| 87011 | خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
ہمارے پاس موبائل ایسسیریز (چارجر، کیبلز، سپیکرز، پاور بینک اور دیگر چیزیں وغیرہ) کمپنیز کی ڈیلر شپ ہے۔کمپنی ہمیں اپنا مال پہچاتی ہے، پھر ہم خود یا اپنے سیلز مین کے ذریعہ علاقے میں جتنی بھی دکانیں ہوتی ہیں سب کو مال پہچاتے ہیں ،اکثر دکانوں میں مال ادھار پرجاتا ہے جس کی قیمت وہ روزانہ یا ہفتہ کی بنیاد پر اداء کرتے ہیں۔ اگر کسی چیز میں کوئی خرابی ہو تو اسے ہم ہی کمپنی سے ٹھیک کروا کر دیتے ہیں ۔ اگر ہم نے کسی دکان دار کو کوئی چیز دی اور وہ اس کے پاس نہ چلی اور اس نے واپس بجھوادی تو ہم اس چیز کو کس قیمت پر واپس کریں؟ موجودہ قیمت پر یا جس پر ہم نے بیچی تھی، کمپنی اور ہماری طرف سے دکانداروں کو یہ ریلیف ہوتا ہے کہ کوئی چیز نہ چلے تو آپ واپس کردیں، بس پنی نہ کھلے، پیس پیک ہو۔
اب اس میں اکثر رقم ہماری ہوتی ہے اور کچھ مال کمپنی ادھار دیتی ہے، جس کی رقم مہینے تک ادا کرنی ہوتی ہے،اس کے بعد نئے مال کا آرڈر آتا ہے۔ ڈیلر کمپنی سے مال لے کر آگے کسی دوسرے(سپلائر) کو نفع پر مال دیتا ہے کہ اس مال کو بیچو ،جو نفع حاصل ہو وہ 70/30 فیصد کے حساب آپس میں تقسیم کریں گے۔کمپنی نے اپنی سیل بڑھانے کا کہا ہے 15 لاکھ تک اور یہ لازمی کرنا ہے، ورنہ کمپنی کے ساتھ ہمارا جو فیصدی تناسب ہے نفع کا وہ کٹ جائے گا۔ کمپنی کا ایک اور ضابطہ یہ ہے کہ اگر آپ 15 لاکھ کی سیل کریں تو اس پر آپ کو اضافی 15000 ملیں گے۔ اب اس میں ساری محنت دوسرے بندے کی ہے جس کے ذمہ کام ہے۔کیا یہ حصہ بھی انویسٹر (ڈیلر )اور کام کرنے والے(سپلائر)کے درمیان تقسیم ہوگا یا نہیں ؟
سوال کی تنقیح : سائل سے رابطہ کرکے معلوم ہوا کہ 15000 ہزار یا 15 فیصد یا دس فیصد، یہ کمپنی اور ڈیلر کے درمیان الگ سے معاہدہ ہوتا ہے کہ اس علاقے میں اگر کمپنی کا اتنا مال بکے تو اس پر ڈیلرکو پندرہ فیصد یا پندرہ ہزار اضافی نفع ملے گا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جو مال نہ چلے اس کی واپسی اگر کمپنی اور ڈیلر کی رضامندی سےہے تو یہ شرعا اقالہ ہے ، لہذا مال جس قیمت پر دیا ہے اسی پر واپس لینا ضروری ہے ۔جہاں تک دوسری بات کا تعلق ہے کہ کمپنی کے لئے مخصوص مقدار میں مال فروخت کرنے کی صورت میں اضافی رقم ملتی ہے تو اس کی حیثیت انعام کی ہے، لہذا معاہدہ کہ مطابق یہ اضافی نفع ڈیلر کا ہوگا، اس میں سپلائر کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ اس کے برعکس اگرکمپنی کی طرف سے معاہدہ میں سپلائر کو حصہ دینا لازمی ہے تو اس صورت میں کمپنی کی شرائط پر عمل کرنا ضروری ہے۔
حوالہ جات
«الهداية في شرح بداية المبتدي» (3/ 55):
«"الإقالة جائزة في البيع بمثل الثمن الأول" لقوله عليه الصلاة والسلام: "من أقال نادما بيعته أقال الله عثرته يوم القيامة" ولأن العقد حقهما فيملكان رفعه دفعا لحاجتهما "فإن شرطا أكثر منه أو أقل فالشرط باطل ويرد مثل الثمن الأول".»
«العناية شرح الهداية - بهامش فتح القدير ط الحلبي» (6/ 486):
(الإقالة جائزة في البيع بمثل الثمن الأول) لقوله عليه الصلاة والسلام «من أقال نادما بيعته أقال الله عثرته يوم القيامة»؛ ولأن العقد حقهما فيملكان رفعه دفعا لحاجتهما (فإن شرطا أكثر منه أو أقل فالشرط باطل
زاہد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
23/شعبان 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زاہد خان بن نظام الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


