| 87027 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
مرحوم کی بیوی ،7 بیٹے اور 8 بیٹیوں کے درمیان 20لاکھ نقدرقم جبکہ 200کنال زمین کیسے تقسیم کی جائے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے ان کے ذمہ جوقرضہ ہو،اس کی ادائیگی اور ایک تہائی میں ان کی جائز وصیت پوری کرنے کے بعد بقیہ مال درج ذیل طریقے سے تقسیم کردیا جائے گا:
کل ترکہ میں مرحوم کی بیوی کو12.5%،ہربیٹے کو7.955%جبکہ ہربیٹی کو3.977%حصہ ملےگا۔20لاکھ نقدرقم میں بیوی کو 2,50,000،ہربیٹے کو1,59,090جبکہ ہر بیٹی کو 79,545 روپے ملیں گے۔کل زمین اگر 200کنال ہےتو اس میں سے مرحوم کی بیوی کو25کنال،ہر بیٹے کو 15.91کنال جبکہ ہربیٹی کو7.95کنال زمین ملےگی۔ آسانی کےلیے نقشہ ملاحظہ فرمائیں۔
|
نمبرشمار |
ورثہ |
عددی حصے: 176 |
فی صدی حصہ |
کل نقدی رقم:20,00000 |
کل زمین : 200کنال |
|
1 |
بیوی |
22 |
12.5% |
2,50,000 |
25کنال |
|
2 |
بیٹا |
14 |
7.955% |
1,59,090 |
15.91کنال |
|
3 |
بیٹا |
14 |
7.955% |
1,59,090 |
15.91کنال |
|
4 |
بیٹا |
14 |
7.955% |
1,59,090 |
15.91کنال |
|
5 |
بیٹا |
14 |
7.955% |
1,59,090 |
15.91کنال |
|
6 |
بیٹا |
14 |
7.955% |
1,59,090 |
15.91کنال |
|
7 |
بیٹا |
14 |
7.955% |
1,59,090 |
15.91کنال |
|
8 |
بیٹا |
14 |
7.955% |
1,59,090 |
15.91کنال |
|
9 |
بیٹی |
7 |
3.977% |
79,545 |
7.95کنال |
|
10 |
بیٹی |
7 |
3.977% |
79,545 |
7.95کنال |
|
11 |
بیٹی |
7 |
3.977% |
79,545 |
7.95کنال |
|
12 |
بیٹی |
7 |
3.977% |
79,545 |
7.95کنال |
|
13 |
بیٹی |
7 |
3.977% |
79,545 |
7.95کنال |
|
14 |
بیٹی |
7 |
3.977% |
79,545 |
7.95کنال |
|
15 |
بیٹی |
7 |
3.977% |
79,545 |
7.95کنال |
|
16 |
بیٹی |
7 |
3.977% |
79,545 |
7.95کنال |
حوالہ جات
قال اللہ تبارک و تعالٰی: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ الخ﴾ (ألنساء:(11
ترجمہ: اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو حکم دیتا ہے کہ : مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔(آسان ترجمہ قرآن:(251/1
قال اللہ تبارک و تعالٰی:﴿ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ الخ﴾ (ألنساء:(12
ترجمہ: اور تم جو کچھ چھوڑ کر جاؤ اس کا ایک چوتھائی ان (بیویوں) کا ہے، بشرطیکہ تمہاری کوئی اولاد (زندہ) نہ ہو۔ اور اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو اس وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو تم نے کی ہو، اور تمہارے قرض کی ادائیگی کے بعد ان کو تمہارے ترکے کا آٹھواں حصہ ملے گا۔(آسان ترجمہ قران:(252/1
قال العلامۃ الحصکفي رحمہ اللہ :ثم شرع في العصبة بغيره فقال (ويصير عصبة بغيره البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن) وإن سفلوا.(الدرمع الرد:(775/6
جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
02/ رمضان المبارک1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


