| 86952 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
السلام علیکم! عرض ہے کہ مجھے وراثت کی تقسیم کے معاملے میں آپ کی رہنمائی درکار ہے۔ میرے تایا کے آٹھ بچے تھے ۔ چھ بیٹے اور دو بیٹیاں ۔ایک بیٹے کا تایا کی وفات کے بعد انتقال ہو گیا تھا ۔ ان کی بیوہ اور دو بیٹیاں ہیں۔ تایاکی ملکیت میں ایک مکان ہے جسے ان کی وفات کے بعد تقسیم نہیں کیا گیا ،اور سب بیٹے اس میں مقیم ہیں۔ اس دوران چھوٹے بیٹے نے اپنی بیوی کے کہنے پر علیحدگی اختیار کرلی ،اور مکان میں اپنے حصے کا مطالبہ کر دیا ۔چوں کہ اس وقت مکان میں سب بھائی مقیم تھے ،لہذا اس بھائی کو حصہ دینے کے لئے مکان کی قیمت لگوائی گئی، جو اس وقت پچیس لاکھ روپے تھی ۔تین بھائیوں نے اس بھائی کو اس کے حصے کی رقم اپنے پاس سے ادا کر دی ۔اور خود مکان میں رہتے رہے۔ علیحدہ ہونے والے بھائی نے حلف نامہ لکھ کر دیا کہ اب اس مکان پر اس کا کوئی دعوی نہیں ہوگا ۔ مسئلہ حل طلب یہ ہے کہ :
اب یہ مکان ساٹھ لاکھ میں فروخت کیا گیا ہے تو :
1: جو بھائی پہلے حصہ لے چکا ہے کیا اب اسے مکان کی موجودہ قیمت کے مطابق حصہ دیا جائے گا یا نہیں؟
2: اگر اس بھائی کا حصہ نہیں بنتا تو جن تین بھائیوں نے اس وقت اس علیحدہ ہونے والے بھائی کو رقم ادا کی ،انہیں ان کی رقم واپس کی جائے گی ؟
یہ بھی واضح کر دیں کہ اس وقت مکان پچیس لاکھ کا تھا ،تو اس بھائی کو ڈھائی لاکھ حصہ ادا ہوا ۔اب مکان ساٹھ لاکھ کا ہے اور فی حصہ ساڑھے آٹھ لاکھ ہے تو اب تین بھائیوں کو اصل رقم ڈھائی لاکھ واپس ملے گی یا موجودہ حصہ ساڑھے آٹھ لاکھ روپے ان میں تقسیم ہوں گے؟
3: جس بھائی کا والد کے بعد انتقال ہوا، اس کا حصہ اس کی بچیوں کو ملے گا یا نہیں ، کیا ان یتیم بچیوں کو وہی حصہ ملے گا جو باقی بھائیوں کو مل رہاہے؟
4: دو بہنیں شادی شدہ ہیں اور غیر تعلیم یافتہ ہیں، ذہنی اعتبار سے اتنی ہو شیار نہیں، ان کے شوہر چاہتے ہیں کہ ان کے حصے کی رقم انھیں دے دی جائے تاکہ وہ اسے اپنے اپنے کاروبار میں لگا سکیں۔ کیا ان کی رقم ان کے شوہر کو دی جا سکتی ہے ؟
5: اگر شوہر کو نہیں دی جاسکتی تو پھر اس رقم کا نگراں کسے بنایا جائے جو ان بچیوں کی صلاح و بہبود پر یہ رقم لگا سکے ؟
برائے مہربانی اس اہم مسئلے کا حل اصول شریعت کی روشنی میں تجویز فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جس بھائی نے آپ کے تایا کے انتقال کے بعد اپنے حصے کا مطالبہ کیا ،اور اس وقت بقول آپ کے مکان کی مالیت پچیس لاکھ لگی ،تو جن تین بھائیوں نے مطالبہ کرنے والے بھائی کو کل 2,67,857 روپے ادا کیے ،حالانکہ اس وقت پچیس لاکھ میں مطالبہ کرنے والے بھائی کا حصہ 3,57,142 روپے بنتا تھا۔لہذا جن تین بھائیوں نے مذکورہ رقم ادا کی ہے، ان کے ذمے بقایا رقم 89,285 روپے مزید دینا ضروری ہے۔ اور دستبردا ر ہونے والے بھائی کی جو پچھلی رقم رہ گئی ہے یعنی 89,285 روپے اس کے علاوہ مکان بکنے کی صورت میں مزید کوئی حصہ نہیں ملے گا۔البتہ جس بھائی کا انتقال ہوا ہے ان کے ورثہ میں یہ بھائی بھی شامل ہے ان کی طرف سے اس کو حصہ ملے گا۔
باقی جن تین بھائیوں نے مطالبہ کرنے والے بھائی کو اس کا حصہ اپنے پاس سے دیا تھا تو گویا انہوں نے اس بھائی کاحصہ خرید لیا،اب اس بھائی کا حصہ ان تین بھائیوں میں تقسیم ہوگا۔
باقی جس بھائی کا انتقال ہوگیا ہے ان کے بیوی اور بچیوں کو ان ہی (بھائی ) کے حصے میں سے ملے گا ۔یعنی مرحوم بھائی کی بیوی کو آٹھواں حصہ اور بیٹیوں کو دو تہائی ملے گا،اور جو باقی بچ جائے گا وہ مرحوم کے پانچ بھائیوں اور دو بہنوں میں تقسیم ہوگا۔یہ بات واضح رہے کہ مرحوم بھائی بھی اس وقت مطالبہ کرنے والے بھائی کا حصہ خریدنے میں شریک تھا۔
جہاں تک بہنوں کو ان کا حصہ ملنے کا تعلق ہے،تو اگر چہ سادگی کی وجہ سے دنیاوی معاملات سے بے خبر ہیں،پھر بھی ان کا حصہ ان ہی کے حوالہ کیا جائے گا۔
اب میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ اگر مرحوم کے انتقال کے وقت ورثہ کی تعداد یہی ہو جو سوال میں مذکور ہے تو کل مال کے 2016 حصے کیے جا ئیں ،جس میں مرحوم کے تینوں بیٹوں (جنہوں نے مطالبہ کرنے والے بھائی کو قیمت ادا کی تھی) میں سے دو بیٹوں کو( جو زندہ ہیں) الگ الگ 386.98632 حصے ملیں گے،جن میں سے ہر ایک کے حصوں کی مالیت 11,51,745 روپے بنتی ہے۔اور مرحوم کے تیسرے اور چوتھے بیٹے کو الگ الگ 300.98632 حصے ملیں گے،جن کی مالیت 8,95,788 روپے بنتی ہے۔اور پانچویں بیٹے کو (جس نے اپنے حصے کا مطالبہ کیا تھا)42.98632 حصے ملیں گے،جس کی مالیت 1,27,935 روپے بنتی ہے۔اور مرحوم کی دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 150.49316 حصے ملیں گے،جن میں سے ہر ایک بیٹی کے حصے کی مالیت 4,47,896 روپے بنتی ہے۔ اور مرحوم کے مرحوم بیٹے کی بیوی کو 46.75 حصے ملیں گے ،جن کی مالیت 1,39,136 روپے بنتی ہے۔اور مرحوم بیٹے کی دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 124.666 حصے ملیں گے ،جن میں سے ہر بیٹی کے حصے کی مالیت 3,71,029 روپے بنتی ہے۔
آسانی کے لیے ترتیب وارنقشہ ملاحظہ فرمائیں۔
|
ورثہ کی تفصیل |
فیصد:100% |
کل حصص:2016 |
مکان کی مالیت:60,00000 |
|
پہلا بیٹا |
19.19575% |
386.98632 |
11,51,745 |
|
دوسرا بیٹا |
19.19575% |
386.98632 |
11,51,745 |
|
تیسرا بیٹا |
14.9298% |
300.98632 |
8,95,788 |
|
چوتھا بیٹا |
14.9298% |
300.98632 |
8,95,788 |
|
پانچواں بیٹا |
2.13225% |
42.98632 |
1,27,935 |
|
پہلی بیٹی |
7.464938% |
150.49316 |
4,47,896 |
|
دوسری بیٹی |
7.464938% |
150.49316 |
4,47,896 |
|
مرحوم بیٹے کی بیوی |
2.318948% |
46.75 |
1,39,136 |
|
مرحوم بیٹے کی بیٹی |
6.183829% |
124.666 |
3,71,029 |
|
مرحوم بیٹے کی بیٹی |
6.183829% |
124.666 |
3,71,029 |
حوالہ جات
قال الله تبارك وتعالى :{يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين فإن كن نساء فوق اثنتين فلهن ثلثا ما ترك {.(النساء :11)
قال في الهندية :فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن .... وعصبة بغيره وهي كل أنثى تصير عصبة بذكر يوازيها وهي أربعة:.... والأخت لأب وأم بأخيها .(الفتاوى الهندية:451/6)
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله:الشركة إذا كانت بينهما من الابتداء، بأن اشتريا حنطة أو ورثاها.
كانت كل حبة مشتركة بينهما فبيع كل منهما نصيبه شائعا جائز من الشريك والأجنبي.
(رد المحتار :300/4)
محمد فیاض بن عطاءالرحمن
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
یکم رمضان المبارک ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد فیاض بن عطاءالرحمن | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


