03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حلالہ کا حکم
87061نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام  اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا تعلق اہل سنت والجماعت سے ہے ۔میں نے اپنی بیوی کو غصے میں تین طلاقیں اکٹھی دے دی تھیں ۔ عدت مکمل گزارنے کے بعد میری سابقہ بیوی نے اپنی مرضی سے میرے بڑے بھائی سے نکاح کر لیا تھا ۔ میرے بھائی نے بھی اپنی مرضی سے ہی اس سے نکاح کیا۔ دو ماہ ہوگئے ہیں ابھی تک وہ بھائی کے نکاح میں ہی ہے ۔ بھائی کو بھی پتہ ہے کہ میں نے اس سے اسی لیے  نکاح کیا ہے تاکہ یہ جب میں اسے طلاق دوں گا تو چھوٹا بھائی پھر اس سے نکاح کرلے گا ، لیکن نکاح کے وقت کسی قسم کی کوئی  بھی شرط یا ایگریمنٹ نہیں کیا گیا ۔نکاح مسجد میں ہوا،  دو مسلمان بالغ مرد گواہ تھے ،ایجاب و قبول ہوا،  حق مہر بھی اسی وقت ادا کیا گیااور  خطبہ بھی ہوا ۔ میں اس نکاح میں موجود نہیں تھا۔ لیکن بھائی کو پتہ تھا کہ میں نے نکاح کے بعد ہم بستری کر کے طلاق دینی ہے ، مگر اس پر کوئی دباؤ نہیں تھا،   جو کچھ بھی ہوا دونوں کی مرضی سے ہوا یعنی میری سابقہ بیوی اور میرے بھائی کی اپنی رضامندی سے ہوا ۔ 
میں نے پو چھنا یہ تھا کہ ہم سب ایک ہی گھر میں رہتے ہیں اور ہم ایک دفعہ گھر میں بالکل اکیلے تھے تو میری سابقہ بیوی مجھے منانے میرے پاس آئی کہ آپ مجھ سے نکاح کر یں ، میں اُن سے طلاق لے کر  عدت مکمل گزار کے آپ کے پاس واپس آنا چاہتی ہوں ۔وہ مجھے منانے لگی اور اِسی دوران ہم دونوں خود پر کنٹرول نہیں کر پائے اور ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ ملاپ کر لیا اور ہم پر غسل واجب ہو گیا۔ اِس بات کا کسی کو علم نہیں ۔ ابھی تک وہ بھائی کے نکاح میں ہی ہے۔ہم بہت ہی شرمندہ اور نادم ہیں اور اللہ پاک سے توبہ استغفار بھی کر رہے ہیں ۔ ہم اب ایک دوسرے کے ساتھ نکاح کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا ہم نکاح کر سکتے ہیں؟ کیو نکہ ہم سے یہ گناہ بھی ہو چکا ہے ۔حلالہ ہوا ہے یا نہیں ؟ مہربانی فرما کر رہنمائی کریں۔جزاك اللهُ !

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر اس سے دوبارہ نکاح کرنے کے لیے اس کا نکاح  کسی دوسرے شخص سے اس شرط پر کرائے کہ وہ نکاح کے بعد اسے طلاق دے گا، ایسا کرنا مکروہ تحریمی (ناجائز) ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا کرنے والے اور جو شخص ایسا کروا رہا ہے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
البتہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے اور وہ کسی دوسری جگہ طلاق دینے کی شرط کے بغیر نکاح کرے، نکاح کے بعد دوسرا شوہر حقوقِ زوجیت ادا کرے اور اس کے بعد اس کے شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ نباہ نہ ہونے یا کسی اور وجہ سے  اسے طلاق دےدے تو عدت گزارنے کے بعد وہ بیوی پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگی۔اگردوسرے  شوہر کے دل میں شروع سے نیت ہو کہ میں طلاق دے دوں گاتاکہ ان کا گھر بس جائےتو وہ اس پر ماجور ہوگا۔
لہذا صورت مسئولہ میں آپ یا آپ کی سابقہ بیوی بلاوجہ طلاق کا مطالبہ تو نہ کریں، لیکن اگر  آپ کابھائی  فوت ہو جائے یا کسی وجہ  سے اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو عدت گزارنے کے بعد آپ اپنی سابقہ بیوی سے دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔چونکہ اس وقت وہ آپ کی بیوی نہیں ہے، اس لیے اس سے کسی بھی قسم کا تعلق قائم رکھنا جائز نہیں۔ آپ نے جو اپنی سابقہ بیوی سے جسمانی تعلق قائم کیا، اس پر توبہ و استغفار کریں اور آئندہ میل جول اور ایسی حرکت سے پرہیز کریں، کیونکہ یہ گناہ کبیرہ ہے۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى : (وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث لعن المحلل والمحلل له. (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللك  (وإن حلت للأول) لصحة النكاح وبطلان الشرط فلا يجبر على الطلاق. (رد المحتار : 415/3 )

واجد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
02/رمضان1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

واجد علی بن عنایت اللہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب