03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وراثت میں سے بہنوں کو حصہ دینے کا طریقہ
87063میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ  کے بارے میں کہ  ایک شخص کا انتقال ہوا۔ اس کے ورثاء میں4 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں ۔ چاروں بھائیوں نے والد کی مکمل جائیداد آپس میں تقسیم کرلی اور بہنوں کو کوئی حصہ نہیں دیا۔کچھ سال گزرنے کے بعد ایک بھائی کو احساس ہوا اور وہ اب اپنی بہنوں کو اپنے اس مال میں سے  جو اس کو وراثت میں ملا تھا ، حصہ دینا چاہتا ہے ، دیگر بھائی نہیں دے رہے۔ اب اس کا کیا طریقہ کار ہوگا ؟ کیا  وہ اپنا مکمل شرعی حصہ جو اس کا بنتا ہے ، وہ ہ رکھ کر بقیہ اپنی بہنوں میں برابر تقسیم کردے یا کوئی اور طریقہ کار ہوگا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئلہ میں تمام بیٹوں کےلیے ضروری ہے کہ وہ میت کی وراثت میں سے اپنا حصہ رکھ کر اپنی بہنوں کا مکمل شرعی حصہ دینا چاہتا ہے تو وہ اپنا حصہ رکھ کر بہنوں  کا حصہ ان کے حوالے کر دے اور  اس کو چاہیے کہ وہ اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی سلیقے سے  قائل کرنے  کی کوشش کرے، یا پھر قانونی  دباؤ ڈال کر اپنی بہنوں کو ان کا حصہ دلانے کی جستجو کرے۔

 

حوالہ جات

﴿يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ﴾ [النساء: 11]

واجد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
03/رمضان1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

واجد علی بن عنایت اللہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب