| 87042 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
گزارش عرض ہے کہ عرصہ 3 سال پہلے میری شادی اقراء سے ہوئی تھی، مؤرخہ 2025-02-17 کو میں اپنی بیوی سے فون پر بات کر رہا تھا کہ اقراء نے کچھ اس طرح کی باتیں جس کی وجہ سے مجھے غصہ آگیا، اقراء سے ان کی بھابی نے موبائل فون لے لیا اور میں اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھا غصہ کی وجہ سے ، میرے زبان سے تین بار طلاق کے الفاظ نکل گئے جو کہ میری بیوی کے کانوں تک گئے۔ جناب اب میں اس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہوں اور وہ بھی میرے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہے اور اس وقت میری بیوی پیٹ سے ہے ،لیکن میرے لیے پہلے شرعی حکم ہے ،میں آپ جناب سے التماس کرتا ہوں کہ آپ میری رہنمائی فرمائیں تا کہ میں فیصلہ کر سکوں، میں آپ جناب کے لیے دعا گو رہوں گا جو بھی شرعی فیصلہ ہوگا مجھے فیصلہ قبول ہے۔
تنقیح: سائل نے زبانی بتایا کہ میں نے تین مرتبہ یہ الفاظ کہے تھے:" میں طلاق دیتا ہوں"۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسؤلہ میں چونکہ آپ نے "میں طلاق دیتا ہوں" کے الفاظ تین مرتبہ ادا کیے ہیں، اس لیے تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں حرمتِ مغلظہ ثابت ہو گئی ہے،اب نہ رجوع ممکن ہے اور نہ ہی تجدیدِ نکاح کی کوئی گنجائش ہے۔
وضعِ حمل کے بعد آپ کی بیوی کے لیے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا جائز ہوگا، پھراگر دوسرے شوہر سے طلاق ہو جاتی ہے یا وہ وفات پا جاتاہے، تو عدت گزارنے کے بعد شرعاً وہ دوبارہ آپ کے نکاح میں آ سکتی ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ العینی رحمہ اللہ:ومذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم،منهم: الأوزاعي والنخعي والثوري وأبو حنيفة وأصحابه ومالك وأصحابه ومالك وأصحابه والشافعي وأصحابه وأحمد وأصحابه، وإسحاق وأبو ثور وأبو عبيد وآخرون كثيرون، علی أن من طلق امرأته ثلاثا وقعن.
(عمدة القاري شرح صحيح البخاري:20/ 233)
وأما اللفظ المقرون بالتكرار فهو على أربعة أوجه ،أحدهما : أن يقول أنت طالق طالق طالق والثاني: أن يقول أنت طالق وطالق وطالق،والثالث: أن يقول أنت طالق ،أنت طالق ،أنت طالق،والرابع :أن يقول أنت طالق ثم طالق ثم طالق، فإن كانت المرأة مدخولاً بها في هذه الوجوه طلقت ثلاثا.
(النتف في الفتاوى للسغدي:1/ 340)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: (والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين) .
وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث. (رد المحتار ط الحلبي:3/ 233)
محمدشوکت
دارالافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
2/رمضان المبارک 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدشوکت بن محمدوہاب | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


