03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈراپ شپنگ کے لئےجائز سافٹ وئیر کی ایک شکل
87007خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

میں ایک سافٹ ویئر بنانا چاہتا ہوں جو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈراپ شپنگ کے مسئلے کو حل کرے۔ اسلام میں جب تک کسی چیز کی ذاتی ملکیت نہ ہو، انسان اس چیز کو فروخت نہیں کرسکتا۔ اسی مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئےمیں ایسا سافٹ ویئر تیار کر رہا ہوں جو خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان پل (path) کا کردار ادا کرے گا۔

اس سسٹم میں ایک خریدار (buyer) ہوگا اور ایک فروخت کنندہ (seller)۔ ویب سائٹ پر خریدار کے لیے آرڈر دینے کا آپشن ہوگا، جہاں آرڈر کی تفصیلات ہوں گی اور آرڈر کنفرم ہونے کا عمل ہوگا۔ جب خریدار آرڈر دے گا اور ادائیگی کرے گا، تو میرا سافٹ ویئر اس ادائیگی کو عارضی طور پر اپنے پاس روک لے گا۔

فروخت کنندہ(seller) پہلے اپنی رقم سے اصل کمپنی (جس کا پروڈکٹ فروخت ہو رہا ہے) سے اس پروڈکٹ کو خریدے گا۔ پھر وہی پروڈکٹ خریدار کو بیچے گا ۔ جب فروخت کنندہ اس بات کی تصدیق کا خط (confirmation letter) بھیجے گا کہ پروڈکٹ خریدار کو پہنچا دیا گیا ہے، تب سافٹ ویئر خریدار کی جانب سے روکی گئی رقم فروخت کنندہ کو منتقل کر دے گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ڈراپ شپنگ(Drop Shipping)میں اسلامی نقطہ نظر سے صرف ذاتی ملکیت کے نہ ہونے کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ   غیر مقبوض مال کو فروخت کرنا بھی ایک مسئلہ ہے ، کیونکہ اس میں تاجر عام طور پر پہلے کسٹمر کو چیز بیچتا ہے اوراس سے معاملہ حتمی اور فائنل  کرنے کے بعدہول سیلر سے خریداری کا معاملہ کرکےکہتا ہے کہ آپ یہ مال فلاں جگہ رو انہ کر دیں، ہول سیلر اتنامال خریدار کی طرف روانہ کر دیتا ہے، مطلب یہ کہ اس میں چیز خریدنے سے پہلے آگے بیچی جاتی ہے، جبکہ وہ اس چیز کا ابھی مالک نہیں ہوتا، نیز اس سے خریدنے کے بعد بھی قبضہ کیے بغیر آگے روانہ کرتا ہے اوراحادیثِ مبارکہ میں ان دونوں قسم(غیرمملوک اور غیر مقبوض) کی خریدفروخت سے منع فرمایا گیا ہے، اس لیے ایسی خریدفروخت شرعاً باطل اور ناجائز ہے۔

سوال میں مذکور متوقع سافٹ  وئیر میں اگر ان دونوں مسئلوں کا حل ہو ،یعنی پہلے ہول سیلر سے خریدنے والااس کا مالک بھی بنے اور پھر خود یا اپنے وکیل کے ذریعے قبضہ بھی کرے ،اور اس کے بعد گاہک کو نئے معاملے کے ساتھ فروخت کرے،تو پھر یہ معاملہ درست ہوگا۔

ٍٍٍٍٍٍٍدرج ذیل صورتوں کے مطابق بھی اگر اس سافٹ وئیر کو  بنا یا جاسکتا ہوتوشرعاً درست ہوگا۔

پہلی صورت:اس سافٹ  وئیر میں سیلر(seller) کو صراحت کے ساتھ بیع کا وعدہ کرنے والا ظاہر کیا جائے، سیلر یہ

ظاہر کرتا ہوکہ یہ چیزمیرے پاس موجود نہیں ہے، میں کسی سے خرید کر آپ کو فروخت کروں گا۔ اس کے بعد سیلر چیز خرید کر پہلے خود اس پر قبضہ کرے یا کسی شخص جیسے مال پہنچانے والی گاڑی کے ڈرائیور کو مال پر قبضہ کرنے کا وکیل بنادے، قبضہ کرنے کے بعد وہ مال خریدار تک پہنچا دیا جائے، خریدار کے پاس مال پہنچنے کے بعد تعاطيا(سیلر کا قيمت پر اور خریدار کا چیز پر قبضہ کرنا) خرید وفروخت کا معاملہ مکمل ہو جائے گا۔لیکن اس میں بھی یہ بات یاد رہے کہ خریدار کے لئے بھی  چیز خریدنے کے بعدخود یا وکیل کے ذریعے قبضہ کر کے آگے بیچنا ضروری ہے، بغیر قبضہ کیے معاملہ درست نہ ہو گا۔

دوسری صورت: سیلر کو  خریدار اوراصل فروخت کنندہ یعنی کمپنی  کے درمیان کمیشن ایجنٹ ظاہر کیا جائے،اور پس پشت سیلر  کمپنی (جس سے سیلر مال خرید کر کسٹمر کو فروخت کرنا چاہتا ہے) کے ساتھ یہ طے کرے کہ میں آپ کے پاس گاہک لاؤں گا وہ جتنے کی خریداری کرے گا اس کا اتنے فیصدمیری اجرت ہوگی یا یوں بھی طے کر سکتا ہے کہ ایک کاٹن کی فروختگی پر اتنے روپے لوں گا وغیرہ۔

حوالہ جات

المعجم الأوسط (2/ 154، رقم الحديث: 1554) دار الحرمين، القاهرة:

حدثنا أحمد قال: نا عبد القدوس بن محمد الحبحابي قال: نا عمرو بن عاصم الكلابي قال: نا همام بن يحيى، عن عاصم الأحول، وابن جريج، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن سلف وبيع، وعن شرطين في بيع، وعن بيع ما لم يقبض، وربح ما لم يضمن.

السنن الكبرى للبيهقي (5/ 554،رقم الحديث: 10856) دار الكتب العلمية، بيروت:

أخبرنا أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي وأبو عبد الرحمن السلمي قالا: ثنا أبو العباس , أنا العباس بن الوليد بن مزيد , أخبرنا أبي , ثنا الأوزاعي , حدثني عمرو بن شعيب , عن أبيه , عن جده , أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أرسل عتاب بن أسيد إلى [ص:555] أهل مكة " أن أبلغهم عني أربع خصال أن لا يصلح شرطان في بيع , ولا بيع وسلف , ولا بيع ما لا يملك , ولا ربح ما لا يضمن ".

محمد اسماعیل بن اعظم خان

دا الافتا ء جامعہ الرشید ،کراچی

27/شعبان /6144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسماعیل بن اعظم خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب