03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میزان بینک سے گاڑی کرایہ پر لینا
87004اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

مجھے میزان بینک سے کار اجارہ کا معلوم کرنا تھا ۔ کیااس طرح  گاڑی    لینا ٹھیک ہیں ، اس میں سود تو نہیں ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میزان بینک مستند علماء کی نگرانی میں کام کر رہا ہے، لہذا   ان کی پروڈکٹ   خریدنا جائز ہے ۔ ان کی مختلف فائناسینگ پروڈکٹ ہیں ،اس  میں ایک پروڈکٹ میزان کار اجارہ بھی ہے۔ میزان بینک  مخصوص مدت کے لئے گاڑی خرید کر اجارہ پر دیتی ہے ، مدت ختم ہونے  پر گاڑی کلائنٹ کو گفٹ کردی جاتی ہے۔

حوالہ جات

میزان بینک کی ویب سائٹ سے ماخوذ معلومات:

https://www.meezanbank.com/ur-car-ijarah/

میزان کار اجارہ کیا ہے؟

کار اجارہ میزان بینک کی کار فنانسنگ پروڈکٹ ہے اور یہ پاکستان کی پہلی بلاسود کار فنانسنگ ہے۔ یہ اجارہ (لیزنگ) کے اسلامی فنانسنگ طریقے پر مبنی ہے۔ یہ پروڈکٹ ان افراد کے لیے مثالی ہے جو مقامی طور پر تیار/اسمبل شدہ گاڑیوں کے حصول کے لیے سود سے پاک فنانسنگ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

کار اجارہ کار کرایہ پر لینے کے معاہدے کے ذریعے کام کرتا ہے، جس کے تحت بینک کار خریدتا ہے اور اسے ایک سے پانچ سال کی مدت کے لیے صارف کو کرایہ پر دیتا ہے، جس پر معاہدہ کے وقت اتفاق کیا گیا تھا۔ اجارہ کی مدت پوری ہونے پر، گاڑی ٹوکن رقم پر فروخت کی جائے گی یا صارف کو تحفے میں دی جائے گی۔

 زاہد خان

دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

02/رمضان 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زاہد خان بن نظام الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب