03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملازمت چھوڑنے کا مشورہ
87062متفرق مسائلمتفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ میں پنجاب تونسہ شریف کا رہنے والا ہوں،  فرنٹیئر کور بلوچستان ساؤتھ میں سپاہی جنرل ڈیوٹی کے طور پر 11سال سے اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہوں۔  میری تنخواہ 50 ہزار ہے ۔میرے 2 بچے ہیں۔یہاں 5 یا 6ماہ کے بعد چھٹی ملتی ہے ، گھر والے نالاں ہیں ۔میرا ارادہ فوج کی نوکری چھوڑ کر اپنا کوئی  کام کرنے کا ہے ۔ جس کی درج ذیل وجوہات ہیں:
1.    چھٹی 5 یا 6 ماہ بعد ملتی ہے ۔
2.    ہم لوگ بلوچستان کے ان علاقوں میں ہیں، جب پاکستان بنا   تب یہ آزاد ریاستیں تھیں ،بعد میں فوج نے قبضہ کیا ۔
3.    یہاں کے قانون ایسے ہیں کہ ڈیوٹی پر ہونے کی وجہ سے  6 مہینوں میں ایک نماز بھی با جماعت نہیں پڑھ سکتے ہیں اور  جمعہ کی نماز بھی نہیں پڑھ سکتے  ۔
4.    ہماری چوکییوں پر جتنے بھی حملے ہوتے ہیں،  90فیصد یقین ہے کہ ہمارے اپنے ہی کرواتے ہیں۔ میری سروس میں ہونےکی وجہ سے  واقعات کےثبوت بھی ہیں کہ فوج خود نیچے طبقے کے لوگوں کو مرواتی ہے ۔
5.    ہماری قیادت انگریز کے ہاتھ میں ہے ۔
میرا ارادہ ہے نوکری چھوڑ کر اپناکوئی کام کروں،  مگر پریشانی یہ ہے کوئی کام بھی نہیں جانتا ،لیکن محنت مزدوری یا چھوٹا موٹا کاروبار کر سکتا ہوں ۔ میرا یقین کامل ہے ، رزق دینے والی ذات اللہ پاک کی ہے۔ میرے اور میرے بچوں کا رزق مجھے مل کر رہے گا،  چاہے میں جس فیلڈ میں ہی کیوں نہ ہو ں۔ مجھے یہ نوکری چھوڑنی چاہیے یا نہیں؟  مشورہ طلب ہے!

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ملازمت  شرعاً لازم نہیں، اگر آپ کو اس میں ذہنی یا دلی  طور پر اطمینان نہیں مل رہا اور آپ کوئی اور جائز ذریعہ معاش اختیار کرنا چاہتے ہیں تو شریعت آپ کو اس کی اجازت دیتی ہے۔ تاہم نوکری چھوڑنے کےلیے مذکورہ وجوہات   کوبنیاد بنانا صحیح معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ: 
1.    چھٹی کا مسئلہ ہر ملازمت میں مختلف ہوتا ہے، بعض جگہوں پر چھٹی محدود ہوتی ہے، بیرون ملک جانے والے پاکستانی کئی کئی سال تک گھر سے دور رہتے ہیں۔ لہذا یہ کوئی غیر شرعی یا ظالمانہ چیز نہیں ، بلکہ ملازمت کے قواعد کا حصہ ہے۔ اگر گھر والے نالاں ہیں تو بہتر ہوگا کہ تبادلے یا کسی اور ممکنہ سہولت کی کوشش کریں۔
2.    آپ اس کے مکلف ہیں کہ  آج کے ملکی قوانین اور نظام کے تحت آپ کی ذمہ داری کیا ہے، نہ کہ ماضی میں کیا ہوا تھا۔ آپ کی ملازمت ایک باضابطہ ریاستی ادارے کے تحت ہے اور ملکی قوانین کے مطابق آپ پر لازم ہے کہ آپ اپنے حالیہ فرائض پر توجہ دیں۔ 
3.    سیکورٹی اہلکاروں پر جماعت اور جمعہ فرض نہیں، انہیں ڈیوٹی پر رہنے کی وجہ سے جماعت اور جمعہ کا ثواب مل جاتا ہے۔ 
4.    حملوں کے حوالے سے خدشات افواہوں کا نتیجہ معلوم ہوتے   ہیں۔ کسی بھی ادارے میں کمزوریاں ہو سکتی ہیں، لیکن بغیر مکمل تحقیق اور شرعی ثبوت کے سنگین الزامات عائد کرنا مناسب نہیں۔ اگر آپ کے پاس اس حوالے سے مضبوط شواہد ہیں تو آپ متعلقہ قانونی ذرائع سے رجوع کریں۔
5.    اسی طرح فوج کی قیادت کے حوالے سے یہ کہنا کہ انگریز کے ہاتھ میں ہے، یہ واضح طور پر ایک غلط  دعویٰ ہے  ۔ ہماری معلومات کی حد تک فوج سمیت  ملکی ادارے پاکستان کے قوانین کے مطابق کام کرتے ہیں ۔کوئی بھی ادارہ انگریزوں یا کسی بھی غیر ملکی طاقت کے  زیر اثر نہیں ہے۔
لہٰذا  اگر آپ واقعی فوج کی ملازمت  چھوڑ کر کوئی اور حلال ذریعہ معاش اختیار کرنا چاہتے ہیں اور آپ کا یقین ہے کہ اللہ آپ کو اس میں برکت عطا فرمائے گا  تو آپ استخارہ اور تجربہ کار افراد سے مشورہ کریں ، اللہ تعالیٰ آپ کے لیے بہتری اور آسانی کے دروازے کھولے اور آپ کو رزقِ حلال کے بہترین ذرائع عطا فرمائے۔ آمین۔

حوالہ جات

واجد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
03/رمضان1446ھ
 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

واجد علی بن عنایت اللہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب