضي لانعدام معنى اليمين فيه وهو المنع وهذاالتفصيل هو الصحيح.(الهداية:2/747)
وفی النهر الفائق :وكفارته تحرير رقبة، أو إطعام عشرة مساكين كهما في الظهار، أو كسوتهم بما يستر عامة البدن فإن عجز عن أحدهما صام ثلاثة أيام متتابعة.(النهر الفائق : 3/ 58)
سخی گل بن گل محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
/02رمضان المبارک ،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سخی گل بن گل محمد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


